سوال:
مفتی صاحب! رہنمائی فرمائیں کہ دو سگے بھائی ایک سنی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں، لیکن ان میں سے ایک بھائی نے اہل تشیع مذہب اختیار کرلیا ہے، جبکہ دوسرا بھائی سنی ہے۔ اہل تشیع بھائی اپنے عقائد کے مطابق نذر و نیاز وغیرہ کا اہتمام کرتا رہتا ہے، جسے اس کا سنی بھائی اور بھابھی پسند نہیں کرتے۔ اس وجہ سے سنی بھائی اور بھابھی نے الگ گھر میں رہنا شروع کردیا، خاندان کے دیگر افراد نے انہیں سمجھایا کہ اگرچہ الگ رہائش اختیار کرلیں، لیکن آپس کے تعلقات برقرار رکھیں اور ایک دوسرے سے ملتے جلتے رہیں۔ تاہم، سنی بھائی اور بھابھی کا کہنا ہے کہ چونکہ وہ اہل تشیع ہے، اس لیے اس کے ساتھ میل جول مناسب نہیں، بلکہ بھابھی نے اسے اپنا نامحرم بھی قرار دیا ہے۔
اب صورتِ حال یہ ہے کہ اہل تشیع بھائی تنہا رہ گیا ہے۔ اس کے بھائی نے گھر تبدیل کیا تو اسے نئے گھر کا پتا بھی نہیں بتایا۔ بعد میں جب اہل تشیع بھائی اپنے بھائی کے گھر گیا تو بھائی گھر پر موجود نہیں تھا۔ اس کے بعد اسے یہ کہہ کر منع کیا گیا کہ آنے سے پہلے اطلاع دے کر آیا کرو، اور آئندہ یہاں نہ آیا کرو۔ یہاں تک کہ تین مرتبہ دروازے کی گھنٹی بجانے کے بعد واپس چلے جانے پر بھی اسے طعنے دیے گئے کہ تم یہاں آئے ہی کیوں تھے۔ اہل تشیع بھائی عمر میں چھوٹا ہے، خاندان کے افراد اس کے عقائد سے اتفاق نہیں کرتے، لیکن اس کے ساتھ تعلقات اور میل جول برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
مفتی صاحب! دریافت طلب امر یہ ہے کہ اسلام کی تعلیمات کی روشنی میں ایک سگے بھائی کے ساتھ اس طرح کا رویہ اختیار کرنا، محض اس کے مسلکی اختلاف کی وجہ سے قطع تعلق کرنا اور اسے تنہا چھوڑ دینا کہاں تک درست ہے؟ کیا دینِ اسلام اس طرح بھائی کو بھائی سے جدا کرنے کی اجازت دیتا ہے؟ میرا مقصد کسی ایک مسلک کی حمایت یا مخالفت کرنا نہیں، بلکہ انسانی ہمدردی اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اس مسئلے کا درست حل معلوم کرنا ہے۔ براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں شرعی رہنمائی فرمائیں کہ ایسی صورتِ حال میں دونوں بھائیوں کو کیا طرزِ عمل اختیار کرنا چاہیے؟
جواب: اہل تشیع اور اہل سنت کے درمیان بنیادی عقائد میں اختلاف پایا جاتا ہے، بطورِ خاص اثناعشری شیعہ صحابہ کرامؓ سے متعلق انتہائی غلط عقائد رکھتے ہیں، اس لیے ایک بھائی کے اہل تشیع ہوجانے کے بعد اگر سنی بھائی اس کے ساتھ ایک گھر میں نہیں رہنا چاہتا تو اسے علیحدہ گھر میں رہنے کا شرعی و قانونی حق حاصل ہے، نیز سارے خاندان کے اس کے طرف دار ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ درست بھی ہے، بلکہ اہل تشیع ہونے والے کو ہی یہ سمجھایا جائے کہ اہل حق فرقہ کی علامت رسول اللہ ﷺ نے یہ بیان فرمائی ہے: "ما أنا عليه وأصحابي" یعنی "وه جو میری (رسول اللہ ﷺ) کی سنت اور میرے صحابہ کے راستے پر رہے"۔ (ترمذی، حدیث نمبر:2832)
جبکہ اہل تشیع حضراتِ صحابہ کرام سے متعلق انتہائی غلط نظریات و عقائد رکھتے ہیں، لہٰذا اہل تشیع ہوجانے والے شخص کو چاہیے کہ اپنے غلط عقائد سے توبہ کرے، اور اپنے مذہب کو درست کرنے کا اہتمام کرے۔
دوسری طرف سنی بھائی اور دیگر تمام رشتے داروں کو چاہیے کہ اس سے مکمل اور فوری طور پر ترکِ تعلقات کے بجائے اس کے واپس راہِ راست پر آنے کے لیے کوشش کریں، اس کے شبہات کو دور کریں، اور راہِ راست پر آنے کی دعوت دیں، اگر بہت کوشش کے باوجود بھی وہ توبہ تائب نہیں ہوتا، اور اپنے باطل عقائد پر ہی جما رہتا ہے تو اس کے ساتھ تعلقات اور رواداری کو انتہائی محدود کردیا جائے، کیونکہ ایسے لوگوں کو ہر طرح سمجھا دینے کے باوجود اُن سے ہمدردی کرنا اور تعلقات میں گرمجوشی رکھنا ان کے باطل عقائد و نظریات کی معاونت ہے، جس سے اجتناب لازم ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*سنن الترمذي: (4/ 586، رقم الحديث: 2832، ط: دار الرسالة العالمية)*
حدثنا محمود بن غيلان، قال: حدثنا أبو داود الحفري، عن سفيان، عن عبد الرحمن بن زياد بن أنعم الإفريقي، عن عبد الله بن يزيد، عن عبد الله بن عمرو، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ليأتين على أمتي ما أتى على بني إسرائيل حذو النعل بالنعل، حتى إن كان منهم من أتى أمه علانية لكان في أمتي من يصنع ذلك، وإن بني إسرائيل تفرقت على ثنتين وسبعين ملة، وتفترق أمتي على ثلاث وسبعين ملة، كلهم في النار إلا ملة واحدة»، قالوا: من هي يا رسول الله؟ قال: «ما أنا عليه وأصحابي».
*أحكام القرآن للجصاص: (3/ 3، ط: دار الكتب العلمية)*
ثم قال تعالى: {فلا تقعد بعد الذكرى مع القوم الظالمين} يعني: بعدما تذكر نهي الله تعالى لا تقعد مع الظالمين. وذلك عموم في النهي عن مجالسة سائر الظالمين من أهل الشرك وأهل الملة لوقوع الاسم عليهم جميعا، وذلك إذا كان في ثقة من تغييره بيده أو بلسانه بعد قيام الحجة على الظالمين بقبح ما هم عليه، فغير جائز لأحد مجالستهم مع ترك النكير سواء كانوا مظهرين في تلك الحال للظلم والقبائح أو غير مظهرين له؛ لأن النهي عام عن مجالسة الظالمين؛ لأن في مجالستهم مختارا مع ترك النكير دلالة على الرضا بفعلهم.
*عمدة القاري شرح صحيح البخاري: (22/ 144، ط: دار الفكر)*
(باب ما يجوز من الهجران لمن عصى) أي: هذا باب في بيان ما يجوز من الهجران لمن عصى، وقال المهلب: غرض البخاري من هذا الباب أن يبين صفة الهجران الجائز وأن ذلك متنوع على قدر الإجرام، فمن كان جرمه كثيرا فينبغي هجرانه واجتنابه وترك مكالمته... إلخ
*فتح الباري لابن حجر: (10/ 497، ط: المكتبة السلفية)*
قوله: (باب ما يجوز من الهجران لمن عصى) أراد بهذه الترجمة بيان الهجران الجائز؛ لأن عموم النهي مخصوص بمن لم يكن لهجره سبب مشروع، فتبين هنا السبب المسوغ للهجر، وهو لمن صدرت منه معصية، فيسوغ لمن اطلع عليها منه هجره عليها ليكف عنها.
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی