resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: آیتِ کریمہ کی نذر ماننے کا حکم

(63634-No)

سوال: السلام علیکم! میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہوئے کہا تھا: ’’یا اللہ! مجھے اس مصیبت سے نکال دے، میں ایک لاکھ پچیس ہزار مرتبہ آیتِ کریمہ پڑھوں گی۔‘‘ اب مجھے سمجھ نہیں آ رہا کہ شرعاً یہ نذر (منت) بنی تھی یا نہیں۔ اگر نذر بنی تھی تو کیا میرے لیے ایک لاکھ پچیس ہزار مرتبہ آیتِ کریمہ پڑھنا ضروری ہے؟ اگر میں اسے پورا نہ کر سکوں تو اس کا کیا کفارہ ہے؟ براہِ کرم فقہِ حنفی کے مطابق رہنمائی فرما دیں۔ جزاک اللہ خیراً

جواب: نذر کی صحّت کے لیے ضروری ہے کہ جس عمل کی نذر مانی جائے، وہ عبادتِ مقصودہ میں فرض یا واجب کی جنس سے ہو، چونکہ آیتِ کریمہ کا پڑھنا فرض یا واجب نہیں ہے، اس لیے مذکورہ نذر منعقد نہیں ہوئی، لہٰذا آپ پر ایک لاکھ پچیس ہزار مرتبہ آیتِ کریمہ پڑھنا لازم نہیں ہے، تاہم اگر آپ اسے پڑھ لیں تو ان شاء اللہ اجر و ثواب حاصل ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

المبسوط للسرخسی: (128/3، ط: دار المعرفة)
النذر إنما يصح بما يكون قربة مقصودة فأما ما ليس بقربة مقصودة فإنه لا يصح التزامه بالنذر لقوله - صلى الله عليه وسلم - «من نذر أن يطيع الله فليطعه ومن نذر أن يعصي الله فلا يعصه» ؛ لأن الناذر لا يجعل ما ليس بعبادة عبادة وإنما يجعل العبادة المشروعة نفلا واجبا بنذره، وما فيه معنى القربة ولكن ليس بعبادة مقصودة بنفسها كتشييع الجنازة وعيادة المريض لا يصح التزامه بالنذر.

واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Ruling of Oath & Vows