سوال:
ایک طالب علم اپنی قسم کا کفارہ دینا چاہتے ہیں، لیکن وہ خود کماتے نہیں ہیں اور نہ ان کے پاس اتنے پیسے ہیں کہ دو وقت کا کھانا فقیر کو کھلا سکیں یا صدقہ فطر کی رقم مسکین کو دے دیں تو کیا وہ اس کفارے میں تین روزے رکھ لیں تو کفارہ ادا ہو جائے گا ؟
جواب: واضح رہے کہ قسم کا کفّارہ دس مساکین کو دو وقت کا پیٹ بھر کر کھانا کھلانے یا دس مساکین کو کپڑے دینے سے ادا ہوتا ہے، البتہ اگر کوئی شخص ان میں سے کسی کی بھی استطاعت نہ رکھتا ہو تو مسلسل تین روزے رکھنے سے بھی قسم کا کفّارہ ادا ہو جائےگا، لہذا پوچھی گئی صورت میں اگر طالب علم دس مساکین کو دو وقت کا پیٹ بھر کر کھانا کھلانے یا دس مساکین کو کپڑے دینے کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو مسلسل تین روزے رکھنے سے قسم کا کفّارہ ادا ہو جائے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
القرآن الکریم: (المائدة، الایة: 89)
لاَ يُؤَاخِذُكُمُ اللّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ وَلَكِن يُؤَاخِذُكُم بِمَا عَقَّدتُّمُ الْأَيْمَانَ فَكَفَّارَتُهُ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ أَوْ كِسْوَتُهُمْ أَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ فَمَن لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ ذَلِكَ كَفَّارَةُ أَيْمَانِكُمْ إِذَا حَلَفْتُمْ وَاحْفَظُواْ أَيْمَانَكُمْ كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللّهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ o
مجمع الأنهر: (541/1، ط: دار إحياء التراث العربي)
ثم إن الأصل فيه قوله تعالى {فكفارته إطعام عشرة مساكين} [المائدة: 89] الآية وكلمة أو للتخيير فكان الواجب أحد الأشياء الثلاثة عند القدرة (فإن عجز) الظاهر بالواو (عن أحدها) أي عن أحد هذه الثلاثة (عند الأداء) أي عند إرادة الأداء لا عند الحنث.
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی