عنوان: کیا عورت اپنے پندرہ سال کے بیٹے کے ساتھ حج کے لئے جاسکتی ہے؟(106320-No)

سوال: میرا بیٹا ابھی جولائی کے مہینہ میں پندرہ سال کا ہوچکا ہے، اور وہ حافظ قرآن ہے، اور کافی سمجھ دار بھی ہے، پوچھنا یہ ہے کیا میں اس کے ساتھ حج کے لئے جاسکتی ہوں، کیونکہ میں اپنے شوہر کے ساتھ نہیں جاسکتی، وہ باہر ملک میں ہوتے ہیں؟

جواب: صورت مسئولہ میں آپ کا بیٹا بالغ ہے اور آپ کے لئے محرم ہے، لہذا بغیر کسی شبہ کے آپ کے لئے اپنے مذکورہ بیٹے کے ساتھ حج کے لئے جانا جائز ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کما فی الشامیۃ:

(بلوغ الغلام بالاحتلام والإحبال والإنزال) والأصل هو الإنزال (والجارية بالاحتلام والحيض والحبل) ولم يذكر الإنزال صريحا لأنه قلما يعلم منها (فإن لم يوجد فيهما) شيء (فحتى يتم لكل منهما خمس عشرة سنة به يفتى) لقصر أعمار أهل زماننا

(ج: 6، ص: 153، ط: دار الفکر)

وفی الجوھرۃ النیرۃ:

(قوله ويعتبر في المرأة أن يكون لها محرم يحج بها أو زوج) سواء كانت عجوزا أو شابة وهو كل من لا يجوز له مناكحتها على التأبيد سواء كان بالرحم أو بالصهورية أو بالرضاع وسواء كان حرا أو عبدا أو ذميا وأما المجوسي فليس بمحرم والصبي والمجنون ليس بمحرم والمراهق كالبالغ

(ج: 1، ص: 149، ط: المطبعۃ الخیریۃ)


واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 348
kia orat panay pandra saal kay bete kay sath hajj kay liye jasakti hai

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Hajj (Pilgrimage)

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © AlIkhalsonline 2021.