resize-left-dar mid-dar right-dar
✨ Ask AI

عنوان: منت کے الفاظ اور ان کا شرعی حکم

(64721-No)

سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! میں اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے دو ماہ تک ہر پیر کے دن روزہ رکھنے کی منت ماننا چاہتی ہوں۔ میری مراد یہ ہے کہ اگر زرناب میرے حق میں بہتر ہو تو اللہ تعالیٰ ہمارے لیے حلال نکاح کا راستہ آسان فرما دے۔ کیا اس طرح منت ماننا شرعاً درست ہے؟ اس کے صحیح الفاظ اور شرعی احکام کیا ہیں؟

جواب: واضح رہے کہ نذر کے منعقد ہونے کے لیے ایسے الفاظ کا ہونا ضروری ہے جو نذر کے الفاظ یا کسی عمل کو اپنے اوپر لازم کرنے پر دلالت کرتے ہوں، البتہ اگر نذر کو کسی شرط کے ساتھ معلق کیا جائے تو لزوم کے الفاظ کے بغیر بھی عرف کی بنا پر نذر منعقد ہو جائے گی۔
لہٰذا پوچھی گئی صورت میں محض یہ کہنا کہ ’’اگر زرناب میرے حق میں بہتر ہو تو اللہ تعالیٰ ہمارے لیے حلال نکاح کا راستہ آسان فرما دے‘‘، ان الفاظ سے نذر منعقد نہیں ہوگی، البتہ اگر آپ یہ الفاظ کہیں کہ ’’اگر میرا زرناب سے نکاح ہوگیا تو میں دو ماہ تک ہر پیر کا روزہ رکھوں گی‘‘ تو ان الفاظ سے نذر منعقد ہوجائے گی اور نکاح ہوجانے کی صورت میں دو ماہ تک ہر پیر کا روزہ رکھنا لازم ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

*بدائع الصنائع: (كتاب النذر، 81/5، ط: دار الكتب العلمية)*
ﻓﺮﻛﻦ اﻟﻨﺬﺭ ﻫﻮ اﻟﺼﻴﻐﺔ اﻟﺪاﻟﺔ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﻫﻮ ﻗﻮﻟﻪ: "ﻟﻠﻪ ﻋﺰ ﺷﺄﻧﻪ ﻋﻠﻲ ﻛﺬا، ﺃﻭ ﻋﻠﻲ ﻛﺬا، ﺃﻭ ﻫﺬا ﻫﺪﻱ، ﺃﻭ ﺻﺪﻗﺔ، ﺃﻭ ﻣﺎﻟﻲ ﺻﺪﻗﺔ، ﺃﻭ ﻣﺎ ﺃﻣﻠﻚ ﺻﺪﻗﺔ، ﻭﻧﺤﻮ ﺫﻟﻚ.

*الفتاوى الهندية: (210/1، ط: دار الفکر)*
ولو قال: إن عوفيت صمت كذا لم يجب حتى يقول لله علي، وهذا قياس، وفي الاستحسان يجب، وإن لم يكن تعليق لا يجب عليه قياسا، ولا استحسانا كذا في الظهيرية.

*مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح: (كتاب الصوم، ص:263،ط:المكتبة العصرية)*
فإن نذر نذرا مطلقا أو معلقا بشرط ووجد لزمه الوفاء به.

واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Ruling of Oath & Vows