resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: "اگر میں نے شراب کا ایک قطرہ بھی پیا ہو تو میری ہر چیز مجھ پر حرام ہے" کہنے کا شرعی حکم

(47223-No)

سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! میں نے غصے یا جذبات میں یہ الفاظ کہہ دیے تھے کہ"اگر میں نے شراب کا ایک قطرہ بھی پیا ہو،تو میری ہر چیز مجھ پر حرام ہے۔"
اب میں جاننا چاہتا ہوں کہ اگر بالفرض میں نے شراب نہ پی ہو تو کیا اس قسم کے الفاظ کہنے سے میری کوئی چیز مجھ پر حرام ہو جاتی ہے؟ براہِ کرم اس بارے میں شرعی رہنمائی فرمائیں۔

جواب: واضح رہے کہ کسی چیز کو اپنے اوپر حرام کرنا شرعاً "قسم" کہلاتا ہے، خواہ وہ چیز پہلے ہی سے حرام ہو، پوچھی گئی صورت میں "اگر میں نے شراب کا ایک قطرہ بھی پیا ہو تو میری ہر چیز مجھ پر حرام ہے" ان الفاظ سے بھی قسم منعقد ہوگئی ہے۔
لہذا جب تک آپ نے شراب نہیں پی ہو تو شرط نہ پائے جانے کی وجہ سے آپ پر کوئی چیز حرام نہیں ہوگی، البتہ اگر (خدانخواستہ) شرط پوری ہو جاتی ہے تو قسم ٹوٹنے کی وجہ سے آپ پر قسم کا کفّارہ لازم ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

الفتاوی الھندیه: (52/2، ط: دار الفکر)
(وَالْمُنْعَقِدَةُ فِي وُجُوبِ الْحِفْظِ أَرْبَعَةُ أَنْوَاعٍ) نَوْعٌ مِنْهَا يَجِبُ إتْمَامُ الْبِرِّ فِيهَا، وَهُوَ أَنْ يَعْقِدَ عَلَى فِعْلِ طَاعَةٍ أُمِرَ بِهِ، أَوْ امْتِنَاعٍ عَنْ مَعْصِيَةٍ، وَذَلِكَ فَرْضٌ عَلَيْهِ قَبْلَ الْيَمِينِ، وَبِالْيَمِينِ يَزْدَادُ وَكَادَةً، وَنَوْعٌ لَا يَجُوزُ حِفْظُهَا، وَهُوَ أَنْ يَحْلِفَ عَلَى تَرْكِ طَاعَةٍ، أَوْ فِعْلِ مَعْصِيَةٍ، وَنَوْعٌ يَتَخَيَّرُ فِيهِ بَيْنَ الْبِرِّ، وَالْحِنْثِ، وَالْحِنْثُ خَيْرٌ مِنْ الْبِرِّ فَيُنْدَبُ فِيهِ إلَى الْحِنْثِ، وَنَوْعٌ يَسْتَوِي فِيهِ الْبِرُّ، وَالْحِنْثُ فِي الْإِبَاحَةِ فَيَتَخَيَّرُ بَيْنَهُمَا، وَحِفْظُ الْيَمِين أَوْلَى كَذَا فِي الْمَبْسُوطِ لِشَمْسِ الْأَئِمَّةِ السَّرَخْسِيِّ.

الدر المختار: (703/3، ط: سعید)
(اليمين) لغة القوة. وشرعا (عبارة عن عقد قوي به عزم الحالف على الفعل أو الترك.

احسن الفتاوی: (495/5، ط: سعيد)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Ruling of Oath & Vows