resize-left-dar mid-dar right-dar
✨ Ask AI

عنوان: ای آر پی سی (ERPC) کے بعد آنے والے خون کا حکم

(62581-No)

سوال: میرا مسئلہ حیض، استحاضہ اور اسقاطِ حمل کے بعد آنے والے خون سے متعلق ہے، براہِ کرم حنفی فقہ کے مطابق میرے لیے نماز کا حکم واضح فرما دیں۔
میری پچھلی حیض کی تاریخیں یہ ہیں:
6 تا 10 جنوری، 5 تا 10 فروری، 6 تا 11 مارچ، 1 تا 5 اپریل — غالباً 5 اپریل کو خون رک گیا تھا، لیکن میں نے احتیاطاً پاکی کی علامت کا انتظار کیا اور 7 اپریل کو غسل کیا۔ 19 تا 28 اپریل — اس دوران مسلسل خون آیا، کبھی کم کبھی زیادہ، درمیان میں سفیدی یا مکمل پاکی نہیں آئی، 24 تا 29 مئی، 15 تا 20 جون، جولائی میں حیض نہیں آیا کیونکہ حمل ٹھہر گیا تھا، 2 جولائی کو حمل کا ٹیسٹ مثبت آیا تھا۔
9 جولائی کو ڈاکٹر نے الٹراساؤنڈ میں fetal pole دیکھا تھا، پھر 17 اگست کو دوبارہ چیک کروایا تو ڈاکٹر نے کہا کہ بچے کی نشوونما رک گئی ہے، fetal pole بھی نظر نہیں آ رہا اور pregnancy abnormal ہے، اسی 17 اگست کو خون کے داغ بھی شروع ہوگئے تھے۔
18 اگست کو میرا ERPC ہوا، ڈاکٹر نے یہ نہیں بتایا کہ ساقط ہونے والے بچے کے ہاتھ، پاؤں، انگلیاں یا دوسرے اعضاء بن چکے تھے یا نہیں، صفائی کے وقت گوشت کے لوتھڑے نظر آئے تھے، لیکن کسی واضح عضو کے بارے میں ہمیں معلوم نہیں۔
18 اگست کے ERPC کے بعد سے آج 8 ستمبر تک خون مسلسل آ رہا ہے، درمیان میں بالکل بند نہیں ہوا، مقدار کبھی کم اور کبھی زیادہ ہوتی ہے۔
میرا سوال یہ ہے کہ 17 اگست کا خون جو ERPC سے ایک دن پہلے حمل کی حالت میں آیا، اس کا کیا حکم ہے؟
18 اگست کے ERPC کے بعد آنے والا مسلسل خون نفاس ہے، حیض ہے یا استحاضہ؟ چونکہ ہمیں معلوم نہیں کہ ساقط ہونے والے حمل میں شرعی اعتبار سے ہاتھ، پاؤں، انگلی وغیرہ بنے ہوئے تھے یا نہیں، تو اس صورت میں کیا حکم ہوگا؟
اگر یہ نفاس نہیں بلکہ حیض/استحاضہ کا خون ہے تو میری سابقہ حیض کی عادت کو دیکھتے ہوئے 18 اگست سے 8 ستمبر تک کون سے دن حیض شمار ہوں گے اور کون سے استحاضہ؟
اگر خون 8 ستمبر کے بعد بھی مسلسل جاری رہے تو اگلا حیض کب سے شمار ہوگا؟ کیا مسلسل خون آنے کی صورت میں میری سابقہ 6 دن کی عادت کے مطابق ہر ماہ مخصوص دنوں میں حیض شمار ہوگا یا کوئی اور اصول لاگو ہوگا؟
جو نمازیں میں نے خون کی وجہ سے نہیں پڑھیں، ان میں سے کون سی نمازیں معاف ہیں اور کون سی نمازوں کی قضا لازم ہوگی؟ اگر اس وقت خون جاری ہے تو مجھے آج سے نماز کس طرح شروع کرنی ہے؟ غسل اور وضو کا کیا طریقہ ہوگا؟ براہِ کرم میرے پورے معاملے کا دن بہ دن حکم بتا دیں تاکہ نماز کے معاملے میں غلطی نہ ہو۔ جزاکم اللہ خیراً

جواب: اصل جواب سے قبل درج ذیل چند امور بطورِ تمہید ملاحظہ ہوں:
1) حضرات فقہائے کرام کی صراحت کے مطابق حمل کے ساقط ہونے کے بعد آنے والے خون کے نفاس ہونے یا نہ ہونے کا مدار جنین کے اعضاء کے ظاہر ہونے یا نہ ہونے پر ہے، اگر ساقط ہونے والے جنین کے اعضاء ظاہر ہوں تو اس کے بعد آنے والا خون نفاس ہے، اگر اعضاء ظاہر نہ ہوں تو آنے والا خون نفاس نہیں ہوتا۔
2) ماہرین کی رائے کے مطابق اگر بچے کی گروتھ معمول کے مطابق ہورہی ہو توعام طور پر آٹھ ہفتے یعنی چھپن (56) دن مکمل ہونے پر بعض اعضاء واضح ہو جاتے ہیں، تاہم اگر بچے کی صحیح گروتھ (Growth) نہ ہو رہی ہو تو ایسی صورت میں اس مُدّت میں بھی اعضاء ظاہر نہیں ہوتے۔ (دار الافتاء جامعۃ الرشید، فتویٰ حوالہ نمبر: 25503/46)
3) اگر کسی عورت کو اس کی عادت کے دنوں سے زیادہ خون جاری رہے تو دس دن تک انتظار کیا جائے گا۔ اگر دس دن کے اندر خون بند ہو جائے تو پورے خون کو حیض شمار کیا جائے گا اور يوں سمجھا جائے گا کہ عادت تبدیل ہوگئی ہے، اور اگر دس دن کے بعد بھی خون جاری رہے تو اس کی سابقہ عادت کا اعتبار کیا جائے گا، چنانچہ عادت کے دنوں کا خون حیض اور اس کے بعد آنے والا باقی خون استحاضہ شمار ہوگا۔
4) ایک حیض سے دوسرے حیض کے درمیان کم از کم پندرہ دن کی پاکی کی مدت کا پورا ہونا ضروری ہے۔ اگر دو حیضوں کے درمیان پندرہ دن کی پاکی کی مدت پوری نہ ہو تو بعد میں آنے والا خون حیض نہیں بلکہ استحاضہ شمار ہوگا۔ اس تمہید کے بعد آپ کے سوالات کے جوابات درج ذیل ہیں:
1) 17 اگست کو جب خون آنا شروع ہوا، اس وقت حمل ابھی باقی تھا، لہٰذا اس وقت آنے والا خون استحاضہ شمار ہوگا، حیض نہیں۔ اس لیے 17 اگست کے دن کی نمازیں لازم ہیں۔
2) 18 اگست کو ERPC کے ذریعے حمل خارج ہوا، اور آپ کو یہ معلوم نہیں ہے کہ جنین کے اعضاء ظاہر تھے یا نہیں تھے، اس صورت میں اگر متعلقہ ڈاکٹر سے معلومات لی جاسکتی ہوں تو اس سے معلومات لے کر اس کے مطابق عمل کیا جائے، لیکن اگر اس سے معلومات نہ لی جاسکتی ہوں تو چونکہ 2 جولائی کو ٹیسٹ مثبت آیا تھا، اور پھر 18 اگست کو حمل ساقط ہوا، اس اعتبار سے یہ تقریباً 46 دن بنتے ہیں، اگر حمل کو 2 جولائی سے پہلے ثابت مانا جائے تب بھی زیادہ سے زیادہ 20 جون سے تصور کیا جاسکتا ہے، کیوں کہ اس تاریخ تک ماہواری جاری رہی، اس صورت کے اعتبار سے بھی جنین 18 اگست کو زیادہ سے زیادہ 58 دن کا تھا، اور ڈاکٹر کی صراحت کے مطابق اس دوران بچے کی نشوونما بھی درست طریقے سے نہیں ہوئی اس لیے ظاہری امکان یہی معلوم ہوتا ہے کہ اعضاء ظاہر نہ ہوئے ہونگے، اس لیے اس حمل کے بعد آنے والے خون کو نفاس کہنا مشکل ہے۔
پھر چونکہ اس سے پہلے 20 جون سے 18 اگست تک پندرہ دن سے زائد پاکی گزر چکی تھی، اس لیے 18 اگست سے آنے والا خون حیض بننے کی صلاحیت رکھتا تھا، چونکہ خون مسلسل دس دن سے زیادہ جاری رہا، اس لیے سابقہ عادت کے مطابق 18 اگست سے 23 اگست تک چھ دن حیض کے دن شمار ہوں گے۔
3) 24 اگست سے 8 ستمبر تک آنے والا خون استحاضہ شمار ہوگا؛ لہٰذا ان دنوں میں نماز، روزہ وغیرہ کے احکام استحاضہ والی عورت کے ہوں گے، یعنی نماز ادا کرنا لازم ہوگا۔
لہٰذا 17 اگست اور 24 اگست سے 8 ستمبر تک کی نمازیں ادا کرنا لازم تھا، جبکہ 18 اگست سے 23 اگست تک حیض کے ایام ہونے کی وجہ سے ان دنوں کی نمازیں معاف تھیں اور ان کی قضا بھی لازم نہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

*رد المحتار على الدر المختار: (1/ 302، ط: دار الفكر)*
(ظهر بعض خلقه كيد أو رجل) أو إصبع أو ظفر أو شعر، ولا يستبين خلقه إلا بعد مائة وعشرين يوما (ولد) حكما (فتصير) المرأة (به نفساء والأمة أم ولد ويحنث به) في تعليقه وتنقضي به العدة، فإن لم يظهر له شيء فليس بشيء، والمرئي حيض إن دام ثلاثا وتقدمه طهر تام وإلا استحاض.

*رد المحتار: (3/ 176، ط: دار الفكر)*
مطلب في حكم إسقاط الحمل: (قوله وقالوا إلخ) قال في النهر: بقي هل يباح الإسقاط بعد الحمل؟ نعم يباح ما لم يتخلق منه شيء ولن يكون ذلك إلا بعد مائة وعشرين يوما، وهذا يقتضي أنهم أرادوا بالتخليق نفخ الروح وإلا فهو غلط لأن التخليق يتحقق بالمشاهدة قبل هذه المدة كذا في الفتح، وإطلاقهم يفيد عدم توقف جواز إسقاطها قبل المدة المذكورة على إذن الزوج. وفي كراهة الخانية: ولا أقول بالحل إذ المحرم لو كسر بيض الصيد ضمنه لأنه أصل الصيد فلما كان يؤاخذ بالجزاء فلا أقل من أن يلحقها إثم هنا إذا سقط بغير عذرها اه. قال ابن وهبان: ومن الأعذار أن ينقطع لبنها بعد ظهور الحمل وليس لأبي الصبي ما يستأجر به الظئر ويخاف هلاكه. ونقل عن الذخيرة لو أرادت الإلقاء قبل مضي زمن ينفخ فيه الروح هل يباح لها ذلك أم لا؟ اختلفوا فيه، وكان الفقيه علي بن موسى يقول: إنه يكره، فإن الماء بعدما وقع في الرحم مآله الحياة فيكون له حكم الحياة كما في بيضة صيد الحرم.


*رد المحتار على الدر المختار: (1/ 499، ط: دار الفكر)*
تتمة: اختلفوا في المعتادة هل تترك الصلاة والصوم بمجرد رؤيتها الزيادة على العادة، قيل: لا، لاحتمال الزيادة على العشرة، وقيل: نعم، استصحابا للأصل، وصححه في النهاية والفتح وغيرهما، وكذا الحكم في النفاس.

*العناية شرح الهداية: (1/ 150)*
وأما إذا زاد على عادتها المعروفة دون العشرة فقد اختلف فيه المشايخ، فذهب أئمة بلخ إلى أنها تؤمر بالاغتسال والصلاة؛ لأن حال الزيادة متردد بين الحيض والاستحاضة؛ لأنه إن انقطع الدم قبل العشرة كان حيضا، وإن جاوز العشرة كان استحاضة، فلا تترك الصلاة مع التردد. وقال مشايخ بخارى: لا تؤمر بالاغتسال والصلاة؛ لأنا عرفناها حائضا بيقين، ودليل بقاء الحيض هو رؤية الدم قائما، ولا يكون استحاضة حتى تستمر فيجاوز.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Women's Issues