سوال:
السلام علیکم، مفتی صاحب برائے مہربانی رہنمائی فرما دیں کہ اگر میاں بیوی نے باہمی مشاورت سے بچہ گود لیا ہو اور پھر میاں بیوی میں علیحدگی ہو جائے تو لے پالک بچے کا حقدار کون ہو گا اور اس کے نان نفقہ کی ذمہ داری کس پر ہوگی؟
یہ بھی وضاحت فرما دیں کہ اگر میاں بیوی میں سے کوئی بھی اس بچے کو نہیں رکھنا یا کفالت کرنا چاہتا تو اس کی قانونی اور شرعی حیثیت کیا ہوگی؟ جزاک اللہ
جواب: پوچھی گئی صورت میں اگر بچے کی حقیقی والدہ حیات نہیں ہے تو اس کی پرورش کا حق نانی کا ہے، بچہ نانی ہی کی پرورش میں ہونا چاہیے، اگر کسی وجہ سے نانی پرورش نہیں کرنا چاہتی تو پھر بچہ دادی کے پاس رہے گا۔ بچہ گود لینے سے بچہ حقیقی بیٹا نہیں بن جاتا اس لیے گود لینے والے میاں بیوی کو پرورش کا حق حاصل نہیں ہے، البتہ اگر نانی اور دادی دونوں بچے کو اپنے پاس نہیں رکھنا چاہتی، اور کوئی اور قریبی رشتہ دار بھی نہیں ہے، یا ہے مگر اس ذمہ داری کو ادا نہیں کرنا چاہتے تو اس صورت میں شرعی اصول کے مطابق سات سال سے چھوٹا بچہ (مذکورہ) خاتون کے پاس رہے گا۔
جہاں تک نفقہ اور خرچہ کا سوال ہے تو اگر مذکورہ بچے کا کوئی ذاتی مال ہے تو اس مال میں سے بچے پر خرچ کیا جائے گا، اور اگر بچہ کی ملکیت میں کچھ بھی نہ ہے اور والد موجود ہے تو بچے کا خرچہ والد کے ذمہ ہوگا، اور اگر والد بھی موجود نہیں ہے تو اس صورت میں بچہ کی پرورش کا خرچہ ان قریبی رشتہ داروں پر ہوگا جو بچہ کی وفات کی صورت میں اس کے وارث بنتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*القرآن الکریم: (سورۃ الاحزاب، رقم الآیۃ: 3)*
مَا جَعَلَ اللّٰهُ لِرَجُلٍ مِّنۡ قَلۡبَيۡنِ فِىۡ جَوۡفِهٖ ۚ وَمَا جَعَلَ اَزۡوَاجَكُمُ الّٰٓئِْ تُظٰهِرُوۡنَ مِنۡهُنَّ اُمَّهٰتِكُمۡ ۚ وَمَا جَعَلَ اَدۡعِيَآءَكُمۡ اَبۡنَآءَكُمۡ ؕ ذٰ لِكُمۡ قَوۡلُكُمۡ بِاَ فۡوَاهِكُمۡ ؕ وَاللّٰهُ يَقُوۡلُ الۡحَقَّ وَهُوَ يَهۡدِى السَّبِيۡلَ O
*الدر المختار: (566/3، ط: دار الفکر)*
"(والحاضنة) أما، أو غيرها (أحق به) أي بالغلام حتى يستغني عن النساء وقدر بسبع وبه يفتى لأنه الغالب (والأم والجدة) لأم، أو لأب (أحق بها) بالصغيرة (حتى تحيض) أي تبلغ في ظاهر الرواية(وغيرهما أحق بها حتى تشتهى) وقدر بتسع وبه يفتى (وعن محمد أن الحكم في الأم والجدة كذلك) وبه يفتى لكثرة الفساد، زيلعي."
*الهداية: (488/2، ط: دار الکتب العلمیة)*
إنما تجب النفقة على الأب إذا لم يكن للصغير مال أما إذا كان فالأصل أن نفقة الإنسان في مال نفسه صغيرا كان أو کبیرا.
*بدائع الصنائع: (41/4، ط: دارالکتب العلمیۃ)*
وَأَمَّا بَيَانُ مَنْ لَهُ الْحَضَانَةُ فَالْحَضَانَةُ تَكُونُ لِلنِّسَاءِ فِي وَقْتٍ وَتَكُونُ لِلرِّجَالِ فِي وَقْتٍ وَالْأَصْلُ فِيهَا النِّسَاءُ؛ لِأَنَّهُنَّ أَشْفَقُ وَأَرْفَقُ وَأَهْدَى إلَى تَرْبِيَةِ الصِّغَارِ ثُمَّ تُصْرَفُ إلَى الرِّجَالِ؛ لِأَنَّهُمْ عَلَى الْحِمَايَةِ وَالصِّيَانَةِ وَإِقَامَةِ مَصَالِحِ الصِّغَارِ أَقْدَرُ وَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا شَرْطٌ فَلَا بُدَّ مِنْ بَيَانِ شَرْطِ الْحَضَانَتَيْنِ وَوَقْتِهِمَا أَمَّا الَّتِي لِلنِّسَاءِ فَمِنْ شَرَائِطِهَا أَنْ تَكُونَ الْمَرْأَةُ ذَاتَ رَحِمٍ مَحْرَمٍ مِنْ الصِّغَارِ فَلَا حَضَانَةَ لِبَنَاتِ الْعَمِّ وَبَنَاتِ الْخَالِ وَبَنَاتِ الْعَمَّةِ وَبَنَاتِ الْخَالَةِ؛ لِأَنَّ مَبْنَى الْحَضَانَةِ عَلَى الشَّفَقَةِ، وَالرَّحِمُ الْمَحْرَمُ هِيَ الْمُخْتَصَّةُ بِالشَّفَقَةِ ثُمَّ يَتَقَدَّمُ فِيهَا الْأَقْرَبُ فَالْأَقْرَبُ فَأَحَقُّ النِّسَاءِ مِنْ ذَوَاتِ الرَّحِمِ الْمَحْرَمِ بِالْحَضَانَةِ الْأُمُّ؛ لِأَنَّهُ لَا أَقْرَبَ مِنْهَا ثُمَّ أُمُّ الْأُمِّ ثُمَّ أُمُّ الْأَبِ؛ لِأَنَّ الْجَدَّتَيْنِ وَإِنْ اسْتَوَيَتَا فِي الْقُرْبِ لَكِنْ إحْدَاهُمَا مِنْ قِبَلِ الْأُمِّ أَوْلَى۔
*وفیه ایضاً: (42/4، ط: دارالکتب العلمیۃ)*
وَأَمَّا وَقْتُ الْحَضَانَةِ الَّتِي مِنْ قِبَلِ النِّسَاءِ فَالْأُمُّ وَالْجَدَّتَانِ أَحَقُّ بِالْغُلَامِ حَتَّى يَسْتَغْنِيَ عَنْهُنَّ فَيَأْكُلَ وَحْدَهُ وَيَشْرَبَ وَحْدَهُ وَيَلْبَسَ وَحْدَهُ كَذَا ذُكِرَ فِي ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ، وَذَكَرَ أَبُو دَاوُد بْنُ رَشِيدٍ عَنْ مُحَمَّدٍ وَيَتَوَضَّأُ وَحْدَهُ يُرِيدُ بِهِ الِاسْتِنْجَاءَ أَيْ وَيَسْتَنْجِي وَحْدَهُ وَلَمْ يُقَدِّرْ فِي ذَلِكَ تَقْدِيرًا وَذَكَرَ الْخَصَّافُ سَبْعَ سِنِينَ أَوْ ثَمَانِ سِنِينَ أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ.
*الهندية: (541/1، ط: المطبعة الكبرى الأميرية ببولاق مصر)*
أحق الناس بحضانة الصغير حال قيام النكاح أو بعد الفرقة الأم، ۔۔۔۔۔۔۔وإن لم يكن له أم تستحق الحضانة بأن كانت غير أهل للحضانة أو متزوجة بغير محرم أو ماتت فأم الأم أولى من كل واحدة، وإن علت، فإن لم يكن للأم أم فأم الأب أولى ممن سواها ، وإن علت كذا في فتح القدير. ذكر الخصاف في النفقات إن كانت للصغيرة جدة من قبل أبيها وهي أم أبي أمها فهذه ليست بمنزلة من كانت من قرابة الأم من جهة أمها كذا في البحر الرائق.
*وفیه ایضاً :(561/1، ط: دار الفکر)*
نفقة الأولاد الصغار على الأب لا يشاركه فيها أحد كذا في الجوهرة النيرة....وبعد الفطام يفرض القاضي نفقة الصغار على قدر طاقة الأب وتدفع إلى الأم حتى تنفق على الأولاد، فإن لم تكن الأم ثقة تدفع إلى غيرها لينفق على الولد.
*کذا فی فتویٰ جامعہ دارالعلوم کراچی:(رقم الفتاوی:78/2857 )*
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی