resize-left-dar mid-dar right-dar
✨ Ask AI

عنوان: مسجد کے لیے لی ہوئی جگہ پر عوامی سہولت کے لیے واٹر فلٹریشن پلانٹ لگانا

(65744-No)

سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، جناب مفتی صاحب! گزارش ہے کہ ہمارے علاقے میں ایک جگہ مسجد کی ملکیت ہے، یہ زمین کسی شخص نے مسجد کو بطورِ وقف نہیں دی، بلکہ مسجد نے خود خریدی ہوئی ہے، یہ جگہ شرعی مسجد کا حصہ نہیں ہے، وہاں کبھی نماز ادا نہیں کی گئی اور نہ ہی اسے نماز کے لیے مخصوص کیا گیا ہے، اس کی عمارت الگ اور دروازہ بھی الگ ہے مگر مسجد کے ساتھ ہے اور ایک دیوار ہے، ماضی میں اس جگہ پر سرکاری ڈاکخانہ قائم تھا، جسے مسجد کی انتظامیہ نے کرایہ پر دے رکھا تھا۔
اب ایک فاؤنڈیشن کی طرف سے اس جگہ پر عوام الناس کے لیے فلاحی طور پر مفت واٹر فلٹریشن پلانٹ لگانا چاہتا ہے، ادارہ اپنا مکمل نظام خود نصب کرے گا، جس میں فلٹریشن پلانٹ، پانی کا انتظام، بجلی اور سولر سسٹم شامل ہیں، اس منصوبے کے لیے مسجد کی بجلی یا پانی استعمال نہیں کیا جائے گا۔
مزید یہ کہ مسجد کی مجلسِ شوریٰ کے تمام اراکین اس فلاحی منصوبے پر متفق ہیں، اس منصوبے کا مقصد عوام کو صاف پینے کا پانی فراہم کرنا ہے۔
مفتیانِ کرام سے درج ذیل سوالات کے جوابات مطلوب ہیں:
کیا مذکورہ جگہ پر عوامی سہولت کے لیے واٹر فلٹریشن پلانٹ لگانا شرعاً جائز ہے؟
کیا مسجد کی مجلسِ شوریٰ کے تمام اراکین کی رضامندی سے اس منصوبے کی اجازت دی جا سکتی ہے؟
کیا مسجد کی ملکیتی اس جگہ کو عوامی فلاح کے لیے استعمال کرنے میں کوئی شرعی ممانعت ہے؟
اگر اس منصوبے کی اجازت ہے تو کیا کوئی خاص شرائط پوری کرنا ضروری ہیں؟
آپ سے مؤدبانہ درخواست ہے کہ قرآن و سنت اور فقہِ حنفی کی روشنی میں اس معاملے کا مکمل شرعی حکم تحریری فتویٰ کی صورت میں عنایت فرمائیں، تاکہ مسجد کی مجلسِ شوریٰ شرعی رہنمائی کے مطابق فیصلہ کرسکے۔ جزاکم اللہ خیراً واحسن الجزاء

جواب: چونکہ یہ جائیداد مسجد کے مصالح کے لیے مختص ہے، اس لیے اس میں تصرف کرتے وقت مسجد کے مفاد اور وقف کی شرائط کی رعایت لازم ہے، لہٰذا مذکورہ جگہ پر فلٹریشن پلانٹ لگانے کے لیے فلاحی فاؤنڈیشن کو جگہ دینا اس صورت میں جائز ہے کہ وہ اس کا مناسب کرایہ (اجرتِ مثل) مسجد کو ادا کرے اور اس سے مسجد کے مصالح یا آمدنی کو نقصان نہ پہنچے۔
مجلسِ شوریٰ کے ارکان مسجد کے مالک نہیں، بلکہ اس کے امین اور منتظم ہیں، اس لیے ان سب کی رضامندی سے بھی مسجد کی آمدنی کے لیے مختص جگہ بلا معاوضہ دینا جائز نہیں، کیونکہ وہ مسجد کے حق کو ساقط کرنے کے مجاز نہیں ہیں۔
نیز یہ بھی ضروری ہے کہ فلٹریشن پلانٹ کے پانی، بجلی اور سولر وغیرہ کے تمام اخراجات فاؤنڈیشن خود برداشت کرے، مسجد کے معمولات، نمازیوں اور مسجد کے تقدس میں کوئی خلل نہ آئے، اور جگہ کے استعمال کے متعلق باقاعدہ تحریری معاہدہ کیا جائے، جس میں مسجد کی ملکیت برقرار رہنے اور معاہدے کی شرائط کی وضاحت ہو۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الدلائل:

الإسعاف فى أحكام الأوقاف (ص: 65 طبع بمطبعة هندية بشارع المهدى بالأزبكية بمصر المحمية)
ولو أجر متولي الوقف أو وصي اليتيم منزلا للوقف أو لليتيم بدون أجر المثل قال الشيخ الإمام الجليل أبو بكر محمد بن الفضل على أصل أصحابنا ينبغي أن يكون المستأجر غاصبا وذكر الخصاف في كتابه أنه لا يصير عاصبا ويلزمه أجر المثل فقيل له أتفتي بهذا قال نعم ووجهه أن المتولي والوصي أبطلا بالتسمية ما زاد على المسمى إلى تمام أجر المثل وهما لا يملكانه فيجب أجر المثل كما لو أجر من غير تسمية أجر.

والله تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Rights & Etiquette of Mosques