resize-left-dar mid-dar right-dar
✨ Ask AI

عنوان: عمرہ کے لیے فیس لے کر قرعہ اندازی کرنے کا شرعی حکم

(64675-No)

سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! ایک شرعی مسئلے پر آپ کی رہنمائی درکار ہے۔ ایک ادارے نے عمرہ کے لیے قرعہ اندازی (Lucky Draw) کا سلسلہ شروع کیا ہے، جس میں ہر ممبر سے 300 روپے فیس لی جا رہی ہے، قرعہ اندازی میں جس کا نام نکلے گا، اسے جمع شدہ رقم سے عمرہ پر بھیجا جائے گا، جبکہ جن ممبران کا نام نہیں نکلے گا، ان کی 300 روپے کی رقم واپس نہیں کی جائے گی، یعنی وہ رقم ضائع ہوجائے گی۔
سوال یہ ہے کہ کیا 300 روپے دے کر ایسی قرعہ اندازی میں شامل ہونا اور اس کے ذریعے عمرہ پر جانا شریعت کی رو سے جائز ہے؟ نیز کیا اس طریقے میں جوا (قمار) کا پہلو پایا جاتا ہے یا نہیں؟ براہِ کرم شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیراً

جواب: واضح رہے کہ شریعت میں قمار (جوا) کی حقیقت یہ ہے کہ کسی معاملے میں آدمی اپنا مال اس امید پر خطرے میں ڈالے کہ اگر اس کا نام یا نمبر نکل آیا تو اسے دوسروں کے مال سے فائدہ حاصل ہوگا اور اگر اس کا نام نہ نکلا تو اس کا مال ضائع ہوجائے گا۔
سوال میں مذکورہ صورت میں ہر شخص سے 300 روپے اس شرط پر لیے جاتے ہیں کہ قرعہ اندازی میں جس کا نام نکلے گا اسے جمع شدہ رقم سے عمرہ کروایا جائے گا، جبکہ باقی شرکاء کو نام نہ آنے پر 300 روپے کی رقم واپس نہیں کی جائے گی تو یہ معاملہ قمار یعنی جوے کی صورت میں داخل ہے، لہٰذا اس طریقے سے 300 روپے دے کر قرعہ اندازی میں شریک ہونا شرعاً جائز نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

*القرآن الکریم: (المائدة، الایة: 90)*
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالأَنصَابُ وَالأَزْلاَمُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَo

*حاشية ابن عابدين = رد المحتار: (6/ 403، ط: الحلبي)*
(وحرم لو شرط) فيها (من الجانبين) لأنه يصير قمارا.
(قوله من الجانبين) بأن يقول إن سبق فرسك فلك علي كذا، وإن سبق فرسي فلي عليك كذا زيلعي وكذا إن قال إن سبق إبلك أو سهمك إلخ تتارخانية (قوله لأنه يصير قمارا) *لأن القمار من القمر الذي يزداد تارة وينقص أخرى، وسمي القمار قمارا لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص.*

*الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية: (5/ 217، ط: دارالفکر)*
ذكر الناطفي أن القرعة ثلاث: *الأولى لإثبات حق البعض وإبطال حق البعض وإنها باطلة* كمن أعتق أحد عبديه بغير عينه ثم يقرع، والثانية لطيبة النفس وإنها جائزة كالقرعة بين النساء للسفر والقرعة بين النساء في البداية للقسم، والثالثة لإثبات حق واحد في مقابلة مثله فيفرز بها حق كل واحد منهما وهو جائز كذا في فتاوى قاضي خان.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Loan, Interest, Gambling & Insurance