resize-left-dar mid-dar right-dar
✨ Ask AI

عنوان: کسی اسلامی بینک میں سیونگ اکاؤنٹ (Saving Account) کھولنے کا حکم

(67257-No)

سوال: السلام علیکم! میں اسلامی بینکاری کے حوالے سے کافی پریشان اور الجھن کا شکار ہوں۔ میں میزان بینک میں اسلامی سیونگ اکاؤنٹ کھلوانا چاہتا ہوں، لیکن علمائے کرام کے درمیان اختلاف کی وجہ سے سمجھ نہیں آ رہا کہ کیا کروں، بعض علماء اسے جائز کہتے ہیں، جبکہ بعض اسے ناجائز قرار دیتے ہیں۔
میں اپنے خاندان کے ساتھ اعلیٰ تعلیم کے لیے بیرونِ ملک جا رہا ہوں اور پاکستان میں اپنے کاروبار اور دیگر معاملات سمیٹ رہا ہوں، بیرونِ ملک جانے کے لیے مجھے اپنی بڑی رقم بینکنگ چینل کے ذریعے منتقل کرنی ہوگی، کیونکہ وہاں رقم کے ذرائع اور منتقلی کا باقاعدہ ریکارڈ (Documented Money Trail) ضروری ہوتا ہے۔
یہ رقم تقریباً چار سال تک میرے پاس رہے گی اور میں اسی میں سے اپنے خاندان کے اخراجات بھی پورے کروں گا، بیرونِ ملک خاندان کے اخراجات کافی زیادہ ہیں اور فی الحال میری کوئی دوسری مستقل آمدنی نہیں ہوگی۔ اگر میں یہ رقم کرنٹ اکاؤنٹ میں رکھتا ہوں تو کوئی منافع نہیں ملے گا، لیکن سیونگ اکاؤنٹ میں رکھنے سے حاصل ہونے والا منافع میرے اور میرے خاندان کے اخراجات پورے کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا میزان بینک میں اسلامی سیونگ اکاؤنٹ کھلوانا اور اس سے منافع حاصل کرنا شرعاً جائز ہے؟ نیز مستند علمائے کرام کے اختلاف کی صورت میں کسی معتبر مفتی کے فتویٰ پر عمل کرنے کی صورت میں اگر بعد میں اس کا ناجائز ہونا ثابت ہو جائے تو کیا اس کی ذمہ داری مجھ پر ہوگی، یعنی کیا میں گناہ گار ہوں گا؟

جواب: واضح رہے کہ مروّجہ سودی بینکاری کے متبادل کے طور پر مستند علماء کرام نے شرعی کے اصولوں کے مطابق غیر سودی بینکاری کا نظام تجویز کیا ہے، اور ہماری معلومات کے مطابق میزان بینک فی الحال مستند علماء کرام کی زیرِ نگرانی شرعی اصولوں کے مطابق کام کررہا ہے، لہذا جب تک وہ شرعی اصولوں کے مطابق اپنے معاملات سر انجام دے رہا ہو، ان کے پاس سیونگ اکاؤنٹ (جو کہ عموماً مضاربت کے معاہدہ کے تحت ہوتا ہے) کھلوانا اور منافع حاصل کرنا شرعاً درست ہے۔
نیز اہل علم کے درمیان علمی اختلاف کی صورت میں ایک عام مسلمان کو چاہیے کہ جن علماء کرام کی علم و تقویٰ پر زیادہ اعتماد ہو، ان کی رائے پر عمل کرے، اس طرح کرنے سے وہ عند اللہ (اللہ رب العزت کے ہاں) بری الذمة ہوجائے گا، ان شاء اللہ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القرآن الکریم: (البقرۃ، الآیة: 275)
وَ اَحَلَّ اللّٰہُ الۡبَیۡعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰوا...الخ

اعلاء السنن: (566/14، ط: دار الکتب العلمیة)
"عن علي رضي اﷲ عنه مرفوعا کل قرض جر منفعة فہو ربا. وقال الموفق: کل قرض شرط فیه الزیادة فهو حرام بلا خلاف

واللہ تعالٰی أعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Loan, Interest, Gambling & Insurance