سوال:
میں پاکستان سے باہر رہتا ہوں۔ یہاں ہماری بجلی کی کمپنی ہر سال اپنے صارفین کو منافع کا ایک حصہ تقسیم کرتی ہے، جسے وہ ڈیویڈنڈ (Dividend) کہتے ہیں۔ اس کے لیے آپ کو درخواست دینے کی ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ وہ خود بخود آپ کے بینک اکاؤنٹ میں جمع کر دیتے ہیں۔
میرے دو سوال ہیں:
1) کیا بجلی کی کمپنی سے یہ رقم لینا جائز ہے؟
2) میں اس گھر میں جولائی میں منتقل ہوا ہوں، اور یہ منافع ان تمام لوگوں کے لیے ہے جو 12 اگست سے پہلے وہاں آ چکے تھے۔ تو کیا میرے لیے یہ رقم لینا جائز ہے؟
مزید وضاحت کے لیے میں ان کی ای میل کا متن نقل کر رہا ہوں:
ہیلو دوستو! ہمیں خوشی ہے کہ ہم نے 2026 کا اینٹرسٹ ڈیویڈنڈ (Entrust Dividend) ادا کر دیا ہے، جس کی رقم xx ڈالر ہے۔ اس سال ہم نے 374,000 گھروں اور کاروباری اداروں کو مجموعی طور پر xx ملین ڈالر ادا کیے ہیں۔ یہ واقعی خوشی کی بات ہے!
ڈیویڈنڈ کسے ملتا ہے؟ ڈیویڈنڈ ان لوگوں کو دیا جاتا ہے جو اس ضلع میں رہتے ہیں، بجلی کے اے بی سی نیٹ ورک سے منسلک ہیں اور جن کا نام بدھ، 12 اگست 2026 کی رات بارہ بجے بجلی کے بل پر درج تھا۔
جواب: پوچھی گئی صورت میں بجلی (Electricity) فراہم کرنے والی کمپنی کی طرف سے سالانہ منافع میں سے ملنے والا مخصوص حصہ (کمپنی کے قواعد و ضوابط کے مطابق) لینا آپ کے لیے شرعاً درست ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
الدر المختار: (463/6، ط: دار الفکر)
اعلم أن أسباب الملك ثلاثة: ناقل كبيع وهبة وخلافة كإرث وأصالة، وهو الاستيلاء.
بحوث في قضایا فقہیة معاصرة: (235/2)
إن مثل ہذہ الجوائز التي تمنح علی أساس عمل عمله أحد لا تخرج عن کونه تبرعاً وہبةً؛ لأنہا لیس لہا مقابل، وأن العمل الذي عملہ الموہوبُ لہ لم یکن علی أساس الإجارة أو الجہالة، حتی یقال: إن الجائزة أجرة لعمله، وإنما کان علی أساس الہبة للتشجیع، وجاء في الموسوعة الکویتیة: الأصل إباحة الجائزة علی عمل مشروع سواء کان دینیًا أو دنیویًا لأنہ من باب الحث علی الخیر والإعانة علیه بالمال، وهو من قبیل الہبة
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی