سوال:
السلامُ علیکم، حضرت! دبئی کے بینک میں ڈاکومنٹس میں اس طرح کی تحریر لکھی ہوئی ہے "یہ پروڈکٹ شریعہ کے اصول ’’مرابحہ‘‘ پر مبنی ہے، مرابحہ: بینک اور صارف کے درمیان خرید و فروخت کا ایک معاملہ ہے، جس میں بینک EIFL سرٹیفکیٹس خریدتا ہے اور انہیں متفقہ منافع کے ساتھ صارف کو فروخت کرتا ہے۔ اس کے بعد صارف خریدے گئے EIFL سرٹیفکیٹس کو فوری (Spot) بنیاد پر فروخت کرتا ہے، اور حاصل ہونے والی رقم صارف کی جانب سے بینک کو منتقل کر دی جاتی ہے، جہاں اسے صارف کے استعمال کے لیے Facility on Demand Account میں رکھا جاتا ہے۔ شرعی بنیاد: مرابحہ، اہلیت: متحدہ عرب امارات (UAE) میں کاروبار کرنے کے لیے لائسنس یافتہ ادارے۔"
حضرت! درج بالا تحریر میں مذکور طریقے سے بینک سے قرض لینے کے متعلق رہنمائی درکار ہے۔ یہ دبئی کا بنک ہے۔ جزاک اللہ خیر
جواب: سوال میں مذکور بینک کے بارے میں ہمیں تفصیلات معلوم نہیں ہیں کہ وہ مستند علماء کرام کی زیرِ نگرانی شرعی اصولوں کے مطابق کام کررہا ہے یا نہیں، نیز اس بینک کے عملی طریقۂ کار کا ہمیں علم نہیں، اس لئے اس کے معاملات کے متعلق کوئی شرعی حکم نہیں بتایا جاسکتا، اس لئے بہتر یہ ہے کہ آپ اس سلسلے میں متعلقہ بینک کے علماء کرام یا وہاں کے مقامی علماء کرام سے رہنمائی حاصل کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
مسند الحارث: (500/1، ط: مرکز خدمة السنة، المدینة المنورة)
عن عمارة الهمداني قال: سمعت عليا يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: كل قرض جر منفعة فهو ربا۔
مرقاة المفاتیح: (2438/6، ط: دار الفکر)
هو [ای الربا] في الشرع فضل خال عن عوض شرط لأحد العاقدين في المعاوضة۔
واللہ تعالیٰ أعلم بالصواب
دار الافتاء الاخلاص،کراچی