سوال:
السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ ! مفتی صاحب میرا میزان بینک کا سیونگ اکاؤنٹ ہے، اس میں مجھے ہر مہینے Profit کے پیسے آتے ہیں اور کسی مہینے میں Loss بھی ہوجاتا ہے، میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا یہ مال حلال ہے یا حرام؟ برائے کرم رہنمائی فرمایئے! جزاکم اللہ خیرا
جواب: واضح رہے کہ مروّجہ سودی بینکاری کے متبادل کے طور پر مستند علماء کرام نے شرعی کے اصولوں کے مطابق غیر سودی بینکاری کا نظام تجویز کیا ہے، لہذا جو غیر سودی بینک جب تک مستند علماء کرام کی نگرانی میں شرعی اصولوں کے مطابق معاملات سر انجام دے رہا ہو، ان کے پاس سیونگ اکاؤنٹ (جو کہ عموماً مضاربت کے معاہدہ کے تحت ہوتا ہے) کھلوانا اور منافع حاصل کرنا شرعاً درست ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*دلائل:*
*القرآن الکریم: (البقرۃ، الآیة: 275)*
وَ اَحَلَّ اللّٰہُ الۡبَیۡعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰوا...الخ
*اعلاء السنن: (566/14، ط: دار الکتب العلمیة)*
"عن علي رضي اﷲ عنه مرفوعا کل قرض جر منفعة فہو ربا. وقال الموفق: کل قرض شرط فیه الزیادة فهو حرام بلا خلاف
*فقه البیوع: (1063/2، ط: مکتبه معارف القرآن)*
وحساب التوفير (Saving Account) حساب يعطي الحق لصاحب الحساب أن يسحب حدا معينا من المبالغ المودَعة فيه، و يعطي البنك على ذلك فائدة ربوية بنسبة أدنى من النسبة التي تعطى لصاحب الوديعة الثابتة (Fixed Deposit) التي تودَعُ فيها الأموال إلى مدة معينة و تعطى البنوك لأصحابها فائدة بنسبة أعلى، وكل واحد من الحسابين ربوي بحت، و الإيداع في هذين الحسابين حرام شرعا، لكونه تعاقدا بالربوا.
واللہ تعالٰی أعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی