سوال:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! میں زکوٰۃ کی رقم مستحقینِ زکوٰۃ میں سے "الغارمین" یعنی مقروض افراد کو دینا چاہتا ہوں۔ کیا یہ ضروری ہے کہ جس شخص کو زکوٰۃ دی جائے، اسے یہ بھی بتایا جائے کہ وہ اس رقم کو صرف اپنا قرض ادا کرنے کے لیے استعمال کرے اور کسی دوسرے مقصد میں خرچ نہ کرے؟ جزاکم اللہ خیراً
جواب: مستحق زکوة کو بغیر کسی شرط کے مالکانہ تصرف کے ساتھ زکوة دینی چاہیے، تاکہ وہ اپنی ضرورت کے مطابق اسے استعمال کرسکے، لہذا اگر کسی نے مستحق زکوة کو براہ راست زکوة دیتے ہوئے کسی مصرف میں خرچ کرنے کا پابند کیا ہو، تب بھی وہ مستحق زکوة شخص زکوة کی رقم مالکانہ تصرف کے ساتھ وصول کرنے کے بعد اسی مصرف میں خرچ کرنے کا پابند نہیں ہوگا۔
لہٰذا بہتر یہ ہے کہ مستحق شخص کو زکوٰۃ کی رقم بلا شرط اس کی ملکیت میں دے دی جائے، پھر وہ اپنی ضرورت کے مطابق اسے خرچ کرے، ہاں! اگر وہ قرض کی ادائیگی میں خرچ کرے تو یہ بھی درست ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*الدر المختار مع رد المحتار: (345/2، ط: دار الفکر)*
لأن الحيلة أن يتصدق على الفقير ثم يأمره بفعل هذه الأشياء وهل له أن يخالف أمره؟ لم أره والظاهر نعم
(قوله: والظاهر نعم) البحث لصاحب النهر وقال؛ لأنه مقتضى صحة التمليك قال الرحمتي: والظاهر أنه لا شبهة فيه؛ لأن ملكه إياه عن زكاة ماله وشرط عليه شرطا فاسدا والهبة والصدقة لا يفسدان بالشرط الفاسد.
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی