سوال:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب! میں نے اپنی بیوی سے یہ الفاظ کہے گئے: "اگر تم نے اس چارجر کو استعمال کیا تو ہماری طلاق ہے۔"
میرا مقصد اپنی بیوی کو دھمکانا تھا کہ وہ میرا چارجر استعمال نہ کرے، لیکن مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ اس جملے سے شرعاً طلاق معلق ہوئی ہے یا نہیں؟
میری بیوی نے ابھی تک وہ چارجر استعمال نہیں کیا ہے۔براہِ کرم بتائیں کہ کیا اس بیان سے طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں؟ اور اگر میری بیوی نے وہ چارجر استعمال نہیں کیا تو کیا وہ مستقبل میں اس چارجر کو استعمال کرسکتی ہے یا مجھے کوئی اور احتیاط کرنی چاہیے؟ اگر میں نیا چارجر لے لوں اور اس چارجر کو کاٹ کر پھینک دوں تو کیا اس صورت میں کوئی حرج ہوگا؟ جزاکم اللہ خیراً
جواب: پوچھی گئی صورت میں آپ نے مذکورہ الفاظ "اگر تم نے اس چارجر کو استعمال کیا تو ہماری طلاق ہے"، سے طلاق کو شرط پر معلّق کیا ہے، جس کا حکم یہ ہے کہ فی الحال اس کے ذریعے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ہے، لیکن اگر بیوی کسی موقع پر مذکورہ چارجر کو استعمال کرے گی تو اس کی وجہ سے ایک طلاقِ رجعی واقع ہو جائے گی، جس کا حکم یہ ہے کہ ایسی صورت میں اگر آپ عدت کے دوران رجوع کرنا چاہیں تو اس کی گنجائش ہوگی۔
لہٰذا طلاق سے بچنے کے لیے بیوی کو اس چارجر کے استعمال سے مکمل طور پر بچنا چاہیے، البتہ اگر واقعتاً آپ نے صرف مذکورہ چارجر کے استعمال پر طلاق کو معلّق کیا تھا تو اس صورت میں بیوی کے دوسرے چارجر کے استعمال کرنے کی وجہ سے طلاق واقع نہیں ہوگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*الدلائل:*
*الفتاوىٰ الهندية: (420/1، ط: دار الفكر)*
وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق.
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی