سوال:
کچھ لوگوں کے نزدیک سید اپنی زکوة اپنے غریب اور مستحق سید رشتہ داروں کو دے سکتا ہے، بلکہ یہ افضل ہے، کیونکہ غیر سید اپنی زکوة کسی سید کو نہیں دے سکتا۔ دور حاضر میں کوئی شخص حسب نسب کی بناء پر کسی مستحق سید کی مالی اعانت نہیں کرتا اور بہت سے سید گھرانے غیر سید سے بھی زیادہ مستحق ہیں تو اس سلسلے میں کیا فتوی ہے کہ کیا کوئی سید کسی مستحق سید کو زکوة دے سکتا ہے؟
جواب: واضح رہے کہ جن لوگوں کا سلسلہِ نسب حضرت عباس، حضرت جعفر، حضرت عقیل، حضرت علی یا حضرت حارث بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہم تک تحقیقی طور پر پہنچتا ہے اور ان کے نسب نامہ میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے تو وہ سید کہلاتے ہیں، ان کو کسی بھی زمانہ میں زکوۃ یا صدقاتِ واجبہ دینا جائز نہیں ہے، ہاں ! نفلی صدقہ، خیرات، عطیات وغیرہ دے سکتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
الھندیۃ: (189/1، ط: رشیدیہ)
'' (قوله: وبني هاشم ومواليهم) أي لا يجوز الدفع لهم ؛ لحديث البخاري: «نحن - أهل بيت - لا تحل لنا الصدقة»، ولحديث أبي داود: «مولى القوم من أنفسهم، وإنا لا تحل لنا الصدقة» ''۔
البحر الرائق: (189/1، ط: رشیدیہ)
قید بالزکاۃ لان النفل یجوز للغنی کما یجوز للھاشمی۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی