سوال:
مفتی صاحب! رہنمائی فرمائیں کہ جو رقم بغیر ثواب کی نیت کے کسی کو دینی ہو تو کیا وہ کسی سید کے علاج کے لیے دی جا سکتی ہے؟
جواب: اگر اس رقم سے مراد وہ حرام رقم ہے جو کسی کا حق ہوتی ہے تو اسے مالک تک پہنچانا ہی ضروری ہوتا ہے، اگر مالک تک پہنچانا مشکل یا متعذر ہوتو ایسی صورت میں اسے بلا نیتِ ثواب صدقہ کرنا یا کسی بھی خیر کے کام میں صَرف کرنا ضروری ہوتا ہے۔
لہٰذا پوچھی گئی صورت میں مذکورہ بالا تفصیل کے ساتھ اگر سید صاحبِ نصاب نہ ہو تو یہ رقم اس سید کو دینا یا اس رقم سے اس کا علاج کرانا جائز ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*رد المحتار على الدر المختار: (5/ 99، ط: دار الفكر)*
والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه.
*رد المحتار على الدر المختار: (2/ 292، ط: دار الفكر)*
قلت: الدفع إلى الفقير غير قيد بل مثله فيما يظهر لو بنى من الحرام بعينه مسجدا ونحوه مما يرجو به التقرب؛ لأن العلة رجاء الثواب فيما فيه العقاب ولا يكون ذلك إلا باعتقاد حله.
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی