سوال:
اگر کسی شخص نے قسم کھائی ہو کہ: "واللہ! میں روزانہ سورۂ ملک (تبارک الذی بیدہ الملک) کی تلاوت کروں گا"، لیکن پھر ایک ہفتہ تک اس کی تلاوت نہ کرسکا تو اس پر کیا حکم ہوگا؟ کیا ہر دن تلاوت نہ کرنے کی وجہ سے الگ الگ کفارہ لازم ہوگا یا ایک ہی کفارہ کافی ہوگا؟
جواب: سوال میں ذکر کردہ الفاظ قَسم کے الفاظ ہیں، اس قِسم کے الفاظ سے صرف ایک ہی قَسم منعقد ہوتی ہے، لہذا قَسم کھانے والے شخص نے مذکورہ الفاظ کہنے کے بعد جب پہلی مرتبہ ایک مکمل شرعی دن سورۃ الملک پڑھے بغیر گزارا تو اس سے وہ حانِث ہوگیا، اور اس کی قَسم ختم ہوگئی، اب اس شخص پر لازم ہے کہ قسم پوری نہ کرنے پر توبہ و استغفار کرے اور قسم توڑے کا کفّارہ بھی ادا کرے، ایک مرتبہ حانث ہونے کے بعد اب مذکورہ الفاظ کی وجہ سے اس پر سورۃ المالک کا پڑھنا لازم نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*القرآن الکریم (سورۃ المائدہ، رقم الآیة:89)*
لَا یُؤَاخِذُکُمُ اللّٰہُ بِاللَّغۡوِ فِیۡۤ اَیۡمَانِکُمۡ وَ لٰکِنۡ یُّؤَاخِذُکُمۡ بِمَا عَقَّدۡتُّمُ الۡاَیۡمَانَ ۚ فَکَفَّارَتُہٗۤ اِطۡعَامُ عَشَرَۃِ مَسٰکِیۡنَ مِنۡ اَوۡسَطِ مَا تُطۡعِمُوۡنَ اَہۡلِیۡکُمۡ اَوۡ کِسۡوَتُہُمۡ اَوۡ تَحۡرِیۡرُ رَقَبَۃٍ ؕ فَمَنۡ لَّمۡ یَجِدۡ فَصِیَامُ ثَلٰثَۃِ اَیَّامٍ ؕ ذٰلِکَ کَفَّارَۃُ اَیۡمَانِکُمۡ اِذَا حَلَفۡتُمۡ ؕ وَ احۡفَظُوۡۤا اَیۡمَانَکُمۡ ؕ کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمۡ اٰیٰتِہٖ لَعَلَّکُمۡ تَشۡکُرُوۡنَ o
*الدر المختار: (3/843، ط: دارالفکر)*
(حَلَفَ لَا يَفْعَلُ كَذَا تَرَكَهُ عَلَى الْأَبَدِ) لِأَنَّ الْفِعْلَ يَقْتَضِي مَصْدَرًا مُنَكَّرًا وَالنَّكِرَةُ فِي النَّفْيِ تَعُمُّ (فَلَوْ فَعَلَ) الْمَحْلُوفَ عَلَيْهِ (مَرَّةً) حَنِثَ وَ(انْحَلَّتْ يَمِينُهُ) وَمَا فِي شَرْحِ الْمَجْمَعِ مِنْ عَدَمِهِ سَهْوٌ (فَلَوْ فَعَلَهُ مَرَّةً أُخْرَى لَا يَحْنَثُ) إلَّا فِي كُلَّمَا.
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی