resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: توبہ کے بعد قسم یا نذر کے بارے میں شک کا شرعی حکم

(52351-No)

سوال: مجھے ایک شرعی مسئلہ درپیش ہے، براہِ کرم رہنمائی فرما دیں۔
کچھ عرصہ پہلے میں نے ایک خاص کام کے پورا ہونے کے لیے اللہ تعالیٰ سے سچے دل سے توبہ کی تھی اور ارادہ کیا تھا کہ دوبارہ ایک مخصوص گناہ نہیں کروں گا۔ میں نے یہ بات زبان سے بھی ادا کی تھی اور غالباً نماز کے بعد دعا کے دوران بھی اللہ تعالیٰ سے یہی عہد کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہ کام آہستہ آہستہ آسان بھی ہوتا جا رہا تھا، لیکن بدقسمتی سے مجھ سے وہ گناہ دوبارہ ہو گیا، اب میں نے دوبارہ اللہ تعالیٰ سے سچے دل سے توبہ کر لی ہے اور اپنی غلطی پر بہت نادم ہوں۔
مجھے اتنا یاد ہے کہ اس وقت شاید میں نے یہ بھی نیت کی تھی کہ اگر دوبارہ یہ گناہ ہوا تو میں کچھ روزے رکھوں گا، لیکن اب مجھے نہ یہ یاد ہے کہ میں نے کن الفاظ میں یہ بات کہی تھی، نہ یہ یاد ہے کہ یہ نذر تھی، قسم تھی یا صرف ایک ذاتی عہد، اور نہ ہی یہ یاد ہے کہ کتنے روزے رکھنے کی نیت کی تھی۔
1) میرا سوال یہ ہے کہ ایسی صورت میں شریعت کے مطابق مجھ پر کیا لازم ہے؟
2) جب نہ وعدے کے الفاظ یاد ہوں، نہ روزوں کی تعداد یاد ہو تو میری ذمہ داری کیا بنتی ہے؟
3) کیا سچی توبہ کافی ہے یا مجھ پر کوئی کفارہ، روزے یا کوئی اور شرعی ذمہ داری لازم ہے؟ جزاکم اللہ خیراً

جواب: (1) سب سے پہلے یہ بات قابلِ اطمینان ہے کہ آپ کو اپنے گناہ پر حقیقی ندامت حاصل ہوئی اور آپ نے دوبارہ سچے دل سے اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ کر لی ہے۔ شریعت میں گناہ کے بعد اصل ذمہ داری توبة النصوح ہے، اور اگر توبہ اپنی شرائط (گناہ سے فوراً باز آنا، اس پر نادم ہونا اور آئندہ نہ کرنے کا پختہ عزم کرنا) کے ساتھ کی جائے تو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے گناہ معاف ہونے کی امید ہے۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ آپ نے دوبارہ گناہ کی صورت میں روزے رکھنے کا کوئی عہد، قسم یا نذر کی تھی تو چونکہ اب آپ کو اس کے الفاظ، نوعیت اور حقیقت کا یقین نہیں، اس لیے محض شک کی بنیاد پر آپ پر کسی قسم، نذر یا کفّارے کا وجوب ثابت نہیں ہوتا۔
2) ) چونکہ آپ کو یہ بھی یاد نہیں کہ وہ الفاظ شرعی نذر کے تھے، قسم کے تھے یا محض ذاتی عزم و ارادہ تھا، اور نہ ہی روزوں کی کوئی متعین تعداد یاد ہے، اس لیے اس معاملے میں اصل اصول یہی ہے کہ یقین شک سے زائل نہیں ہوتا۔ فقہائے کرام نے تصریح فرمائی ہے کہ محض شک اور احتمال سے کسی شخص کے ذمّہ کوئی واجب چیز لازم نہیں ہوتی، لہٰذا جب نہ صیغہ متعین ہے، نہ اس کی شرعی حیثیت معلوم ہے اور نہ مقدار یاد ہے تو آپ پر کسی متعین تعداد کے روزے، کفّارہ یا نذر کی ادائیگی لازم نہیں ہوگی، کیونکہ وجوب کے لیے یقین یا غالب گمان معتبر ہوتا ہے، محض وہم اور احتمال نہیں۔
3) ) بیان کردہ صورت میں سچی توبہ ہی آپ کی اصل شرعی ذمّہ داری ہے اور مذکورہ شک کی بنا پر آپ پر نہ کفارۂ قسم لازم ہے، نہ نذر کے روزے واجب ہیں اور نہ کوئی دوسری شرعی ذمہ داری ثابت ہوتی ہے، البتہ اگر اپنے دل کے اطمینان اور اللہ تعالیٰ کا مزید قرب حاصل کرنے کے لیے آپ اپنی استطاعت کے مطابق چند نفلی روزے (مثلاً تین روزے) رکھ لیں یا کچھ صدقہ و خیرات کر دیں تو یہ ایک مستحسن عمل ہے، لیکن اسے شرعی کفّارہ یا لازم حق نہ سمجھا جائے، بلکہ محض نفلی عبادت اور تقربِ الٰہی کے طور پر کیا جائے، لہٰذا آپ اللہ تعالیٰ کی رحمت پر کامل بھروسہ رکھیں، وسوسوں اور بے بنیاد شکوک سے اپنے آپ کو محفوظ رکھیں اور آئندہ گناہ سے بچنے کی بھرپور کوشش کرتے رہیں، اللہ تعالیٰ آپ کی توبہ قبول فرمائے، آپ کو استقامت عطا فرمائے اور ہر قسم کے وسوسوں سے محفوظ رکھے۔ آمین

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

بدائع الصنائع: (126/3، ط: دار الكتب العلمية)
والأصل في نفي اتباع الشك قوله تعالى {ولا تقف ما ليس لك به علم} [الإسراء: 36] ، وقوله - عليه الصلاة والسلام - لما سئل عن الرجل يخيل إليه أنه يجد الشيء في الصلاة - «لا ينصرف حتى يسمع صوتا أو يجد ريحا» اعتبر اليقين وألغى الشك.

الأشباه والنظائر: (55/1، ط: دار الكتب العلمية)
الباب الأول القاعدة الأولى: اليقين لا يزول بالشك.

العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية: (37/1، ط: دار المعرفة)
(سئل) في الرجل إذا شك أنه طلق أم لا فهل لا يقع عليه الطلاق؟
(الجواب) : نعم لا يقع كما في الأشباه أي في قاعدة الأصل براءة الذمة.

والله تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Ruling of Oath & Vows