سوال:
محترم مفتی صاحب / دارالافتاء، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
گزارش ہے کہ میرے بھائی چوہدری عمران ولد جعفر حسین کی طلاق کے معاملے کے متعلق آپ کے ادارے سے فتویٰ جاری ہوا ہے، جس کا حوالہ نمبر 59434 ہے۔ اس سلسلے میں چند اہم حقائق اور وضاحتیں آپ کے علم میں لانا مقصود ہیں، تاکہ معاملے کی درست شرعی حیثیت سامنے آ سکے۔
تقریباً 6 سال قبل میاں بیوی کے درمیان جھگڑا ہوا تھا، جس دوران میرے بھائی چوہدری عمران نے اپنی اہلیہ کو ایک طلاق دی تھی، اس واقعے کا بیان انہوں نے خود بھی کیا تھا، تاہم موقع پر کوئی گواہ موجود نہیں تھا، ان کے اپنے بیان کے مطابق اس وقت ایک مرتبہ طلاق دی گئی تھی،
اس کے بعد مورخہ 29-07-2026 کو دوبارہ میاں بیوی کے درمیان شدید جھگڑا ہوا، جس دوران میرے بھائی نے اپنی اہلیہ کو دو مرتبہ مکمل ہوش و حواس میں طلاق دی، اس کے بعد انہوں نے اپنی والدہ سمیت گھر والوں کو خود بتایا کہ: "میں ابھی دو طلاقیں دے کر آیا ہوں۔"
اسی شام ان کے سسرال والے گھر آئے۔ اس موقع پر میں چوہدری محمد کامران، اور میرے ماموں شاہد محمود بھی موجود تھے، وہاں دونوں خاندانوں کے درمیان شدید تلخ کلامی اور گالم گلوچ شروع ہوگئی، اس دوران چوہدری عمران نے غصے میں کہا کہ: "جاؤ دفع ہو جاؤ، میں تیسری طلاق بھی دے دیتا ہوں، تاکہ کوئی شک نہ رہے۔" اور اس کے بعد انہوں نے تین مرتبہ طلاق دینے کی بات بھی کہی۔
بعد ازاں مورخہ 01-08-2026 کو گھر پر باقاعدہ پنچایت منعقد ہوئی، جس میں میاں بیوی دونوں کے بیانات سنے گئے اور موقع پر موجود گواہان کے بیانات بھی لیے گئے، اس کے بعد علماء کرام اور مفتیانِ عظام سے شرعی رہنمائی حاصل کی گئی، جن کے مطابق طلاق واقع ہو چکی تھی۔
اسی تاریخ کو گھر کا سامان بھی واپس/الگ کروایا گیا اور اس حوالے سے ایک تحریر بھی تیار کی گئی، جس پر میاں بیوی کے دستخط اور انگوٹھے کے نشانات موجود ہیں، جبکہ گواہان کے بھی دستخط اور انگوٹھے کے نشانات موجود ہیں۔
اب اصل مسئلہ یہ ہے کہ چوہدری عمران اپنی سابقہ اہلیہ سے رجوع کرنا چاہتے ہیں۔، چونکہ علماء کرام اور مفتیانِ عظام کی رائے کے مطابق طلاق واقع ہو چکی تھی اور واپسی کا شرعی راستہ باقی نہیں رہا تھا، اس لیے انہوں نے مبینہ طور پر ایک ایسا بیان پیش کیا جس میں اصل واقعات مکمل طور پر بیان نہیں کیے گئے، اور اسی بیان کی بنیاد پر آپ کے ادارے سے فتویٰ نمبر 59434 (https://alikhlasonline.com/detail.aspx?id=59434) جاری کروایا گیا۔
اب چوہدری عمران کا مؤقف ہے کہ مذکورہ فتویٰ کی بنیاد پر وہ اپنی سابقہ اہلیہ کے لیے دوبارہ حلال ہیں، جبکہ ہمارے علم کے مطابق فتویٰ کے لیے پیش کیے گئے بیان میں اصل واقعات اور موقع پر موجود گواہان کی تفصیلات درست طور پر بیان نہیں کی گئیں، مزید یہ کہ اس معاملے سے متعلق اسٹامپ پیپر بھی بذریعہ ای میل آپ کے ادارے کو بھیجا گیا تھا، جس پر فریقین اور گواہان کے دستخط و انگوٹھے کے نشانات موجود ہیں، مذکورہ اسٹامپ پیپر دوبارہ بھی منسلک کر دیا گیا ہے۔
لہٰذا مؤدبانہ گزارش ہے کہ براہِ کرم اس معاملے کو ازسرِنو مکمل حقائق، میاں بیوی کے بیانات، موقع پر موجود گواہان کے بیانات اور منسلک اسٹامپ پیپر کو سامنے رکھ کر ملاحظہ فرمایا جائے۔
خصوصاً یہ وضاحت فرمائی جائے کہ اگر پہلے فتویٰ کے لیے پیش کیے گئے بیان میں کوئی اہم واقعہ، سابقہ طلاق، بعد کی طلاقیں یا موقع پر موجود گواہان کی شہادت شامل نہیں کی گئی تھی تو کیا ایسے بیان کی بنیاد پر جاری ہونے والا فتویٰ شرعاً قابلِ عمل رہتا ہے؟
ہماری درخواست کا مقصد کسی فرد پر الزام لگانا نہیں بلکہ شرعی حقیقت اور درست حکم تک پہنچنا ہے، تاکہ کوئی شخص غلط یا نامکمل معلومات کی بنیاد پر جاری ہونے والے فتویٰ کو استعمال کرتے ہوئے کسی غیر شرعی عمل کا حصہ نہ بنے۔
لہٰذا آپ سے نہایت عاجزانہ گزارش ہے کہ تمام اصل حقائق اور ثبوتوں کی روشنی میں اس معاملے کی شرعی حیثیت واضح فرماتے ہوئے باقاعدہ تحریری جواب لیٹر ہیڈ پر جاری فرمائیں، تاکہ آئندہ کسی قسم کا ابہام باقی نہ رہے اور کوئی فریق اس معاملے میں غلط شرعی مؤقف پیش نہ کر سکے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو حق بات واضح کرنے اور انصاف کے ساتھ شرعی رہنمائی فرمانے کی توفیق عطا فرمائے۔ جزاکم اللہ خیراً.
جواب: پوچھی گئی صورت میں سائل کی طرف سے بیان کردہ تفصیلات، شوہر کے اقرار، موجود گواہان، دستخط شدہ اسٹامپ پیپر اور پنچایت کی تحریر کی روشنی میں شرعی حکم یہ ہے کہ اگر شوہر نے سابقہ فتویٰ نمبر 59434 حاصل کرتے وقت پہلی طلاق کے واقع ہونے کا انکار کیا تھا، حالانکہ حقیقت میں اس نے اپنی اہلیہ کو طلاق دی تھی اور بعد میں خود اس کا اقرار بھی کیا تو محض سابقہ فتویٰ کی بنیاد پر واقع شدہ طلاق ساقط نہیں ہوسکتی، کیونکہ فتویٰ سائل کے بیان کردہ واقعات کے مطابق دیا جاتا ہے، اور غلط بیانی یا حقائق چھپا کر حاصل کیا گیا فتویٰ فی نفس الامر حرام کو حلال نہیں کرسکتا۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «إِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَيَّ، وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَلْحَنُ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ بِحَقِّ أَخِيهِ شَيْئًا بِقَوْلِهِ، فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ، فَلَا يَأْخُذْهَا»(صحیح البخاری، کتاب الشہادات، حدیث: 2680)
ترجمہ: "تم لوگ اپنے مقدمات میرے پاس لاتے ہو، اور ممکن ہے کہ تم میں سے کوئی شخص دوسرے کی نسبت اپنی دلیل پیش کرنے میں زیادہ چرب زبان ہو، پس اگر میں کسی شخص کے بیان کی بنا پر اس کے بھائی کے حق میں سے کوئی چیز اس کے حق میں فیصلہ کردوں تو میں درحقیقت اس کے لیے آگ کا ایک ٹکڑا کاٹ رہا ہوں، لہٰذا وہ اسے نہ لے۔"
لہٰذا اگر شوہر نے پہلی طلاق کے بارے میں بعد میں واقعتا ًخود صریح اقرار کیا ہے تو وہ طلاق شرعاً واقع شمار ہوگی، اور محض سابقہ فتویٰ اس کے وقوع کو ختم نہیں کرسکتا۔ پھر 29 جولائی 2026ء کو شوہر نے اپنی اہلیہ کو دو طلاقیں دیں اور بعد ازاں اپنی والدہ اور اہلِ خانہ کے سامنے بھی اس کا اقرار کیا، نیز اس واقعہ کے متعلق گواہان بھی موجود ہیں تو بیان کردہ صورت کے مطابق وہ دونوں طلاقیں بھی واقع ہوگئیں، چنانچہ پہلی ایک طلاق اور 29 جولائی کو دی گئی دو طلاقوں سے مجموعی طور پر تین طلاقیں مکمل ہوگئیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّىٰ تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ﴾(سورۃ البقرۃ: 229-230)
ترجمہ: طلاق دو مرتبہ ہے، پھر یا تو اچھے طریقے سے روک لینا ہے یا احسان کے ساتھ رخصت کردینا ہے، پھر اگر وہ اسے (تیسری مرتبہ) طلاق دے دے تو اس کے بعد وہ عورت اس کے لیے حلال نہیں ہوگی، یہاں تک کہ وہ کسی دوسرے شوہر سے نکاح کرے۔
لہٰذا پوچھی گئی صورت میں مذکورہ عورت پر تین طلاقیں مکمل ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوگئی ہے، اب شوہر کو رجوع کا حق حاصل نہیں اور نہ ہی دونوں باہمی رضامندی سے دوبارہ نکاح کرسکتے ہیں، البتہ اگر عورت کسی دوسرے مرد سے حقیقی اور شرعی نکاح کرے، پھر دوسرا شوہر اپنی مرضی سے طلاق دے یا اس کا انتقال ہوجائے اور عورت اس کی عدت بھی پوری کرلے تو اس کے بعد سابق شوہر سے نیا نکاح ہوسکتا ہے۔ اس سلسلے میں قرآن کریم کا حکم ہے: ﴿فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّىٰ تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ﴾(سورۃ البقرۃ: 230)
ترجمہ: پھر اگر وہ اسے (تیسری) طلاق دے دے تو اس کے بعد وہ اس کے لیے حلال نہیں ہوگی، یہاں تک کہ وہ کسی دوسرے شوہر سے نکاح کرے۔
نیز فقہائے احناف نے واضح طور پر لکھا ہے کہ جب عورت کو اپنے شوہر کی طلاق کا علم ہوجائے تو وہ شوہر کو اپنے اوپر قدرت نہیں دے سکتی۔ چنانچہ رد المحتار میں ہے: «وَالْمَرْأَةُ كَالْقَاضِي إِذَا سَمِعَتْهُ أَوْ أَخْبَرَهَا عَدْلٌ لَا يَحِلُّ لَهُ تَمْكِينُهُ»(رد المحتار على الدر المختار، کتاب الطلاق، 3/251 دار الفكر-بيروت)
ترجمہ: عورت قاضی کی مانند ہے؛ جب وہ خود طلاق کی بات سن لے یا کوئی عادل شخص اسے طلاق کی خبر دے دے تو اس کے لیے شوہر کو اپنے نفس پر اختیار دینا حلال نہیں۔
اسی طرح البحر الرائق میں ہے: «وَالْمَرْأَةُ كَالْقَاضِي إِذَا سَمِعَتْهُ أَوْ أَخْبَرَهَا عَدْلٌ لَا يَحِلُّ لَهَا تَمْكِينُهُ»(البحر الرائق، کتاب الطلاق، 3/277، ط: دار الکتاب الاسلامی)
ترجمہ: عورت قاضی کی مانند ہے؛ جب وہ طلاق خود سن لے یا کوئی عادل شخص اسے طلاق کی خبر دے دے تو اس کے لیے شوہر کو اپنے اوپر اختیار دینا حلال نہیں۔
لہٰذا پوچھی گئی صورت میں جب مذکورہ عورت کو شوہر کی طرف سے واقع ہونے والی تین طلاقوں کا علم ہوچکا ہے اور مذکورہ واقعات شوہر کے اقرار اور گواہان وغیرہ سے ثابت ہیں تو اس کے لیے شوہر کے ساتھ بطورِ زوجہ رہنا، ازدواجی تعلق قائم کرنا یا اسے اپنے اوپر میاں بیوی کی حیثیت سے اختیار دینا جائز نہیں۔ اسی طرح شوہر کے لیے بھی تین طلاقوں کے بعد مذکورہ عورت کو اپنی منکوحہ سمجھ کر اس کے ساتھ ازدواجی تعلق قائم کرنا جائز نہیں۔
رہی سابقہ فتویٰ نمبر 59434 کی حیثیت تو اگر وہ واقعی شوہر کی غلط بیانی اور پہلی طلاق کے انکار کی بنیاد پر جاری ہوا تھا تو اس فتویٰ کو موجودہ حقیقت کے خلاف ازدواجی تعلق برقرار رکھنے کے لیے دلیل نہیں بنایا جاسکتا۔ سابقہ فتویٰ میں بھی رد المحتار 3/251 کے حوالے سے یہی اصول مذکور ہے کہ عورت کو طلاق کا علم ہوجانے کے بعد شوہر کو قدرت دینا جائز نہیں۔
لہٰذا موجودہ صورت میں دونوں کے لیے فوراً علیحدگی اختیار کرنا لازم ہے اور تمام اصل دستاویزات، اسٹامپ پیپر، پنچایت کی تحریر، گواہان کے بیانات اور سابقہ فتویٰ نمبر 59434 کی نقل کسی مستند دارالافتاء کے سامنے پیش کرکے اس فتویٰ کی باقاعدہ تصحیح و تنسیخِ سابقہ رائے کے بارے میں تحریری فیصلہ حاصل کیا جائے، تاکہ آئندہ کے لیے شرعی اور قانونی دونوں اعتبار سے معاملہ واضح رہے۔
.....................................
الدلائل:
القرآن الكريم( سورۃ البقرۃ: 229-230)۔:
﴿الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّىٰ تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ﴾
صحيح البخاري(کتاب الشہادات، حدیث: 2680):
«إِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَيَّ، وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَلْحَنُ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ بِحَقِّ أَخِيهِ شَيْئًا بِقَوْلِهِ، فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ، فَلَا يَأْخُذْهَا»
صحيح مسلم(کتاب الأقضیۃ، حدیث: 1713):
«إِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَيَّ، وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُونَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ، فَأَقْضِيَ لَهُ عَلَى نَحْوِ مَا أَسْمَعُ مِنْهُ، فَمَنْ قَطَعْتُ لَهُ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ شَيْئًا، فَلَا يَأْخُذْهُ، فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ بِهِ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ»
رد المحتار على الدر المختار(کتاب الطلاق، 3/251 دار الفكر-بيروت):
«وَالْمَرْأَةُ كَالْقَاضِي إِذَا سَمِعَتْهُ أَوْ أَخْبَرَهَا عَدْلٌ لَا يَحِلُّ لَهُ تَمْكِينُهُ»
البحر الرائق(کتاب الطلاق، 3/277 دار الکتاب الاسلامی):
«وَالْمَرْأَةُ كَالْقَاضِي إِذَا سَمِعَتْهُ أَوْ أَخْبَرَهَا عَدْلٌ لَا يَحِلُّ لَهَا تَمْكِينُهُ»
واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی