سوال:
السلام علیکم محترم مفتی صاحب! پوچھنا یہ ہے کہ ہماری ازدواجی زندگی کچھ عرصے سے چند وجوہات کی بنا پر متاثر تھی، لیکن اس دوران میں نے کبھی طلاق دینے کا ارادہ نہیں کیا، گزشتہ 10 ماہ سے میرے اور میری اہلیہ کے درمیان کچھ نہ اتفاقی ہوئی، جس کی وجہ سے کبھی وہ مجھ سے جبراً خلع کا مطالبہ کرتی، کبھی طلاق کا کہتی۔
کچھ عرصے بعد میری اہلیہ نے رات تین بجے جبکہ ہمارے درمیان کوئی لڑائی جھگڑا نہیں ہوا تھا ایک کاغذ دیا، کمرے میں روشنی کا انتظام نہ ہونے کی وجہ سے اور اس وجہ سے کہ میں پڑھا لکھا نہیں ہوں میں نہیں جانتا کہ اس پر کیا لکھا تھا، میرے پوچھنے پر اہلیہ نے بتایا کہ طلاق نامہ ہے، آپ اس پر دستخط کر دیجئے، میں نے (جب کہ میں کچھ نہیں جانتا تھا کہ یہ تین طلاق کا پرچہ یعنی طلاق نامہ ہے) یہ کہتے ہوئے دستخط کر دیے کہ تمہاری خوشی کے لیے یہ کر رہا ہوں، میں حلفا کہہ سکتا ہوں کہ مجھے علم نہیں تھا کہ اس میں تین طلاق کا لکھا ہوا ہے ورنہ میں اس پر کبھی دستخط نہ کرتا۔
آپ سے دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا ایسے طلاق نامے کو پڑھے بغیر اور یہ جانے بغیر کہ اس میں تین طلاقیں لکھی ہوئی ہیں، دستخط کرنے سے تین طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں؟ مفتی صاحب میں حلفاً یہ کہہ سکتا ہوں کہ میں نے نیت تین طلاق کی نہیں کی تھی، بس ایک طلاق کا گمان کرتے ہوئے میں نے دستخط کر دیا تھا، آپ رہنمائی فرمادیں کہ ایسی صورتحال میں کتنی طلاق واقع ہوئی ہیں؟ جزاکم اللہ خیرا
جواب: پوچھی گئی صورت میں واقعتاً اگر آپ کو معلوم نہیں تھا کہ طلاق نامہ میں تین طلاقیں لکھی ہوئی ہیں، نہ ہی یہ معلوم تھا کہ وکیل طلاق نامے پر تین طلاق ہی تحریر کرتے ہیں اور نہ ہی تین طلاق دینے کا ذکر آپ نے اس سے قبل کیا تھا اور آپ نے ایک طلاق سمجھ کر لا علمی میں اس پر دستخط کر دیے تھے تو ایسے دستخط کرنے کی وجہ سے صرف ایک طلاقِ رجعی واقع ہوئی ہے، جس کا حکم یہ ہے کہ عدت کے دوران اگر آپ رجوع کرنا چاہیں تو بغیر نکاح کے رجوع کر سکتے ہیں، البتہ اگر عدت گزر گئی تو پھر میاں بیوی کی باہمی رضامندی سے نئے مہر کے ساتھ شرعی گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ نکاح کرنا ضروری ہوگا، تاہم یہ یاد رہے کہ رجوع یا نیا نکاح کرنے کی صورت میں شوہر کے پاس آئندہ کے لیے صرف دو طلاقوں کا اختیار ہوگا۔
لیکن اگر آپ کو طلاق نامے سے متعلق معلوم تھا کہ اس میں تین طلاقیں لکھی ہوئی ہیں تو ایسی صورت میں دستخط کرنے سے تین طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مُغلَّظہ ثابت ہوگئی ہے، جس کے بعد نہ رجوع ہو سکتا ہے اور نہ ہی دوبارہ نکاح ہو سکتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*الفتاوى الھندیة: (246/3،ط:دار الفکر)*
ولو قال للكاتب: اكتب طلاق امرأتي كان إقرارا بالطلاق وإن لم يكتب؛ ولو استكتب من آخر كتابا بطلاقها وقرأه على الزوج فأخذه الزوج وختمه وعنونه وبعث به إليها فأتاها وقع إن أقر الزوج أنه كتابة أو قال للرجل: ابعث به إليها، أو قال له: اكتب نسخة وابعث بها إليها، وإن لم يقر أنه كتابه ولم تقم بينة لكنه وصف الأمر على وجهه لا تطلق قضاء ولا ديانة، وكذا كل كتاب لم يكتبه بخطه ولم يمله بنفسه لا يقع الطلاق ما لم يقر أنه كتابه اه ملخصا
*امداد الفتاوی:(183/5،ط: نعمانیہ)*
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص کراچی