resize-left-dar mid-dar right-dar
✨ Ask AI

عنوان: سودی رقم مستحقِ زکوٰۃ طالب علم کو دینے اور وکیل کے لیے خود استعمال کرنے کا حکم

(64713-No)

سوال: اگر کسی شخص کے خاندان کے کسی فرد کے اکاؤنٹ میں سود کی رقم آجائے تو میں نے سنا ہے کہ سود کی رقم ثواب کی نیت کے بغیر زکوٰۃ کے مستحقین کو دے دینی چاہیے تو کیا ایسے مستحق زکوة طالب علم (جس کے اخراجات والد اٹھاتے ہوں) کے لیے ایسی رقم لینا جائز ہے یا نہیں؟
بعض علماء کہتے ہیں کہ سود کی رقم ثواب کی نیت کے بغیر کسی غریب یا زکوٰۃ کے مستحق شخص کو دے دینی چاہیے، لیکن جب یہ مال حرام ہے تو زکوٰۃ کا مستحق اسے کس حیثیت سے لے سکتا ہے؟ کیا اس کے لیے اس مال کو استعمال کرنا جائز ہوگا، جبکہ سود حرام ہے؟
مذکورہ صورت میں اگر طالب علم کی بہن اسے سود کی رقم یہ کہہ کر دے کہ اسے کسی کو دے دینا تاکہ اس سے جان چھوٹ جائے تو کیا بھائی بہن کو مزید بتائے یا پوچھے بغیر وہ رقم خود رکھ سکتا ہے؟ بہن کے بظاہر الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ یہ رقم کسی ایسے شخص کو دینے کے لیے کہہ رہی ہے جسے دینا جائز ہو۔ اب اگر بھائی کو یہ پوچھنے میں شرم محسوس ہو کہ کیا وہ یہ رقم خود رکھ سکتا ہے تو اگر وہ زکوٰۃ کا مستحق ہو، کیا وہ بہن کو مزید بتائے بغیر یہ رقم اپنے استعمال میں لا سکتا ہے یا نہیں؟

جواب: واضح رہے کہ بینک میں سودی اکاؤنٹ کھلوانا ناجائز ہے، اگر کسی نے لاعلمی میں کھلوالیا ہو تو اسے چاہیے کہ صدقِ دل سے توبہ و استغفار کرے اور سودی اکاؤنٹ بند کردے، سودی رقم کے بارے میں حکم یہ ہے کہ کسی مستحقِ زکاۃ کو ثواب کی نیت کے بغیر دے دی جائے، نیز جب سودی رقم کسی فقیر کو دی جاتی ہے تو تبدیلِیہ ملکیت کی وجہ سے اس کے حق میں حلال ہوجاتی ہے، لہٰذا فقیر کے لیے اسے اپنے استعمال میں لانا جائز ہے۔
پوچھی گئی صورت میں اگر طالب علم بالغ ہے اور اس کی اپنی ملکیت میں نصاب کے برابر مال نہیں ہے تو وہ مستحقِ زکوٰۃ شمار ہوگا، اگرچہ اس کے والد اس کے تعلیمی اور روز مرہ کے اخراجات اٹھاتے ہوں، لہٰذا اس کے لیے سود کی رقم لینا اور اسے اپنے ذاتی اخراجات میں استعمال کرنا جائز ہے۔
البتہ اگر اس کی بہن نے اسے سود کی رقم یہ کہہ کر دی کہ کسی کو دے دینا تاکہ اس رقم سے جان چھوٹ جائے تو اس صورت میں بھائی محض مستحقِ زکوٰۃ ہونے کی وجہ سے بہن کی اجازت کے بغیر وہ رقم خود استعمال نہیں کرسکتا، کیونکہ بہن کے مذکورہ الفاظ ( اسے کسی کو دے دینا) سے بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس نے رقم کسی دوسرے مستحق کو دینے کے لیے دی ہے، لہٰذا بھائی کے لیے ضروری ہے کہ وہ رقم کسی دوسرے مستحق کو دے دے یا بہن سے اس کے استعمال کی اجازت لے لے۔ اگر بہن اسے خود رکھنے کی اجازت دے دے تو اس کے لیے وہ رقم اپنے استعمال میں لانا جائز ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*الدلائل:*

*عمدة القاري: (135/13، ط: دار إحياء التراث العربي)*
(ولنا هدية) ، أي: حيث أهدت بريرة إلينا فهو هدية، وذلك لأن الصدقة يجوز فيها تصرف الفقير بالبيع والهدية وغير ذلك لصحة ملكه لها...........ولنا هدية) لأن التحريم يتعلق بالصفة لا بالذات، وقد تغير ما تصدق به على بريرة بانتقاله إلا إلى ملكها وخروجه عن ملك المتصدق.

*رد المحتار: (99/5، ط: دار الفکر)*
والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه

*بذل المجہود: (359/1، ط: مرکز الشیخ أبي الحسن الندوي)*
یجب علیہ أن یردہ إن وجد المالک وإلا ففي جمیع الصور یجب علیہ أن یتصدق بمثل ملک الأموال علی الفقراء۔

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Zakat-o-Sadqat