resize-left-dar mid-dar right-dar
✨ Ask AI

عنوان: میزان بینک سے کفالہ (Kafalah) کی پالیسی لینا

(65745-No)

سوال: سوال: السلام علیکم! میرا سوال یہ ہے کہ میزان بینک میں کفالت سسٹم کے ذریعے پیسے جمع کروانا درست ہے یا نہیں؟ براہِ کرم شرعی رہنمائی فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیراً

جواب: واضح رہے کہ مروّجہ انشورنس سود اور غرر (غیر یقینی صورتحال) پر مشتمل ہونے کی وجہ سے جائز نہیں، اس سے اجتناب لازم ہے، البتہ اس کے متبادل کے طور پر مستند علماء کرام نے شرعی کے اصولوں کے مطابق "تکافل" کا نظام تجویز کیا ہے، لہذا جو ادارہ جب تک مستند علماء کرام کی نگرانی میں شرعی اصولوں کے مطابق تکافل کے معاملات سر انجام دے رہا ہو، ان سے تکافل کی پالیسی لینا شرعاً درست ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القرآن الکریم: (البقرة، الایة: 278، 279)
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِين

اعلاء السنن: (566/14، ط: دار الکتب العلمیة)
"عن علي رضي اﷲ عنه مرفوعا کل قرض جر منفعة فہو ربا. وقال الموفق: کل قرض شرط فیه الزیادة فهو حرام بلا خلاف

فقه البیوع: (1066/2، ط: مکتبة دار العلوم کراتشی)
أما عملیة التأمین، فعملیة تشتمل علی الربوا أو علی الغرر أو علیھما کما سیأتی إن شاء اللہ تعالی. و بھذا أفتی

واللہ تعالٰی أعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Loan, Interest, Gambling & Insurance