سوال:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، مفتی صاحب! ایک مسئلہ زکوۃ سے متعلق دریافت کرنا تھا۔ ہمارا مویشیوں کا کاروبار ہے جس میں 5 شراکت دار ہیں جن کی غیرمساوی حصہ داریاں ہیں۔ کاروبار کی تفصیل کچھ اس طرح ہے:
۱) کاروبار کا ایک حصہ قربانی کے لیے گائے / بیل کی خریدوفروخت کا ہے۔ ہم ایک عید الاضحیٰ کے اختتام پر کچھ گائے اور بیل خریدتے ہیں جو اگلی عید الاضحیٰ تک وقتاً فوقتاً فروخت ہوتے ہیں۔
۲) کچھ گاہک ہم سے جانور خرید کر ہمارے پاس پالائی کے لیے چھوردیتے ہیں جس پر ہم پالائی سروس کا ماہانہ معاوضہ لیتے ہیں جبتکہ گاہک ہمارے باڑے سے جانور نہ لے جائے۔ اس میں خریدار بعض اوقات مکمل قیمت ادا کر دیتے ہیں اور ماہانہ صرف پالاٸ کے پیسے دیتے ہیں یا دوسری صورت میں طے شدہ رقم کا کچھ حصہ سودہ کے وقت ادا کردیتے ہیں اور بقایا رقم ماہانہ پالاٸکے ساتھ ادا کرتے ہیں۔
۳) کاروبار کا دوسرا حصہ گائے کے دودھ کی فروخت کا ہے۔ اس میں ہمارے پاس ہر وقت میں دو طرح کی گاءے رہتی ہیں ایک دودھ دینے والی جن کا دودھ نکال کر فروخت کیا جاتا ہے اور دوسری جن کا دودھ اَنا اب ختم ہوچکا ہے اور یا تو ان کو فروخت کرکے دوسری گائے ان کی نعمل بدل میں خریدی جائیں گی یا پھر یہ دوبارہ بچہ اور دودھ دینے تک باڑے پر رہیں گی۔
۴) کاروبار کا تیسرا حصہ گوشت کے لیے جانوروں کی فروخت کا ہے، جو بچے باڑے میں پیدا ہوتے ہیں ان کو یا تو وزن کے اعتبار سے گوشت کے لیے فروخت کردیا جاتا ہے یا پھر نمبر ۱ کے تحت پال کر قربانی کے لیے فروخت کردیا جاتا ہے۔
۵) کاروبار کا چوتھا حصہ گوشت کے لیے جانور کی خرید و فروخت ہے، جانور خرید کر کچھ مہینے کھلاٸ کرنے کے بعد نمبر ۴ کی طرح وزن کرکے فروخت کردیے جاتے ہیں۔
سوالات:
1) ہم سارے پارٹنر صاحب زکوۃ ہیں، ہم میں سے سب کے زکوة کے حساب کی تاریخ مختلف ہے، سوال یہ ہے کہ کاروبار کا حساب ہم اپنی زکوة میں علیحدہ علیحدہ لیں گے یا کاروبار کا زکوة کااپنا حساب ہوگا، اگر کاروبار کا حساب الگ سے ہوگا تو اس میں کون سی تاریخ کا تعین کرکے حساب کیا جائے گا؟
2) مجموعی طور پر ذکر کردہ مختلف نوعیت کے جانوروں کا زکوة کا حساب کس طرح کیا جائے گا؟ نیز ایسی گاۓ جس کا صرف دودھ نکال کر فروخت کیا جاۓ کیا اس پر زکوة عاید ہوگی؟
3) نمبر ۱ میں ذکر کردہ قربانی کی نسبت سے قابل فروخت مال کی زکوة کا حساب کیسا ہوگا اور قیمت کون سی لگائی جائیگی؟ قیمت خرید یا قیمت فروخت؟ اگر قیمت خرید لگائی جائی گی تو اس میں صرف جو قیمت اصل جگہ سے مال خرید نے میں لگی ہے اس کا اعتبار ہوگا یا اس قیمت کا اعتبار ہوگا جو ہمارے باڑے پہنچنے تک لگی ہے جمع اس وقت جو خرچہ ہوا ہے؟
4) مزید یہ کہ نمبر ۲ میں ذکرکردہ صورت میں اقساط پر لیا گیا جانور سودہ طے ہونے کے بعد کس کی ملک میں شمار ہو گا جبکہ ابھی اس کی مکمل طے شدہ رقم کی ادایگی نہیں ہوئی ہے، نیز یکہ مکمل رقم کی ادایگی سے پہلے اگر خدانخواسۃ جانور مر جاتا ہے تو کیا گاہک بقایا رقم دینے کا ذمہ دار ہوگا)
5) جو مال کیش کی شکل میں زکوة کے حساب کے وقت میں موجود ہے اس میں سے اس وقت کے معلوم خرچہ منہا کیے جائیں گے یا کل موجودہ کیش کو زکوة میں شامل کیا جائے گا؟
6) کیا نمبر ۴ میں ذکر کردہ صورت میں جانور کو زندہ وزن کرکے فروخت کرنا درست ہے؟ زندہ وزن کرنے میں مقصد گوشت کا اندازہ لگانا ہے۔
جواب: پوچھی گئی صورت میں چونکہ جانوروں کے کاروبار مختلف نوعیتیں ذکر کی گئی ہیں، اس لئے ہر نوعیت کے اعتبار سے حکم درج ذیل ہے:
(1) واضح رہے کہ زکوٰۃ ہر شخص پر انفرادی حیثیت میں واجب ہوتی ہے، اس لئے ہر شخص اپنے اپنے حصے کی زکوۃ ادا کرنے کا ذمہ دار ہوگا۔ کاروبار کی زکوٰۃ الگ مستقل طور پر لازم نہیں ہوگی، بلکہ ہر شریک اپنی زکوٰۃ کی تاریخ پر کاروبار کے قابلِ زکوٰۃ اثاثوں (سونا، چاندی، مالِ تجارت/قابلِ فروخت جانور، نقد رقم) میں اپنے حصے کی مالیت معلوم کرکے اپنی زکوٰۃ ادا کرے گا۔
(2) جو جانور خریدتے وقت قربانی، گوشت یا کسی بھی مقصد کے لئے فروخت کرنے کے لیے رکھے گئے ہوں، وہ مالِ تجارت شمار ہوں گے، اور زکوٰۃ کی تاریخ پر ان کی موجودہ بازاری قیمت لگا کر زکوٰۃ ادا کی جائے گی۔ گاہکوں کے خریدے ہوئے جانور جو پالائی کے لیے باڑے میں رکھے جاتے ہیں، ان کی زکوٰۃ باڑے والوں پر واجب نہیں ہے۔
جو گائیں یا بھینسیں صرف دودھ حاصل کرنے کے لیے رکھی گئی ہوں اور ان کی خرید و فروخت مقصود نہ ہو، ان جانوروں پر زکوٰۃ نہیں ہوگی، البتہ دودھ کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم، اسی طرح دودھ کا اسٹاک اگر زکوٰۃ کی تاریخ پر موجود ہو تو وہ دیگر قابلِ زکوٰۃ اموال کے ساتھ شامل کرکے زکوٰۃ میں شمار کیے جائیں گے۔
اگر انہیں دوبارہ بچہ دینے اور دودھ حاصل کرنے کے لیے رکھا گیا ہے تو ان پر زکوٰۃ نہیں ہوگی، لیکن اگر مقصد یہ ہو کہ انہیں مناسب وقت پر فروخت کرکے نئی گائیں خریدی جائیں گی تو وہ مالِ تجارت کے حکم میں ہوں گی۔
اگر کسی جانور سے فی الحال دودھ حاصل کیا جارہا ہو، لیکن اصل مقصد مناسب وقت پر فروخت کرکے نفع حاصل کرنا ہو تو وہ مالِ تجارت میں شمار ہوگا۔ اسی طرح فارم میں پیدا ہونے والے بچے (بچھڑے وغیرہ) اگر آگے فروخت کرکے نفع حاصل کرنے کے مقصد سے پالے جاتے ہیں تو وہ مالِ تجارت شمار ہوں گے۔
(3) قربانی کے موقع پر خریدے گئے جانور چونکہ تجارت کے مقصد سے خریدے گئے ہیں، اس لیے ان کی زکوٰۃ مالِ تجارت کے اعتبار سے ہوگی۔ مالِ تجارت کی زکوٰۃ میں اصل اعتبار قیمتِ فروخت (موجودہ بازاری قیمت) کا ہوتا ہے، نہ کہ قیمتِ خرید کا۔
لہٰذا زکوٰۃ کی تاریخ پر باڑے میں موجود ہر جانور کی موجودہ بازاری قیمت لگائی جائے گی جس قیمت پر وہ فروخت ہوسکتا ہے، پھر اس مجموعی مالیت کا ڈھائی فیصد بطورِ زکوٰۃ ادا کیا جائے گا، نیز اس کی بھی گنجائش ہے کہ تمام جانوروں کی مجموعی قیمت لگوا کر اس کے حساب سے زکوٰۃ ادا کریں۔
(4) بیع (خرید وفروخت) مکمل ہونے کے بعد جانور خریدار کی ملکیت میں شمار ہوگا، خواہ پوری رقم ادا نہ ہوئی ہو۔ مکمل قیمت ادا ہونے سے پہلے اگر جانور خریدار کے پاس ہلاک ہوجائے تب بھی گاہک پر مکمل قیمت ادا کرنا لازم ہے۔
(5) زکوٰۃ کی تاریخ پر موجود نقد رقم زکوٰۃ کے حساب میں شامل کی جائے گی، البتہ وہ واجب الادا قرض یا ایسا خرچہ جو لازم ہوچکا ہو، اور ادا کرنا باقی ہو، اسے منہا کیا جائے گا، آئندہ کے متوقع اخراجات نہیں نکالے جائیں گے۔
(6) جانور کی قیمت وزن کرکے طے کرنا جائز ہے، بشرطیکہ معاملہ کرتے وقت کل وزن اور مجموعی قیمت گاہک کے سامنے واضح کردی جائے، پھر باہمی رضامندی سے زندہ جانور وزن کرکے فروخت کرنا درست ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*دلائل:*
*الجوھرة النیرة: (کتاب الزکوٰۃ، ص: 292)*
لیس لکل واحد من الشریکین ان یؤدی زکوٰۃ مال الاخر الا باذنه
*الفتاوي الهندية: (181/1، ط: دار الفكر)*
الخليطان في المواشي كغير الخليطين فإن كان نصيب كل واحد منهما يبلغ نصابا وجبت الزكاة، وإلا فلا سواء كانت شركتهما عنانا أو مفاوضة أو شركة ملك بالإرث أو غيره من أسباب الملك وسواء كانت في مرعى واحد أو في مراع مختلفة فإن كان نصيب أحدهما يبلغ نصابا ونصيب الآخر لا يبلغ نصابا وجبت الزكاة على الذي يبلغ نصيبه نصابا دون الآخر، وإن كان أحدهما ممن تجب عليه الزكاة دون الآخر فإنها تجب على من تجب عليه إذا بلغ نصيبه نصابا.
*بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 22، ط: دار الكتب العلمية):*
فيعتبر قيمتها يوم الأداء، والصحيح أن هذا مذهب جميع أصحابنا
*الفتاوى الهندية (1/ 174، ط: دار الفكر):*
والفعلي ما سواهما ويكون الاستنماء فيه بنية التجارة أو الإسامة، ونية التجارة والإسامة لا تعتبر ما لم تتصل بفعل التجارة أو الإسامة ثم نية التجارة قد تكون صريحا وقد تكون دلالة فالصريح أن ينوي عند عقد التجارة أن يكون المملوك للتجارة سواء كان ذلك العقد شراء أو إجارة وسواء كان ذلك الثمن من النقود أو العروض.
وأما الدلالة فهي أن يشتري عينا من الأعيان بعروض التجارة أو يؤاجر داره التي للتجارة بعرض من العروض فتصير للتجارة، وإن لم ينو التجارة صريحا
*الفتاوى الهندية (3/117، ط: دار الفكر):*
وما لا نص فيه ولم يعرف حاله على عهد رسول الله عليه الصلاة والسلام يعتبر فيه عرف الناس فإن تعارفوا كيله فهو كيلي وإن تعارفوا وزنه فهو وزني وإن تعارفوا كيله ووزنه فهو كيلي ووزني وهذا كله قول أبي حنيفة ومحمد - رحمهما الله تعالى - كذا في المحيط.
*کذا فی التبويب لجامعۃ دار العلوم کراچی (1444/51)*
واللہ تعالٰی أعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی