resize-left-dar mid-dar right-dar
✨ Ask AI

عنوان: شوہر کی اولاد کی تربیت میں بے توجہی کی وجہ سے طلاق لینے کا حکم

(64708-No)

سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
محترم شیخ صاحب! اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے اور برکتوں سے نوازے۔
1. اگر ایک ماں دیکھتی ہے کہ والد اپنے بچوں سے محبت کرتے ہیں، ان کی زندگی میں موجود ہیں اور ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں، لیکن کئی سالوں تک بچوں کی دینی تربیت اور گھر میں دینی ماحول قائم رکھنے میں وہ اس کے مطلوبہ درجے میں شریکِ کار نہیں رہے، اور اب انہوں نے اپنی کوتاہیوں کو تسلیم کرتے ہوئے حقیقی طور پر تبدیلی کی کوشش شروع کردی ہے تو شریعت کی روشنی میں وہ ان تمام امور کو کس طرح سامنے رکھ کر فیصلہ کرے؟
2. ایسی صورت میں کیا صلح کی حقیقی گنجائش کو موقع دینا اور شوہر کی شروع کردہ تبدیلی کے اخلاص اور تسلسل کو جانچنا ترجیح ہونی چاہیے، خصوصاً اس مقصد سے کہ خاندان قائم رہے اور والدین دونوں بچوں کے ساتھ موجود رہیں؟ یا بعض حالات میں کئی سال کی شدید تھکن اور جذباتی طور پر بالکل نڈھال ہوجانے کے بعد ماں کی دینی و نفسیاتی سلامتی اور بچوں کے لیے ایک مستحکم اسلامی ماحول بھی علیحدگی اختیار کرنے کے لیے معتبر سبب ہوسکتا ہے، اگرچہ والد اپنی اولاد سے محبت کرتے ہوں اور ان کی دیکھ بھال کرتے ہوں؟
3. ماں کس طرح یہ فرق واضح کرسکتی ہے کہ طلاق کا فیصلہ محض تکلیف، شدید تھکن، وسوسوں اور خوف کی وجہ سے پیدا ہورہا ہے یا یہ فیصلہ واضح سوچ، بصیرت، استخارہ اور اللہ تعالیٰ پر توکل کے نتیجے میں سامنے آرہا ہے؟
4. اسے شوہر کے موجودہ رویے میں آنے والی تبدیلی کے مقابلے میں گزشتہ پندرہ سال کے تجربات کو کس طرح دیکھنا چاہیے؟
5. کیا اس کے لیے یہ مناسب اور حکمت کے مطابق ہوگا کہ وہ ایک متعین مدت تک شوہر کی تبدیلی کو دیکھے کہ آیا یہ تبدیلی مستقل اور پائیدار ہے یا نہیں؟ یا اگر وہ انتہائی درجے کی تھکن کا شکار ہوچکی ہو تو کیا اس کے لیے یہ کہنا شرعاً قابلِ قبول ہے کہ اب وہ مزید ازدواجی زندگی جاری رکھنے کی استطاعت نہیں رکھتی، اگرچہ شوہر نے اب تبدیلی کی کوشش شروع کردی ہو؟
6. اس فیصلے میں بچوں کی مصلحت کو کس طرح ملحوظ رکھا جائے؟ کیا بچوں کی بنیادی مصلحت یہی ہے کہ جب صلح کی حقیقی امید موجود ہو تو والدین ایک ساتھ رہیں یا بعض حالات میں ایسے گھر میں رہنا جہاں میاں بیوی کے درمیان شدید تھکن، اعتماد کا فقدان اور باہمی تعلق میں کمزوری پیدا ہوچکی ہو، بچوں کے لیے زیادہ نقصان دہ ہوسکتا ہے؟
7. اگر طلاق ہوجائے تو بچوں کا اپنے والد کے ساتھ تعلق اور ان کی زندگی اور تربیت میں والد کا کردار کس طرح برقرار رکھا جاسکتا ہے، تاکہ طلاق کے نتیجے میں بچے اپنے والد سے محروم نہ ہوجائیں؟
8. آخر میں حتمی طور پر ازدواجی زندگی جاری رکھنے یا طلاق کا فیصلہ کرنے سے پہلے بیوی کو اپنے اندر، اپنے شوہر میں اور بچوں کے حالات میں کن امور کا جائزہ لینا چاہیے، تاکہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق صلح کی کوشش بھی کرچکی ہو اور اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی ذمہ داری بھی پوری کرچکی ہو؟

جواب: آپ کے سوالات کے جوابات درج ذیل ہے:
1) شریعت کی روشنی میں فیصلہ کرنے کا بنیادی اصول
شریعتِ مطہرہ کا اصل تقاضا یہ ہے کہ جب تک نباہ اور اصلاح کی ادنیٰ سی امید بھی باقی ہو، نکاح کے بندھن کو بچانے کی پوری کوشش کی جائے (وَالصُّلْحُ خَيْرٌ—النساء: 128) جب والد بچوں سے محبت رکھتا ہو، ان کی دیکھ بھال کرتا ہو، اور اب اپنی کوتاہیوں کا اعتراف کر کے دینی تربیت میں عملی شرکت شروع کر چکا ہو تو یہ صورتِ حال طلاق کا مطالبہ کرنے کے بجائے اللہ کے شکر اور ایک سنجیدہ و مخلصانہ موقع دینے کی متقاضی ہے۔
2) صلح کی ترجیح بمقابلہ طویل تھکن کی بنیاد پر علیحدگی
•صلح کو ترجیح دینا: شریعت میں پہلی ترجیح خاندان کو قائم رکھنا اور شوہر کی تبدیلی کے اخلاص و تسلسل کو جانچنا ہے۔ طلاق مباحات میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ امر ہے، اس لیے محض تھکن کو بنیاد بنا کر رشتہ توڑنا شرعی مصلحت کے خلاف ہے۔
•تھکن کا شرعی مقام: پندرہ سالہ تنہا جدوجہد اور شدید تھکن (Burnout) ایک حقیقی انسانی عذر تو ہے، لیکن اس کا علاج آرام، تقسیمِ کار اور ذمہ داریوں سے عارضی دستبرداری ہے، نہ کہ فوری طلاق، البتہ اگر بیوی کے دل میں شوہر کے لیے اس قدر شدید کراہت یا نفرت پیدا ہو چکی ہو کہ وہ ساتھ رہ کر اللہ کی حدود (شوہر کے حقوق اور باہمی حسنِ سلوک) پامال ہونے کا قطعی اندیشہ محسوس کرے تو ایسی مجبوری میں خلع یا علیحدگی کی گنجائش ہوتی ہے، تاہم جب تک یہ انتہا نہ ہو، صلح کو موقع دینا ہی افضل اور متقاضیِ شریعت ہے۔

3) تھکن و وسوسوں اور بصیرت و استخارے میں فرق
•تکلیف، تھکن اور وسوسوں پر مبنی فیصلہ: اگر طلاق کی خواہش ذہنی انتشار، مستقل بے چینی، ماضی کے دکھوں کی جگالی، غصے، "اگر مگر" کے خوف، اور ذمہ داریوں سے فوری بھاگنے کی اضطراری کیفیت سے پیدا ہو رہی ہو تو یہ فیصلہ بصیرت نہیں بلکہ نفسیاتی دباؤ اور شیطانی وسوسوں کا اثر ہے۔ شیطان کا سب سے بڑا ہدف میاں بیوی میں جدائی ڈالنا ہے۔
•بصیرت، استخارہ اور توکل پر مبنی فیصلہ: بصیرت کا فیصلہ پرسکون دل، ٹھنڈے اعصاب اور تمام نفع و نقصان کے عادلانہ جائزے کے بعد سامنے آتا ہے۔ اگر دل میں انتقام، بیزاری یا خوف کے بجائے اللہ کی رضا، بچوں کی حقیقی خیرخواہی اور بغیر کسی اشتعال کے اطمینان ہو تو اسے شرعی بصیرت اور توکل کا نتیجہ سمجھا جائے گا۔
4) شوہر کے موجودہ رویے اور گزشتہ پندرہ سال کے تجربات کا تقابل
شریعت کا ضابطہ ہے: الْعِبْرَةُ بِالْخَوَاتِيمِ (اعتبار اختتام اور موجودہ کیفیت کا ہوتا ہے)۔ ماضی کے پندرہ سالوں میں غفلت ضرور رہی، لیکن اب جب کہ شوہر اپنی غلطی مان کر رجوع الی اللہ کر رہا ہے تو ماضی کی بنیاد پر اس کی سچی توبہ اور عملی کوشش کو یکسر جھٹلا دینا عدل کے خلاف ہے۔ ماضی کو سبق کے طور پر دیکھا جائے تاکہ آئندہ کے اصول طے ہو سکیں، لیکن اسے شوہر پر مستقل فردِ جرم اور تاحیات نااہلی کا پروانہ نہ بنایا جائے۔
5) متعین مدت تک جانچنا اور طلاق کی استطاعت کا دعویٰ
•آزمائشی مدت: حکمت اور مصلحت کا عین تقاضا یہی ہے کہ فوری علیحدگی کے بجائے شوہر کو 6 ماہ سے ایک سال کی ایک باقاعدہ آزمائشی مدت دی جائے، جس میں اس کی استقامت، اخلاص اور عمل کی پائیداری کو دیکھا جائے۔
•استطاعت کا عذر: شدید تھکن کی حالت میں فوری طور پر یہ فیصلہ کر لینا کہ "مجھ میں مزید نباہ کی استطاعت نہیں" اکثر اوقات وقتی دباؤ کا ردِ عمل ہوتا ہے۔ جب شوہر بوجھ بانٹنے کو تیار ہے تو بیوی کو چاہیے کہ وہ اپنی توانائی بحال کرے، کونسلنگ جاری رکھے اور شوہر کو عمل کا موقع دے، اس مہلت کے بغیر استطاعت کے ختم ہونے کا حتمی دعویٰ کرنا شرعاً قبل از وقت ہے۔

6) بچوں کی مصلحت کا تعین
•والدین کا اکٹھے رہنا: جب والد شفیق ہو اور اب خود باعمل بن کر بچوں کی دینی تربیت کا حامی بن رہا ہو تو بچوں کے حق میں قطعی مصلحت والدین کے ایک ساتھ رہنے میں ہے۔
•گھریلو فضا کی درستی: یہ بات درست ہے کہ مستقل جھگڑوں اور بدگمانیوں والا گھر بچوں کے لیے زہرِ قاتل ہوتا ہے، لیکن چونکہ اب شوہر خود اصلاح پر آمادہ ہے، اس لیے بچوں کو اس زہر سے بچانے کا درست راستہ طلاق نہیں بلکہ میاں بیوی کے تعلق کی باہمی اصلاح ہے۔ طلاق کے نتیجے میں بچوں کو لگنے والے نفسیاتی، اخلاقی اور معاشرتی صدمات ماں کی تنہا دینی تربیت سے بھی بسا اوقات سنبھل نہیں پاتے۔
7) طلاق کی صورت میں والد کے کردار اور تعلق کا تحفظ
اگر تمام تر مخلصانہ کوششوں کے بعد بھی نباہ نہ ہو سکے اور طلاق ناگزیر ہو جائے:
•حقِ ملاقات و تربیت: شریعت نے پرورش (حضانت) کا حق ایک خاص عمر تک ماں کو دیا ہے، لیکن ولایت اور نفقہ بدستور والد کا فریضہ ہے۔ بچوں کو باپ سے ملنے، ان کے ساتھ وقت گزارنے اور باپ کی شفقت حاصل کرنے سے روکنا سخت ناجائز ہے۔
•والد کا وقار: ماں پر لازم ہوگا کہ وہ بچوں کے سامنے والد کی شخصیت کو داغدار نہ کرے، بچوں کے دلوں میں والد کی محبت اور احترام کو زندہ رکھے، اور دینی و اخلاقی معاملات میں والد کو باقاعدہ باخبر اور شریک رکھے تاکہ وہ محرومی کا شکار نہ ہوں۔
8) حتمی فیصلے سے قبل تینوں زاویوں کا جائزہ
طلاق یا نباہ کا حتمی قدم اٹھانے سے پہلے بیوی کو درج ذیل امور کا گہرائی سے جائزہ لینا چاہیے:
•اپنے باطن میں:کیا میرا طلاق کا تقاضا محض تھکن اور ماضی کی تلخیوں کا ردِعمل ہے یا واقعی شوہر کے ساتھ رہ کر مجھ سے اللہ کی نافرمانی اور حدود کی پامالی کا اندیشہ ہے؟
کیا میں اللہ کی رضا کے خاطر شوہر کو معاف کرنے اور اس کی توبہ کو کھلے دل سے قبول کرنے کا ظرف رکھتی ہوں؟
•شوہر کے احوال میں:
کیا شوہر کی تبدیلی محض زبانی وعدہ ہے یا اس کے معمولات، نمازوں، اخلاق اور بچوں کے ساتھ برتاؤ میں عملی استقامت نظر آ رہی ہے؟
کیا وہ واقعی گھر اور بچوں کی ذمہ داریوں کا بوجھ بانٹ کر بیوی کو ذہنی و جسمانی سکون فراہم کر رہا ہے؟
•بچوں کے احوال میں:
طلاق کے بعد کیا بچے اپنے والد کے پیار اور سائے سے محروم ہو کر زیادہ انتشار کا شکار تو نہیں ہوں گے؟
موجودہ دور کے فتنوں میں کیا اکیلی ماں کے لیے تمام چیلنجز کا سامنا کرنا اس کی نسبت آسان ہوگا جو ایک تائب اور ذمہ دار باپ کی موجودگی میں ہو سکتا ہے؟
نتیجہ و نصیحت:
طلاق کے ارادے اور "عدت گزار کر بعد میں نیا نکاح کرنے" کے غیر حقیقت پسندانہ خیال کو فی الحال مکمل طور پر موقوف رکھا جائے۔ شوہر کو ایک متعین آزمائشی مدت (مثلاً 6 ماہ سے ایک سال) دی جائے، جس میں بیوی اپنا بوجھ شوہر پر ڈال کر خود کو آرام اور روحانی بحالی کا موقع دے۔ اگر شوہر اپنی تبدیلی پر قائم رہتا ہے تو اللہ کا شکر ادا کر کے اس رشتے کو بچایا جائے اور اگر خدانخواستہ وہ ناکام رہا تو بیوی ہر قسم کی شرعی، اخلاقی اور ضمیری ملامت سے پاک ہو کر علیحدگی کا فیصلہ کرنے میں پوری طرح حق بجانب ہوگی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القرآن الكريم} [النساء: 128:
(وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِن بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَن يُصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًا ۚ وَالصُّلْحُ خَيْرٌ.


سنن أبي داود (رقم الحديث: 4919)، وجامع الترمذي (رقم الحديث: 2509):
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَفْضَلَ مِنْ دَرَجَةِ الصِّيَامِ وَالصَّلَاةِ وَالصَّدَقَةِ؟» قَالُوا: بَلَى، قَالَ: «إِصْلَاحُ ذَاتِ الْبَيْنِ، وَفَسَادُ ذَاتِ الْبَيْنِ هِيَ الْحَالِقَةُ».

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (ج 3، ص 145، ط: دار الكتب العلمية):
»وَإِنْ كَانَ الطَّلَاقُ لِحَاجَةٍ، وَهِيَ كَرَاهَةُ الزَّوْجِ لَهَا؛ لِأَنَّهُ إذَا كَرِهَهَا لَمْ يَبْقَ بَيْنَهُمَا مَا هُوَ الْمَقْصُودُ مِنْ النِّكَاحِ، وَهُوَ السَّكَنُ، وَالْمَوَدَّةُ، وَالرَّحْمَةُ، بَلْ قِيَامُ الْعَدَاوَةِ، وَالْبَغْضَاءِ، وَالشِّقَاقِ، فَيَكُونُ حَاجَةً، فَيُبَاحُ لَهُ الطَّلَاقُ... فَأَمَّا إذَا كَانَتْ الْأُلْفَةُ وَالْمَحَبَّةُ قَائِمَةً بَيْنَهُمَا فَلَا حَاجَةَ، فَيَكُونُ إيقَاعُ الطَّلَاقِ جُحُودًا لِنِعْمَةِ اللَّهِ تَعَالَى، وَذَلِكَ حَرَامٌ«

سنن أبي داود (رقم الحديث: 2226)، وجامع الترمذي (رقم الحديث: 1187):
عَنْ ثَوْبَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَيُّمَا امْرَأَةٍ سَأَلَتْ زَوْجَهَا طَلَاقًا فِي غَيْرِ مَا بَأْسٍ فَحَرَامٌ عَلَيْهَا رَائِحَةُ الْجَنَّةِ».

صحيح مسلم (رقم الحديث: 2813):
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ إِبْلِيسَ يَضَعُ عَرْشَهُ عَلَى الْمَاءِ، ثُمَّ يَبْعَثُ سَرَايَاهُ... فَيَجِيءُ أَحَدُهُمْ فَيَقُولُ: مَا تَرَكْتُهُ حَتَّى فَرَّقْتُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ امْرَأَتِهِ، قَالَ: فَيُدْنِيهِ مِنْهُ وَيَقُولُ: نِعْمَ أَنْتَ».

البحر الرائق شرح كنز الدقائق (ج 3، ص 252، ط: دار الكتاب الإسلامي):
»وَالْأَصْلُ فِيهِ الْحَظْرُ؛ لِأَنَّ فِيهِ قَطْعَ النِّكَاحِ الَّذِي تَعَلَّقَتْ بِهِ الْمَصَالِحُ الدِّينِيَّةُ وَالدُّنْيَوِيَّةُ، وَقَدْ شُرِعَ لِتَكْثِيرِ عِبَادِ اللَّهِ تَعَالَى وَأُمَّةِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، وَإِنَّمَا أُبِيحَ لِلْحَاجَةِ إلَى الْخَلَاصِ عِنْدَ تَبَايُنِ الْأَخْلَاقِ وَعُرُوضِ الْبَغْضَاءِ الْمُوجِبَةِ لِعَدَمِ إقَامَةِ حُدُودِ اللَّهِ تَعَالَى«

رد المحتار على الدر المختار (ج 3، ص 228، ط: دار الفكر-بيروت):
»(قَوْلُهُ: أَبْغَضُ الْمُبَاحَاتِ) أَيْ الْمُبَاحَةِ فِي بَعْضِ الْأَوْقَاتِ أَعْنِي أَوْقَاتَ الضَّرُورَةِ، أَوْ أُرِيدَ بِالْمُبَاحِ مَا لَيْسَ فِيهِ عِقَابٌ، وَالْمُرَادُ بِالْغَضَبِ الزَّجْرُ عَنْهُ وَالنَّهْيُ... وَفِي الْبَحْرِ: أَنَّ الْأَصْلَ فِيهِ الْحَظْرُ، وَأَنَّهُ لَا يُبَاحُ إلَّا لِحَاجَةٍ، وَهِيَ تَعَذُّرُ الْمُوَافَقَةِ«

رد المحتار على الدر المختار (ج 3، ص 441، ط: دار الفكر-بيروت):
»(قَوْلُهُ: وَكُرِهَ لَهَا أَيْضًا) أَيْ كُرِهَ لِلْمَرْأَةِ أَنْ تَخْتَلِعَ إذَا كَانَ النُّشُوزُ مِنْ قِبَلِهَا أَوْ لَا نُشُوزَ مِنْ وَاحِدٍ مِنْهُمَا لِحَدِيثِ: «أَيُّمَا امْرَأَةٍ سَأَلَتْ زَوْجَهَا طَلَاقًا مِنْ غَيْرِ بَأْسٍ فَحَرَامٌ عَلَيْهَا رَائِحَةُ الْجَنَّةِ»«
3صحيح البخاري (رقم الحديث: 6607):
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «وَإِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالْخَوَاتِيمِ».

صحيح البخاري (رقم الحديث: 5273):
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ امْرَأَةَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: «يَا رَسُولَ اللَّهِ، ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ مَا أَعْتِبُ عَلَيْهِ فِي خُلُقٍ وَلَا دِينٍ، وَلَكِنِّي أَكْرَهُ الْكُفْرَ فِي الْإِسْلَامِ»، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ؟» قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اقْبَلِ الْحَدِيقَةَ وَطَلِّقْهَا تَطْلِيقَةً».

المبسوط للسرخسي (ج 6، ص 173، ط: دار المعرفة-بيروت):
»قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: {فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ}
[البقرة: 229] ... وَالْمَعْنَى فِيهِ أَنَّ الزَّوْجَيْنِ إذَا رَأَيَا أَنَّهُمَا لَا يَتَّفِقَانِ، وَخَافَا أَنْ لَا يُؤَدِّيَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا حَقَّ صَاحِبِهِ جَازَ لَهُمَا أَنْ يَصْطَلِحَا عَلَى الْفِرَاقِ بِمَالٍ«(لَا تُضَارَّ وَالِدَةٌ بِوَلَدِهَا وَلَا مَوْلُودٌ لَّهُ بِوَلَدِهِ} [البقرة: )

سنن أبي داود (رقم الحديث: 2276)، وجامع الترمذي (رقم الحديث: 1157):
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ وَالِدَةٍ وَوَلَدِهَا فَرَّقَ اللَّهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَحِبَّتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ».

الفتاوى الهندية (ج 1، ص 543، ط: دار الفكر-بيروت):
»وَإِذَا كَانَ الْوَلَدُ عِنْدَ أَحَدِ الْأَبَوَيْنِ لَا يُمْنَعُ الْآخَرُ عَنْ النَّظَرِ إلَيْهِ وَتَعَهُّدِهِ، كَذَا فِي فَتَاوَى قَاضِي خَانْ«
رد المحتار على الدر المختار (ج 3، ص 571، ط: دار الفكر-بيروت):
»(قَوْلُهُ: لَا يُمْنَعُ أَحَدُهُمَا مِنْ رُؤْيَتِهِ) أَيْ لَا تُمْنَعُ الْأُمُّ إذَا كَانَ عِنْدَ الْأَبِ، وَلَا يُعْطَى لَهَا بَلْ يُؤْمَرُ الْأَبُ بِأَنْ يَأْتِيَ بِهِ إلَيْهَا كُلَّ أَيَّامٍ لِتَرَاهُ؛ وَكَذَا لَا يُمْنَعُ الْأَبُ إذَا كَانَ عِنْدَهَا، بَلْ يُؤْمَرُ بِأَنْ يَذْهَبَ إلَيْهِ لِيَرَاهُ وَيَتَعَهَّدَهُ كُلَّ يَوْمٍ أَوْ كُلَّ جُمُعَةٍ عَلَى مَا فِي الْبَحْرِ«

واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Divorce