سوال:
مفتی صاحب ! نماز کے بعد کونسی دعا پڑھنی چاہیے؟
جواب: نماز کا سلام پھیرنے کے بعد رسول اللہ ﷺ سے مختلف دعائیں پڑھنا منقول ہیں:
(1) لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ.
ترجمہ: اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، وہ اکیلا ہے، اسکا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہی ہے، اور اسی کیلئے تعریفیں ہیں، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، اے اللہ ! جو کچھ تونے دیا ہے، اسے کوئی روکنے والا نہیں، اور جو کچھ تو نے روک لیا ہے، اسے کوئی دینے والا نہیں، اور تیرے ہاں کسی کی شان و شوکت اس کے کام نہیں آئے گی۔
(صحیح بخاری، باب الدعاء بعد الصلاۃ، رقم الحدیث 6330)
(2) لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ، لَهُ المُلْكُ وَلَهُ الحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ۔ (3 مرتبہ)
ترجمہ: اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہی ہے، اور اسی کے لئے تمام تعریفیں ہیں، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
(صحیح بخاری، بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنْ قِيلَ وَقَالَ، رقم الحديث: 6473)
(3) لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَلَا نَعْبُدُ إِلَّا إِيَّاهُ، لَهُ النِّعْمَةُ وَلَهُ الْفَضْلُ، وَلَهُ الثَّنَاءُ الْحَسَنُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ۔
ترجمہ: اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہی ہے، اور اسی کے لئے تمام تعریفیں ہیں، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، گناہ سے بچنے کی توفیق اور نیکی کرنے کی طاقت صرف اللہ ہی کی طرف سے ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور ہم اسی کی عبادت کرتے ہیں، اسی کی سب نعمتیں ہیں، اور اسی کے لئے سب فضل ہے، اور اسی کے لئے سب اچھی تعریف ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، ہم اسی کے لئے دین کو خالص کرنے والے ہیں، اگرچہ کافروں کو ناگوار ہو۔
(صحيح مسلم، بَابُ اسْتِحْبَابِ الذِّكْرِ بَعْدَ الصَّلَاةِ وَبَيَانِ صِفَتِهِ، رقم الحديث: 1343)
(4) اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الجُبْنِ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أُرَدَّ إِلَى أَرْذَلِ العُمُرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدُّنْيَا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ القَبْرِ۔
ترجمہ: اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں، بزدلی سے اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ پہنچا دیا جاؤں نکمی عمر تک، اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں دنیا کے فتنہ سے، اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں قبر کے عذاب سے۔
(صحيح بخاري، بَابُ مَا يُتَعَوَّذُ مِنَ الجُبْنِ، رقم الحديث: 2822)
(5) رَبِّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ
اے میرے پروردگار ! تو مجھے اپنے عذاب سے بچانا، جس دن تو اپنے بندوں کو قبروں سے اٹھائے گا۔
(صحيح مسلم، بَابُ اسْتِحْبَابِ يَمِينِ الْإِمَامِ، رقم الحديث: 1642)
(6) اَللّٰهُمَّ رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ، أَنَا شَهِيدٌ أَنَّكَ أَنْتَ الرَّبُّ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ، اَللّٰهُمَّ رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ أَنَا شَهِيدٌ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ، اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ، أَنَا شَهِيدٌ أَنَّ الْعِبَادَ كُلَّهُمْ إِخْوَةٌ، اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ، اجْعَلْنِي مُخْلِصًا لَكَ وَأَهْلِي فِي كُلِّ سَاعَةٍ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ اسْمَعْ وَاسْتَجِبْ، اللَّهُ أَكْبَرُ الْأَكْبَرُ، اَللّٰهُمَّ نُورَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ»، قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ: «رَبَّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، اللَّهُ أَكْبَرُ الْأَكْبَرُ، حَسْبِيَ اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ، اللَّهُ أَكْبَرُ الْأَكْبَرُ
ترجمہ: اے اللہ ! ہمارے پروردگار! اور ہر چیز کے پروردگار ، میں اس بات کا گواہ ہوں کہ تو پروردگار ہے، تو تنہا ہے، تیرا کوئی شریک نہیں، اے اللہ ! ہمارے پروردگار! اور ہر چیز کے پروردگار! میں اس بات کا گواہ ہوں کہ حضرت محمد مصطفی ﷺ تیرے بندے اور رسول ہیں، اے اللہ ! ہمارے پروردگار! اور ہر چیز کے پروردگار! میں اس بات کا گواہ ہوں کہ سارے بندے بھائی بھائی ہیں، اے اللہ ! ہمارے پروردگار! اور ہر چیز کے پروردگار! دنیا اور آخرت کی ہر گھڑی میں مجھے اور میرے اہل و عیال کو مخلص بنادے، اے بزرگی اور اکرام والے ! میری دعا سن لے اور قبول فرما، اللہ سب سے بڑا ہے، بہت بڑا ہے، اے اللہ! تو آسمانوں اور زمین کا نور ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، بہت بڑا ہے، اللہ مجھے کافی ہے اور بہترین کارساز ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، بہت بڑا ہے۔
(سنن لابي داؤد، بَابُ مَا يَقُولُ الرَّجُلُ إِذَا سَلَّمَ، رقم الحديث: 1508)
(7) اَللّٰهُمَّ أَصْلِحْ لِي دِينِي الَّذِي جَعَلْتَهُ لِي عِصْمَةً، وَأَصْلِحْ لِي دُنْيَايَ الَّتِي جَعَلْتَ فِيهَا مَعَاشِي، اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ، وَأَعُوذُ بِعَفْوِكَ مِنْ نِقْمَتِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ، لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ۔
ترجمہ: اے اللہ ! میرے دین کو میرے لیے درست فرمادے، جسے تو نے میرے لیے (دنیا و آخرت میں رسوائی سے) بچاؤ کا ذریعہ بنایا ہے اور میری دنیا کو درست فرمادے، جس میں تو نے میری روزی مقرر فرمائی ہے، اے اللہ ! میں تیری رضا کا واسطہ دے کر تیری ناراضگی سے پناہ مانگتا ہوں، اور تیری مغفرت کا واسطہ دے کر تیرے انتقام سے پناہ مانگتا ہوں، اور تجھ سے تیرے عذاب کی پناہ مانگتا ہوں، اے اللہ ! جو کچھ تو نے دیا ہے، اسے کوئی روکنے والا نہیں، اور جو کچھ تو نے روک دیا ہے، اسے کوئی دینے والا نہیں، اور تیرے ہاں کسی کی شان و شوکت اس کے کام نہیں آئے گی۔
(سنن النسائي، نَوْعٌ آخَرُ مِنَ الدُّعَاءِ عِنْدَ الِانْصِرَافِ مِنَ الصَّلَاةِ، رقم الحديث: 1345)
(8) اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِعْلَ الخَيْرَاتِ، وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ، وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ، وَإِذَا أَرَدْتَ بِعِبَادِكَ فِتْنَةً فَاقْبِضْنِي إِلَيْكَ غَيْرَ مَفْتُونٍ
ترجمہ: اے اللہ ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں نیکیوں کے کرنے کا، برائیوں کے چھوڑنے کا، مسکینوں سے محبت کرنے کا، اور جب تو اپنے بندوں کو آزمائش میں ڈالنے کا ارادہ کرے، تو مجھے آزمائش میں مبتلا کیے بغیر اٹھالے۔
(جامع الترمذی، بَابٌ: وَمِنْ سُورَةِ ص، رقم الحديث: 3233)
(9) (اَللّٰهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ، وَشُكْرِكَ، وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ۔
ترجمہ: اے اللہ ! میری اس بات پر مدد فرما کہ میں تیرا ذکر کر سکوں، تیرا شکر ادا کروں، اور تیری اچھی عبادت کروں۔
(السنن لابي داؤد، بَابٌ فِي الِاسْتِغْفَارِ، رقم الحديث: 1522)
فضیلت: حدیث شریف میں آتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑتے ہوئے فرمایا: اے معاذ ! مجھے تم سے محبت ہے، اے معاذ ! اس دعا کو کسی نماز کے بعد کبھی نہ چھوڑنا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
صحیح البخاری: (باب الدعاء بعد الصلاۃ، رقم الحدیث: 6330، ط: دار الکتب العلمیۃ)
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ وَرَّادٍ مَوْلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ : كَتَبَ الْمُغِيرَةُ : إِلَى مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ إِذَا سَلَّمَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ.
صحیح البخاری: (بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنْ قِيلَ وَ قَالَ، رقم الحديث: 6473، ط: دار الکتب العلمیۃ)
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْهُمْ: مُغِيرَةُ، وَفُلاَنٌ وَرَجُلٌ ثَالِثٌ أَيْضًا، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ وَرَّادٍ كَاتِبِ المُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ: أَنَّ مُعَاوِيَةَ كَتَبَ إِلَى المُغِيرَةِ: أَنِ اكْتُبْ إِلَيَّ بِحَدِيثٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَكَتَبَ إِلَيْهِ المُغِيرَةُ: إِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ عِنْدَ انْصِرَافِهِ مِنَ الصَّلاَةِ: «لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ، لَهُ المُلْكُ وَلَهُ الحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» ثَلاَثَ مَرَّاتٍ، قَالَ: وَكَانَ يَنْهَى عَنْ قِيلَ وَقَالَ، وَكَثْرَةِ السُّؤَالِ، وَإِضَاعَةِ المَالِ، وَمَنْعٍ وَهَاتِ، وَعُقُوقِ الأُمَّهَاتِ، وَوَأْدِ البَنَاتِ وَعَنْ هُشَيْمٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ المَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ وَرَّادًا، يُحَدِّثُ هَذَا الحَدِيثَ، عَنِ المُغِيرَةِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
صحیح مسلم: (بَابُ اسْتِحْبَابِ الذِّكْرِ بَعْدَ الصَّلَاةِ وَ بَيَانِ صِفَتِهِ، رقم الحديث: 1343)
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، قَالَ: كَانَ ابْنُ الزُّبَيْرِ، يَقُولُ: فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ حِينَ يُسَلِّمُ «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَلَا نَعْبُدُ إِلَّا إِيَّاهُ، لَهُ النِّعْمَةُ وَلَهُ الْفَضْلُ، وَلَهُ الثَّنَاءُ الْحَسَنُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ» وَقَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهَلِّلُ بِهِنَّ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ»
صحیح البخاری: (بَابُ مَا يُتَعَوَّذُ مِنَ الجُبْنِ، رقم الحديث: 2822)
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ المَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ، سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ الأَوْدِيَّ، قَالَ: كَانَ سَعْدٌ يُعَلِّمُ بَنِيهِ هَؤُلاَءِ الكَلِمَاتِ كَمَا يُعَلِّمُ المُعَلِّمُ الغِلْمَانَ الكِتَابَةَ وَيَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَعَوَّذُ مِنْهُنَّ دُبُرَ الصَّلاَةِ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الجُبْنِ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أُرَدَّ إِلَى أَرْذَلِ العُمُرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدُّنْيَا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ القَبْرِ»، فَحَدَّثْتُ بِهِ مُصْعَبًا فَصَدَّقَهُ۔
صحیح مسلم: (بَابُ اسْتِحْبَابِ يَمِينِ الْإِمَامِ، رقم الحديث: 1642)
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ ابْنِ الْبَرَاءِ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ: كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَحْبَبْنَا أَنْ نَكُونَ عَنْ يَمِينِهِ، يُقْبِلُ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ، قَالَ: فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: «رَبِّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ - أَوْ تَجْمَعُ - عِبَادَكَ».
سنن ابی داؤد: (بَابُ مَا يَقُولُ الرَّجُلُ إِذَا سَلَّمَ، رقم الحديث: 1508)
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ، وَهَذَا حَدِيثُ مُسَدَّدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ دَاوُدَ الطُّفَاوِيَّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو مُسْلِمٍ الْبَجَلِيُّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: سَمِعْتُ نَبِيَّ الَّلهِ صَلَّى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: - وَقَالَ سُلَيْمَانُ: كَانَ رَسُولُ الَّلهُ صَلَّى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي دُبُرِ صَلَاتِهِ: - «اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ، أَنَا شَهِيدٌ أَنَّكَ أَنْتَ الرَّبُّ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ، اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ أَنَا شَهِيدٌ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ، اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ، أَنَا شَهِيدٌ أَنَّ الْعِبَادَ كُلَّهُمْ إِخْوَةٌ، اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ، اجْعَلْنِي مُخْلِصًا لَكَ وَأَهْلِي فِي كُلِّ سَاعَةٍ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ اسْمَعْ وَاسْتَجِبْ، اللَّهُ أَكْبَرُ الْأَكْبَرُ، اللَّهُمَّ نُورَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ»، قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ: «رَبَّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، اللَّهُ أَكْبَرُ الْأَكْبَرُ، حَسْبِيَ اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ، اللَّهُ أَكْبَرُ الْأَكْبَرُ»
سنن النسائی: (نَوْعٌ آخَرُ مِنَ الدُّعَاءِ عِنْدَ الِانْصِرَافِ مِنَ الصَّلَاةِ، رقم الحديث: 1345)
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادِ بْنِ الْأَسْوَدِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَرْوَانَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ كَعْبًا حَلَفَ لَهُ بِاللَّهِ الَّذِي فَلَقَ الْبَحْرَ لِمُوسَى إِنَّا لَنَجِدُ فِي التَّوْرَاةِ: أَنَّ دَاوُدَ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ إِذَا انْصَرَفَ مِنْ صَلَاتِهِ قَالَ: «اللَّهُمَّ أَصْلِحْ لِي دِينِي الَّذِي جَعَلْتَهُ لِي عِصْمَةً، وَأَصْلِحْ لِي دُنْيَايَ الَّتِي جَعَلْتَ فِيهَا مَعَاشِي، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ، وَأَعُوذُ بِعَفْوِكَ مِنْ نِقْمَتِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ، لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ»، قَالَ: وَحَدَّثَنِي كَعْبٌ، أَنَّ صُهَيْبًا حَدَّثَهُ، أَنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُهُنَّ عِنْدَ انْصِرَافِهِ مِنْ صَلَاتِهِ
سنن الترمذی: (بَابٌ وَ مِنْ سُورَةِ ص، رقم الحديث: 3233، ط: دار الحدیث)
حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالاَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتَانِي اللَّيْلَةَ رَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ،، قَالَ أَحْسَبُهُ فِي الْمَنَامِ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ هَلْ تَدْرِي فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الأَعْلَى؟ قَالَ: قُلْتُ: لاَ، قَالَ: فَوَضَعَ يَدَهُ بَيْنَ كَتِفَيَّ حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَهَا بَيْنَ ثَدْيَيَّ أَوْ قَالَ: فِي نَحْرِي، فَعَلِمْتُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الأَرْضِ، قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، هَلْ تَدْرِي فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الأَعْلَى؟ قُلْتُ: نَعَمْ، فِي الكَفَّارَاتِ، وَالكَفَّارَاتُ الْمُكْثُ فِي الْمَسَاجِدِ بَعْدَ الصَّلاَةِ، وَالْمَشْيُ عَلَى الأَقْدَامِ إِلَى الْجَمَاعَاتِ، وَإِسْبَاغُ الوُضُوءِ فِي الْمَكَارِهِ، وَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ عَاشَ بِخَيْرٍ وَمَاتَ بِخَيْرٍ، وَكَانَ مِنْ خَطِيئَتِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ، وَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، إِذَا صَلَّيْتَ فَقُلْ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِعْلَ الخَيْرَاتِ، وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ، وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ، وَإِذَا أَرَدْتَ بِعِبَادِكَ فِتْنَةً فَاقْبِضْنِي إِلَيْكَ غَيْرَ مَفْتُونٍ، قَالَ: وَالدَّرَجَاتُ إِفْشَاءُ السَّلاَمِ، وَإِطْعَامُ الطَّعَامِ، وَالصَّلاَةُ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ.
سنن ابی داؤد: (بَابٌ فِي الِاسْتِغْفَارِ، رقم الحديث: 1522، ط: دار ابن حزم)
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ مُسْلِمٍ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيُّ، عَنْ الصُّنَابِحِيّ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، أَنَّ رَسُولَ صَلَّى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ بِيَدِهِ، وَقَالَ: «يَا مُعَاذُ، وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّكَ، وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّكَ»، فَقَالَ: " أُوصِيكَ يَا مُعَاذُ لَا تَدَعَنَّ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ تَقُولُ: اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ، وَشُكْرِكَ، وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ"، وَأَوْصَى بِذَلِكَ مُعَاذٌ الصُّنَابِحِيَّ، وَأَوْصَى بِهِ الصُّنَابِحِيُّ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی