سوال:
محترم مفتی صاحب! مجھے اپنی 3 سالہ بیٹی کے نام کے متعلق شرعی رہنمائی اور فتویٰ درکار ہے، میری بیٹی کا نام ’’زرقاء فاطمہ‘‘ ہے۔ ہم نے یہ نام اس وقت رکھا تھا اور اب میری بیٹی کی عمر 3 سال ہے، کچھ لوگ ہمیں بار بار کہتے ہیں کہ ’’زرقاء‘‘ نام مناسب یا درست نہیں ہے اور ہمیں بچی کا نام تبدیل کر دینا چاہیے۔ براہ کرم اس بارے میں رہنمائی فرمادیں۔
جواب: زرقاء عربی زبان کا لفظ ہے، جس کا معنی آسمان ہے، لڑکی کا یہ نام رکھنا درست ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
مسند البزّار: (رقم الحدیث: 8540، 176/15، ط: مكتبة العلوم و الحكم)
عَن أبي هُرَيرة؛ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيه وَسَلَّم قال: "إن من حق الولد على الوالد أن يحسن اسمه ويحسن أدبه".
معجم اللغة العربية المعاصرة: (983/2، ط: عالم الكتب)
الزرقاء:
مؤنث أزرق.
السماء.
القاموس الوحید: (ص: 576 ،ط: ادارہ اسلامیات)
واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص،کراچی