سوال:
میری عمر 14 سال ہے اور میں بالغ ہو چکا ہوں، میرے والد بہت زیادہ غصے میں آگئے اور انہوں نے مجھ پر دباؤ ڈالا اور مجھے ڈرایا، جس کی وجہ سے میں نے اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر یہ کہا کہ میں نے نماز پڑھ لی ہے، حالانکہ میں نے نماز نہیں پڑھی تھی، میں بہت خوف زدہ تھا۔
بعد میں میں نے وہ چھوٹی ہوئی نماز ادا کرلی اور اپنے گناہ سے توبہ بھی کرلی، اب میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ کیا مجھ پر قسم کا کفارہ لازم ہے؟ اور اگر لازم ہے تو میں ایک نابالغ اور مالی طور پر والدین پر منحصر ہونے کی حیثیت سے اسے کیسے ادا کرسکتا ہوں؟
جواب: واضح رہے کہ گذشتہ زمانے کی کسی بات یا واقعے پر جھوٹی قسم کھانا ”یمینِ غموس“ کہلاتا ہے،ایسی قَسم کا کھانا گناہ گبیرہ ہے، البتہ اس قَسم کا مستقل کوئی کفّارہ نہیں ہے، بلکہ اس پر صرف سچے دل سے توبہ و استغفار لازم ہے، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں چونکہ آپ نے نماز نہ پڑھنے کے باوجود اللہ کی قسم کھا کر کہا کہ میں نے نماز پڑھ لی ہے تو یہ ”یمینِ غموس “ہے۔ اس کی وجہ سے آپ کے ذمے کفّارہ تو لازم نہیں، البتہ جھوٹی قسم کھانے کی وجہ سے آپ سچے دل سے توبہ و استغفار کریں اور آئندہ کے لیے جھوٹی قسم کھانے سے مکمل اجتناب کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*بدائع الصنائع: (3/3- 15، ط: دار الکتب العلمیة)*
أما يمين الغموس فهي الكاذبة قصدا في الماضي والحال على النفي أو على الإثبات وهي الخبر عن الماضي أو الحال فعلا أو تركا متعمدا للكذب في ذلك مقرونا بذكر اسم الله تعالى نحو أن يقول: والله ما فعلت كذا وهو يعلم أنه فعله، أو يقول: والله لقد فعلت كذا وهو يعلم أنه لم يفعله، أو يقول: والله ما لهذا علي دين وهو يعلم أن له عليه دينا فهذا تفسير يمين الغموس....وأما حكم اليمين بالله تعالى فيختلف باختلاف اليمين أما يمين الغموس فحكمها وجوب الكفارة لكن بالتوبة والاستغفار لأنها جرأة عظيمة حتى قال: الشيخ أبو منصور الماتريدي كان القياس عندي أن المتعمد بالحلف على الكذب يكفر لأن اليمين بالله تعالى جعلت للتعظيم لله - تعالى - والحالف بالغموس مجترئ على الله - عز وجل -
والله تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی