عنوان: سودی قرض دلانے میں کسی کی مدد کرنا (106507-No)

سوال: میری اہلیہ نے اپنے بھائی کو تجارت کی غرض سے تیرا لاکھ قرض لے کر دیا، جس کے عوض میری بیوی کے بھائی نے کہا تھا کہ وہ سولہ ہزار روپے تجارت میں نفع میں سے لوٹاتا رہے گا، مگر اب پیسے (تیرا لاکھ ) واپس مانگ رہا ہے، تو اس کا کہنا ہے کہ ایک سال بعد واپس کر پاؤں گا۔اب قرض جو میری بیوی نے اپنے بھائی کو لے کر دیا تھا، اس پر سود بھی میری بیوی کو دینا پڑتا ہے، اس حالات میں شوہر کیا کرنا چاہیے کہ سود کی رقم سے بہت پریشان ہوکر میرا ذہنی سکون مکمل غارت ہوکر رہ گیا ہے۔ براے مہربانی کچھ راستہ بتائیں جس میں اور میری بیوی سود سے بچ سکیں۔

جواب: یادرہے کہ سود لینا، دینا اور اس معاملے میں کسی قسم کی معاونت کرنا شرعاً حرام ہے، آپ کی اہلیہ کو چاہئیے تھا کہ قرض لیتے وقت معاملہ کی تفصیلات تحریر کر لیتی، تاکہ بعد میں کسی قسم کے نزاع اور جھگڑے کی نوبت نہ آتی۔

صورت مسئولہ میں آپ کی اہلیہ کو چاہئے کہ وہ یہ قرض جلد از جلد واپس کردیں، تاکہ مزید سود ادا نہ کرنا پڑے، اس کے علاوہ اس گناہ سے پکی سچی توبہ بھی ضروری ہے۔

دلائل:

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


قال اللہ تبارک و تعالیٰ:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا تَدَايَنتُم بِدَيْنٍ إِلَىٰ أَجَلٍ مُّسَمًّى فَاكْتُبُوهُ ۚ

(سورۃ البقرۃ، رقم الآیۃ:282)

قال الامام فی صحیحہ المسلم:

"عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: لَعَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا، وَمُؤْكِلَهُ، وَكَاتِبَهُ، وَشَاهِدَيْهِ، وَقَالَ: هُمْ سَوَاءٌ".

(رقم الحدیث: 3/1219، ط: دار احیاء التراث ، بیروت)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 323
Soodi qarz dilanay mein kisi ki madad karna, Sudi, karz, sood, karza, karz, qarza, Helping someone in getting interest based loan, riba, debt, interest based financing

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Loan, Interest, Gambling & Insurance

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.