resize-left-dar mid-dar right-dar
✨ Ask AI

عنوان: زکوٰۃ کے استحقاق کا شرعی معیار

(64699-No)

سوال: میں ایک سفید پوش انسان ہوں، موجودہ حالات کے پیشِ نظر مناسب آمدنی ہونے کے باوجود گھر کے اخراجات پورے کرنا مشکل ہو رہا ہے، اس وقت میری ذاتی آمدنی بہت کم ہے، جبکہ اہلِ خانہ کی طرف سے مالی تعاون بھی مل جاتا ہے۔ میری اہلیہ اسکول ٹیچر ہیں اور گھر میں اکیڈمی بھی چلاتی ہیں، جس سے کچھ آمدنی ہوجاتی ہے، اس کے باوجود مہینے کے اختتام سے پہلے ہی ہماری آمدنی ختم ہوجاتی ہے اور اخراجات پورے کرنا مشکل ہوجاتے ہیں، ایک وقت تھا کہ میں خود بھی زکوٰۃ ادا کیا کرتا تھا، لیکن اب نہ زکوٰۃ ادا کرنے کی استطاعت ہے اور نہ قربانی کرنے کی۔
اس سال خاندان کے بعض افراد نے مجھے زکوٰۃ کی مد میں مالی تعاون دیا۔ میرے ضمیر نے اسے قبول کرنے میں تردد کیا، لیکن مجبوری کی وجہ سے میں نے وہ رقم رکھ لی، ماہانہ جو مالی تعاون اہلِ خانہ کی طرف سے ملتا ہے، وہ بھی مجھے معلوم نہیں کہ صدقات کی مد میں ہوتا ہے یا زکوٰۃ کی مد میں؟ بظاہر میرا ضمیر یہ کہتا ہے کہ میرے لیے زکوٰۃ یا صدقات لینا مناسب نہیں، لیکن اگر یہ مالی تعاون نہ ملے تو گھر کا گزارا انتہائی مشکل ہوجائے گا اور فقر و محتاجی کی زندگی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
ان حالات میں شریعت کی رو سے میرے لیے کیا حکم ہے؟ کیا میں زکوٰۃ یا صدقات کی رقم لے سکتا ہوں؟ نیز جو زکوٰۃ کی رقم اس سال خاندان کی طرف سے مجھے دی گئی ہے، کیا میرے لیے اسے استعمال کرنا جائز ہے؟ جزاکم اللہ خیراً

جواب: واضح رہے کہ زکوٰۃ کا مستحق ہونے کے لیے یہ ضروری نہیں کہ آدمی بالکل بے روزگار یا انتہائی محتاج ہو، بلکہ اگر کسی شخص کے پاس اس کی بنیادی ضروریات (رہنے کا مکان، کپڑے، سواری اور برتن وغیرہ) کے علاوہ چاندی کے نصاب کے بقدر مال یا ضرورت سے زائد سامان نہ ہو تو وہ شرعی طور پر مستحقِ زکوٰۃ شمار ہوگا اور اسے زکوٰۃ دینا جائز ہوگا۔
لہٰذا اگر آپ کی آمدنی گھر کے ضروری اخراجات پورا کرنے کے لیے کافی نہیں ہے اور آپ کی ملکیت میں بنیادی ضرورت (رہنے کا مکان، کپڑے، سواری اور برتن وغیرہ) کے علاوہ چاندی کے نصاب کے بقدر مال یا ضرورت سے زائد سامان بھی نہ ہو تو آپ شرعاً مستحقِ زکوٰۃ ہوں گے اور آپ کے لیے زکوة کی رقم استعمال کرنا جائز ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

*القرآن الکریم: (التوبة، الایة: 60)*
إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌo

*تفسیر القرطبی: (171/8، ط: دار الفکر)*
الخامسة- وقد اختلف العلماء في حد الفقر الذي يجوز معه الأخذ- بعد إجماع أكثر من يحفظ عنه من أهل العلم- أن من له دارا وخادما لا يستغني عنهما أن له أن يأخذ من الزكاة، وللمعطي أن يعطيه.
وقال أبو حنيفة: من معه عشرون دينارا أو مائتا درهم فلا يأخذ من الزكاة. فاعتبر النصاب لقوله عليه السلام: (أمرت أن آخذ الصدقة من أغنيائكم وارد ها في فقرائكم). وهذا واضح، ورواه المغيرة عن مالك.

*الدر المختار مع رد المحتار: (347/2، ط: دار الفکر)*
(و) لا إلى (غني) يملك قدر نصاب فارغ عن حاجته الأصلية من أي مال كان....
(قوله: فارغ عن حاجته) قال في البدائع: قدر الحاجة هو ما ذكره الكرخي في مختصره فقال: *لا بأس أن يعطي من الزكاة من له مسكن، وما يتأثث به في منزله وخادم وفرس وسلاح وثياب البدن وكتب العلم إن كان من أهله، فإن كان له فضل عن ذلك تبلغ قيمته مائتي درهم حرم عليه أخذ الصدقة،* لما روي عن الحسن البصري قال كانوا يعني: الصحابة يعطون من الزكاة لمن يملك عشرة آلاف درهم من السلاح والفرس والدار والخدم، وهذا؛ لأن هذه الأشياء من الحوائج اللازمة التي لا بد للإنسان منها.

*الفتاوى الهندية: (كتاب الزكوة،189/1، ط:دار الفكر)*
"لايجوز دفع الزكاة إلى من يملك نصابًا أي مال كان دنانير أو دراهم أو سوائم أو *عروضًا للتجارة أو لغير التجارة فاضلًا عن حاجته* في جميع السنة، هكذا في الزاهدي. *و الشرط أن يكون فاضلًا عن حاجته الأصلية، و هي مسكنه، و أثاث مسكنه و ثيابه و خادمه و مركبه و سلاحه،* و لايشترط النماء إذ هو شرط وجوب الزكاة لا الحرمان، كذا في الكافي. *و يجوز دفعها إلى من يملك أقل من النصاب، و إن كان صحيحًا مكتسبًا* ، كذا في الزاهدي".

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Zakat-o-Sadqat