سوال:
السلام علیکم، محترم! میں نے منت مانی تھی کہ یااللہ میرا فلاں کام ہو جائے تو میں دو روزے رکھوں گا۔اللہ تعالی نے میرا کام کر دیا ہے، میں شوگر کا مریض ہوں کیا میں دو روزوں کا کفارہ ادا کر سکتا ہوں اور کفارہ کیا ہو گا یا روزے رکھنا لازمی ہے ؟ پلیز رہنمائی فرما دیں۔ شکریہ
جواب: پوچھی گئی صورت میں اگر آپ شوگر کی وجہ سے روزہ رکھنے کی قدرت نہیں رکھتے، اور نہ ہی آئندہ صحت یاب ہونے کی کوئی امید ہے تو آپ پر ہر روزے کے بدلے ایک فدیہ ادا کرنا لازم ہے۔
ایک روزے کا فدیہ ایک صدقۂ فطر کے برابر ہے، یعنی ہر روزے کے بدلے تقریباً پونے دو کلو گندم، یا اس کی موجودہ قیمت کسی مستحقِ زکوٰۃ شخص کو دے دی جائے، البتہ اگر بعد میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو شفا عطا فرما دی اور آپ دوبارہ روزہ رکھنے کے قابل ہوگئے تو آپ پر ان روزوں کو رکھنا لازم ہوگا۔ ایسی صورت میں پہلے ادا کیا گیا فدیہ نفلی صدقہ شمار ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*الدر المختار مع رد المحتار: (735/3، ط: دار الفکر)*
(ومن نذر نذراً مطلقاً أو معلقاً بشرط وكان من جنسه واجب) أي فرض كما سيصرح به تبعاً للبحر والدرر (وهو عبادة مقصودة) خرج الوضوء وتكفين الميت (ووجد الشرط) المعلق به (لزم الناذر)؛ لحديث: «من نذر وسمى فعليه الوفاء بما سمى»، (كصوم وصلاة وصدقة) ووقف (واعتكاف) وإعتاق رقبة وحج ولو ماشياً فإنها عبادات مقصودة، ومن جنسها واجب؛ لوجوب العتق في الكفارة والمشي للحج على القادر من أهل مكة ... (ثم إن) المعلق فيه تفصيل فإن (علقه بشرط يريده كأن قدم غائبي) أو شفي مريضي (يوفي) وجوباً (إن وجد) الشرط.
*الفتاوى الهندية:(1/ 210،ط: دار الفکر)*
ولو قال: إن عوفيت صمت كذا لم يجب حتى يقول لله علي، وهذا قياس، وفي الاستحسان يجب، وإن لم يكن تعليق لا يجب عليه قياسا، ولا استحسانا كذا في الظهيرية.
*وفيه أيضاً: (1/ 207، ط: دار الفکر)*
(ومنها: كبر السن) فالشيخ الفاني الذي لا يقدر على الصيام يفطر ويطعم لكل يوم مسكينا كما يطعم في الكفارة كذا في الهداية. والعجوز مثله كذا في السراج الوهاج. وهو الذي كل يوم في نقص إلى أن يموت كذا في البحر الرائق. ثم إن شاء أعطى الفدية في أول رمضان بمرة، وإن شاء أخرها إلى آخره كذا في النهر الفائق.
ولو قدر على الصيام بعد ما فدى بطل حكم الفداء الذي فداه حتى يجب عليه الصوم هكذا في النهاية.
واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی