resize-left-dar mid-dar right-dar
✨ Ask AI

عنوان: مکمل اختیار ملنے کے بعد وکیل کا اپنی خالہ کو زکوٰۃ دینا

(68269-No)

سوال: میرے دوست نے مجھے زکوٰۃ کی رقم امانتاً دی ہے اور اس کی تقسیم کا مکمل اختیار بھی دیا ہے کہ میں اسے کسی بھی مستحقِ زکوٰۃ شخص کو دے سکتا ہوں۔ کیا میں اپنے کسی ذاتی جاننے والے کو اس کی زیرِ علاج خالہ کی طرف سے زکوٰۃ کی رقم دے سکتا ہوں؟
سوال سے متعلق مطلوب وضاحت: محترم جناب! آپ کا سوال واضح نہیں ہے۔ کیا آپ فنڈ کے مالک کی خالہ کی طرف سے زکوٰۃ ادا کرنا چاہتے ہیں یا اپنی خالہ کو زکوٰۃ دینا چاہتے ہیں؟
سائل کی طرف سے وضاحت: میں اپنی خالہ کو زکوٰۃ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ کیا اگر زکوٰۃ کی رقم فنڈ کے مالک کی خالہ کو ادا کی جائے تو کیا صورتِ مسئلہ کا مختلف ہوگا؟ اور کیا اس صورت میں زکوٰۃ ادا کرنا جائز ہوگا؟

جواب: پوچھی گئی صورت میں اگر آپ کی خالہ یا امانتاً رقم رکھوانے والے کی خالہ مستحقِ زکوٰۃ ہوں تو آپ انہیں زکوٰۃ دے سکتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

الدر المختار مع رد المحتار: (كتاب الزكاة، 269/2، ط: دار الفكر)

وللوكيل أن يدفع لولده الفقير وزوجته لا لنفسه إلا إذا قال: ربها ضعها حيث شئت.
(قوله: لولده الفقير) وإذا كان ولدا صغيرا فلا بد من كونه فقيرا أيضا لأن الصغير يعد غنيا بغنى أبيه أفاده ط عن أبي السعود وهذا حيث لم يأمره بالدفع إلى معين؛ إذ لو خالف ففيه قولان حكاهما في القنية.

واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Zakat-o-Sadqat