سوال:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! محترم مفتی صاحب! میرا نکاح 6 اگست 2023ء کو کراچی میں ہوا تھا اور رخصتی 8 جون 2024ء کو ہوئی تھی، میں اپنے نکاح کی شرعی حیثیت کے بارے میں رہنمائی چاہتا ہوں، کیونکہ میرے مطابق نکاح کے وقت مہر اور دیگر شرائط کے حوالے سے مکمل ایجاب و قبول نہیں ہوا تھا۔
6 اگست 2023ء، بروز جمعہ، صبح 11 بجے میں خود لڑکی کی خالہ کے گھر نکاح کا خالی فارم دے کر آیا تھا، اس وقت تک نکاح کی شرائط کا کوئی ذکر نہیں ہوا تھا۔ جمعہ کی نماز کے بعد جب میں نکاح کے لیے پہنچا تو مجھے خالی فارم ہی بھیجا گیا تھا، اس فارم پر نہ کسی کے دستخط تھے اور نہ ہی کسی خانے میں کوئی اندراج کیا گیا تھا، حتیٰ کہ ہمارے نام بھی درج نہیں تھے۔
نکاح ہوا تو میں نے تین مرتبہ ’’قبول ہے‘‘ کہا اور نکاح ہوگیا، مہر کے بارے میں لڑکی کی خواہش تھی کہ اس میں عمرہ رکھا جائے، مہر کے لیے دو متبادل پیش کیے گئے تھے: عمرہ یا 250,000 روپے۔ لڑکی 250,000 روپے کے مہر پر راضی نہیں تھی، لیکن امام صاحب کے اصرار اور دباؤ کی وجہ سے مہر میں 250,000 روپے لکھوا دیے گئے۔
نکاح کی رات جب میں اپنی والدہ کے ساتھ لڑکی کو مبارک باد دینے گیا تو لڑکی کے ماموں (جو اس کے وکیل بھی تھے) نے مجھے نکاح نامہ دیا اور کہا کہ اسے پڑھ لوں۔ اس وقت نکاح نامہ مکمل طور پر پُر کیا ہوا تھا اور اس پر لڑکی کے وکیل اور دو گواہوں کے دستخط موجود تھے۔ لڑکی نے نکاح نامے کے کالم نمبر 18 میں جہاں حقِ طلاق تفویض کرنے کا ذکر ہوتا ہے، یہ الفاظ لکھے تھے: ’’دوسری شادی کی صورت میں لڑکی کو طلاق کا حق ہے۔‘‘ اس کے بعد اضافی شرائط کے لیے ایک کالم تھا، جس میں شوہر کی تنخواہ کا 20 فیصد ادا کرنے کی شرط لکھی گئی تھی۔
میرے مطابق یہ دونوں شرائط نکاح کے وقت ایجاب و قبول کے دوران بیان نہیں کی گئی تھیں، بلکہ خاموشی سے نکاح نامے میں درج کرکے گواہوں اور وکیل سے دستخط کروا لیے گئے تھے۔
جب میں نے نکاح نامہ پڑھا تو اسی وقت اشارے سے لڑکی کو بتا دیا کہ مجھے یہ شرائط قبول نہیں ہیں، لڑکی کے وکیل کو بھی ان شرائط کا علم نہیں تھا اور نہ ہی لڑکی کے گواہوں کو ان کے بارے میں معلوم تھا، اگر انہیں ان شرائط کا علم تھا تو نکاح کے دوران مسجد میں ان کا ذکر کیوں نہیں کیا گیا، جبکہ میرے خیال میں یہ ایسی شرائط تھیں جنہیں ایجاب و قبول کا حصہ بنانا ضروری تھا؟
اگلے دن جب میں لڑکی کو کھانے پر لے کر گیا تو میں نے واضح الفاظ میں ان دونوں شرائط کو ماننے سے انکار کردیا، اس پر لڑکی نے کہا کہ اگر یہ دونوں شرائط مجھے منظور نہیں ہیں تو میں اسے طلاق دے کر آزاد کرسکتا ہوں اور دوسری شادی کرلوں، کیونکہ ابھی صرف نکاح ہوا ہے۔
7 اگست 2023ء سے لے کر 8 جون 2024ء، یعنی رخصتی تک لڑکی کا یہی مؤقف رہا کہ اگر نکاح کے وقت یہ شرائط قبول نہیں کی گئیں تو اسے یہ نکاح منظور نہیں ہے۔ میرا بھی یہی مؤقف تھا کہ میں دوسری شادی کروں یا نہ کروں، لیکن ہدیٰ تنویر کو حقِ طلاق نہیں دوں گا، کیونکہ میرے نزدیک یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مرد کو دیے گئے اختیار میں مداخلت ہے۔
بعد ازاں نکاح نامے میں درج ان دونوں شرائط کو جو صرف پنسل سے لکھی گئی تھیں، لڑکی کو اطلاع دے کر میں نے نکال دیا، اس کے بعد میں نے نکاح نامے پر دستخط کیے اور پھر گواہوں نے دستخط کیے، میں نے نکاح کے تقریباً سات ماہ بعد نکاح نامے پر دستخط کیے تھے، ان شرائط کے تنازع کی وجہ سے میں نے پہلے دستخط نہیں کیے تھے۔ میں نے لڑکی کو ان شرائط کے حذف کرنے کے بارے میں بتایا، جس پر وہ راضی نہیں تھی اور اس کے بعد میرے گواہوں نے دستخط کیے، میرے گواہوں کو بھی نکاح کے وقت ان شرائط کا علم نہیں تھا، کیونکہ خود مجھے بھی ان کا علم نہیں تھا۔
میں قسم اٹھا کر کہہ سکتا ہوں کہ اگر مجھے نکاح کے وقت ان شرائط کا علم ہوتا تو میں یہ نکاح قبول نہ کرتا۔ آج 14 اکتوبر 2026ء کو بھی میرا یہی مؤقف ہے۔
وقت گزرتا گیا اور ہم ساتھ رہنے لگے اور آج تک ساتھ رہ رہے ہیں۔ تاہم میری اہلیہ ہر دس پندرہ دن بعد یہی بات دہراتی ہیں کہ میں نے ان کی شرائط کے مطابق نکاح نہیں کیا اور اگر ان سے پوچھا جاتا تو وہ ان شرائط کے بغیر نکاح قبول نہ کرتیں۔
میری گزارش ہے کہ شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ کیا ہماری صورتِ حال میں تجدیدِ نکاح کرنا ضروری ہے یا ہمارا نکاح سرے سے ہوا ہی نہیں تھا؟ میں دینی مسائل کا مطالعہ کرتا ہوں۔ پہلے مجھے اس مسئلے کا علم نہیں تھا، لیکن جیسے ہی یہ معاملہ پیش آیا، میں نے فتویٰ حاصل کرنے کے لیے درخواست دے دی۔ براہِ کرم اس معاملے میں تحریری فتویٰ جاری فرما دیں۔
جواب: واضح رہے کہ مجلسِ نکاح میں اگر مہر یا دیگر شرائط کا ذکر کیے بغیر گواہوں کی موجودگی میں میاں بیوی کی جانب سے ایجاب و قبول پایا جائے تو بھی نکاح منعقد ہوجاتا ہے، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں اگر گواہوں کی موجودگی میں آپ دونوں کی جانب سے ایجاب و قبول پایا گیا تھا، تب بھی نکاح منعقد ہوگیا ہے، اس لیے دوبارہ نکاح کرنے کی ضرورت نہیں ہے، البتہ مہر یا دیگر شرائط کے معاملے میں ایک دوسرے سے بحث و مباحثہ کرنے یا ناراض ہونے کے بجائے باہمی رضامندی سے مل بیٹھ کر کوئی مناسب صورت نکالنی چاہیے۔ یہی ایسے مواقع پر شرعی تعلیمات کا تقاضا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*الدلائل:*
*الھدایة: (185/1، ط: دار احياء التراث العربي)*
قال: " ولا ينعقد نكاح المسلمين إلا بحضور شاهدين حرين مسلمين بالغين عاقلين أو رجل أو وامرأتين۔
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی