سوال:
السلام علیکم، میرے دوست نے ایک فیملی کو زکوة کی رقم سے ایک فلیٹ دلایا، جس کی لاگت تقریباً ایک کروڑ 50 لاکھ ہے، اب میرا دوست اس فیملی کو ہر ماہ اس کے گھر کے خرچے کے لئے کچھ رقم دینا چاہتا ہے، کیا اب وہ فیملی زکوة کی مستحق ہے؟ کیونکہ اب وہ فیملی جائیداد کی مالک ہے، اس صورت میں کیا اسے زکوة ادا کی جاسکتی ہے؟
جواب: واضح رہے کہ زکوٰۃ کا مستحق ہونے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی کی ملکیت میں اس کی بنیادی ضروریات اور واجب الادا قرض سے زائد ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے برابر نقدی، سونا، چاندی یا ضرورت سے زائد سامان نہ ہو۔
پوچھی گئی صورت میں اگر مذکورہ فیملی کو زکوٰۃ کی رقم سے فلیٹ خرید کر اس کا مالک بنا دیا گیا ہے اور وہ فلیٹ ان کی رہائش کی بنیادی ضرورت ہے تو محض ڈیڑھ کروڑ روپے مالیت کے فلیٹ کا مالک ہونے کی وجہ سے وہ زکوٰۃ کے مستحق ہونے سے خارج نہیں ہوں گے، لہٰذا اگر ان کے پاس بنیادی ضروریات سے زائد اتنا مال نہیں ہے جو نصاب کے برابر ہو اور وہ غیر سید ہوں تو انہیں زکوٰۃ دی جاسکتی ہے۔
آپ کے دوست مذکورہ فیملی کے موجودہ مالی حالات کی تحقیق کرلیں، اگر وہ شرعاً زکوٰۃ کے مستحق ہوں تو انہیں گھر کے اخراجات کے لیے زکوٰۃ دی جاسکتی ہے، ورنہ زکوٰۃ کی رقم دینا جائز نہیں ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*القرآن الکریم: (التوبة، الایة: 60)*
إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌo
*تفسیر القرطبی: (171/8، ط: دار الفکر)*
الخامسة- وقد اختلف العلماء في حد الفقر الذي يجوز معه الأخذ- بعد إجماع أكثر من يحفظ عنه من أهل العلم- أن من له دارا وخادما لا يستغني عنهما أن له أن يأخذ من الزكاة، وللمعطي أن يعطيه.
وقال أبو حنيفة: من معه عشرون دينارا أو مائتا درهم فلا يأخذ من الزكاة. فاعتبر النصاب لقوله عليه السلام: (أمرت أن آخذ الصدقة من أغنيائكم وارد ها في فقرائكم). وهذا واضح، ورواه المغيرة عن مالك.
*الدر المختار مع رد المحتار: (347/2، ط: دار الفکر)*
(و) لا إلى (غني) يملك قدر نصاب فارغ عن حاجته الأصلية من أي مال كان....
(قوله: فارغ عن حاجته) قال في البدائع: قدر الحاجة هو ما ذكره الكرخي في مختصره فقال: لا بأس أن يعطي من الزكاة من له مسكن، وما يتأثث به في منزله وخادم وفرس وسلاح وثياب البدن وكتب العلم إن كان من أهله، فإن كان له فضل عن ذلك تبلغ قيمته مائتي درهم حرم عليه أخذ الصدقة، لما روي عن الحسن البصري قال كانوا يعني: الصحابة يعطون من الزكاة لمن يملك عشرة آلاف درهم من السلاح والفرس والدار والخدم، وهذا؛ لأن هذه الأشياء من الحوائج اللازمة التي لا بد للإنسان منها.
*الفتاوى الهندية: (كتاب الزكوة، 189/1، ط: دار الفكر)*
"لايجوز دفع الزكاة إلى من يملك نصابًا أي مال كان دنانير أو دراهم أو سوائم أو عروضًا للتجارة أو لغير التجارة فاضلًا عن حاجته في جميع السنة، هكذا في الزاهدي. و الشرط أن يكون فاضلًا عن حاجته الأصلية، و هي مسكنه، و أثاث مسكنه و ثيابه و خادمه و مركبه و سلاحه، و لايشترط النماء إذ هو شرط وجوب الزكاة لا الحرمان، كذا في الكافي. و يجوز دفعها إلى من يملك أقل من النصاب، و إن كان صحيحًا مكتسبًا، كذا في الزاهدي".
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی