resize-left-dar mid-dar right-dar
✨ Ask AI

عنوان: کسی کی امانت کی رقم اپنے اسلامی بینک کے سیونگ اکاؤنٹ (Saving Account) میں رکھ کر منافع حاصل کرنا

(67260-No)

سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! حضرت! مسئلہ یہ پوچھنا تھا کہ میرا میزان بینک میں ایک سیونگ اکاؤنٹ ہے، جسے میں گزشتہ 10 سے 12 سال سے استعمال کر رہا ہوں۔ اس میں ہر ماہ موجودہ رقم کے حساب سے منافع آتا ہے، جس وقت اکاؤنٹ کھولا تھا، اس وقت میری تنخواہ اس میں جمع ہوتی تھی، گزشتہ چند سال سے میں شراکت داری پر کاروبار کر رہا ہوں اور ہماری سرمایہ کاری کا ایک مخصوص حصہ میرے اسی سیونگ اکاؤنٹ میں رہتا ہے، اب میرے دو سوال ہیں:
1) میرے اس سیونگ اکاؤنٹ میں اگر کسی دوست، بھائی یا کسی بھی رشتہ دار کی کچھ رقم امانت کے طور پر رکھی رہتی ہے تو کیا اس منافع میں ان کا حصہ دینا ہوگا؟
2) میری سرمایہ کاری کی جو رقم میرے اکاؤنٹ میں رہتی ہے، اگر اسے ایک ماہ سے زیادہ عرصہ گزر جائے اور میزان بینک کی طرف سے منافع جمع ہو تو کیا اس منافع کی رقم اپنے کاروبار میں طے شدہ منافع کے تناسب سے اپنے شریک کو بھی دینا ہوگی؟
غرض یہ کہ اگر ان سوالات کا جواب اثبات میں ہو تو ساتھ یہ بھی بتا دیں کہ گزشتہ اتنے عرصے سے اکاؤنٹ میں جو منافع آتا رہا ہے، وہ میں نے بغیر کسی حساب کتاب کے ذاتی استعمال میں خرچ کیا ہے، اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ جزاکم اللہ خیراً

جواب: واضح رہے کہ امانت کے طور پر رکھی گئی چیز مالک کی اجازت کے بغیر استعمال کرنا جائز نہیں ہوتا، اگر استعمال کرلی گئی تو اس کی حیثیت امانت کی بجائے قرض کی بن جائے گی، جسے ہر حال میں واپس کرنا شرعاً لازم ہوتا ہے۔
1-2) پوچھی گئی صورت میں اگر آپ نے دوست، رشتہ دار یا کاروبار کے شرکاء (Partners) سے رقم لیتے وقت اسے ذاتی اکاؤنٹ میں رکھنے کی اجازت لی ہو، یا اس بات کا انہیں علم تھا کہ آپ یہ رقم بینک کے ذاتی اکاؤنٹ میں رکھیں گے، اس کے باوجود انہوں نے منع نہیں کیا، یا ایسی امانت کی رقم کو بینک اکاؤنٹ میں رکھنے کا عرف ہو تو ان تمام صورتوں میں آپ کے لیے ان پیسوں کو بینک اکاؤنٹ میں رکھنا اور اس پر منافع حاصل کرنا شرعاً درست ہے، بشرطیکہ وہ بینک مستند علماء کرام کی زیرِ نگرانی شرعی اصولوں کے مطابق اپنے معاملات سر انجام دیتا ہو۔
ایسی صورت میں آپ کے پاس اس رقم کی حیثیت امانت کی بجائے قرض کی ہوجائے گی، اور مالکان کو اصل رقم واپس کرنا شرعاً ضروری ہوگا، اور اسلامی بینک کے سیونگ اکاؤنٹ (جو کہ عموماً مضاربت کے شرعی اصولوں پر مبنی ہوتا ہے) سے حاصل ہونے والا منافع آپ کے لیے حلال ہوگا، اصل مالکان کو ان منافع میں سے حصہ دینا آپ پر شرعاً لازم نہیں ہوگا۔
البتہ اگر رقم دینے والا صراحتاً اس رقم کے آگے استعمال کرنے سے منع کردے تو ایسی صورت میں اس رقم کو کسی استعمال میں لانا یا منافع حاصل کرنا جائز نہیں ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

الفتاوى الهندية: (338/4، ط: ماجدیة)
وأما حكمها فوجوب الحفظ على المودع وصيرورة المال أمانة في يده ووجوب أدائه عند طلب مالكه ، كذا في الشمني. الوديعة لا تودع ولا تعار ولا تؤاجر ولا ترهن ، وإن فعل شيئا منها ضمن الخ

بدایة المجتهد فی نهایة المقتصد: (234/2)
واختلفوا من هذا الباب فى فرع مشهور، وهو فيمن أودع مالا فتعدى فيه واتجر به فربح فيه، هل ذلك الربح حلال له أم لا؟ فقال مالك والليث وأبو يوسف وجماعة: اذا رد المال طاب له الربح وان كان غاصبا للمال فضلا عن أن يكون مستودعا عنده، وقال أبوحنيفة وزفر ومحمد بن الحسن: يؤدى الأصل ويتصدق بالربح.

مجلة الأحكام العدلية: (220/2، ط: دار الكتب العلمية)
(المادة: 772) الإذن دلالة كالإذن صراحة. بيد أنه عند وجود النهي صراحة لا اعتبار بالإذن دلالة.

و فيه أيضاً: (222/2)
(المادة 779) فعل ما لا يرضاه صاحب الوديعة في حق الوديعة تعد

كذا فی فتاوی جامعة الرشيد كراتشى: رقم الفتوی: (61877)

واللہ تعالٰی أعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Loan, Interest, Gambling & Insurance