سوال:
محترم مفتیانِ کرام، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، عرض یہ ہے کہ ہماری مسجد کے سامنے سرکاری زمین ہے، کمیٹی کے بعض افراد نے اپنے خرچ پر اس پر مکانات تعمیر کروائے، جن کی آمدنی امام اور مؤذن کی تنخواہوں اور مسجد کے اخراجات میں خرچ ہوتی رہی ہے۔ اس سلسلے میں چار سوالات ہیں:
1) متعلقہ سرکاری ادارے سے اجازت لیے بغیر سرکاری زمین پر مکانات تعمیر کرنا اور کرایہ وصول کرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟
2) کیا اس آمدن کو مسجد کے اخراجات میں لگانا درست ہے؟
3) طویل مدت کے استعمال اور اہلِ محلہ کی خاموشی سے کیا یہ جگہ مسجد کی ملکیت بن سکتی ہے؟
4) اگر حکومت نے کسی شخص کو زمین دی ہو اور اس نے بعد میں اسے مسجد کے لیے وقف کر دیا ہو تو کیا ایسا کرنا درست ہے اور
اس سے زمین وقف یا مسجد کی ملکیت بن سکتی ہے؟ براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں ان سوالات کا جواب عطا فرمائیں تاکہ عمل کیا جا سکے۔
جواب: 1،2) واضح رہے کہ سرکاری زمین عوام الناس اور ریاست کی ملکیتی و انتظامی تحویل میں ہوتی ہے، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں اگر متعلقہ سرکاری ادارے نے مذکورہ زمین مسجد یا مصالحِ مسجد کے لیے وقف نہ کی ہو تو کمیٹی کے بعض افراد کا متعلقہ ادارے کی اجازت کے بغیر اس پر مکانات تعمیر کرکے کرایہ وصول کرنا شرعاً جائز نہیں ہے، اور نہ ہی اس کرایے کو امام و مؤذن کی تنخواہوں اور مسجد کے دیگر اخراجات میں صرف کرنا درست ہے۔
3) چونکہ نہ کمیٹی کے افراد اس سرکاری زمین کے مالک ہیں اور نہ اہلِ محلہ، اس لیے اہلِ محلہ کا سکوت یا طویل مدت کا قبضہ اس کو ملکیت میں تبدیل نہیں کر سکتا۔
4) اگر حکومت نے کسی شخص کو زمین باقاعدہ مالکانہ حقوق کے ساتھ الاٹ کی ہو تو اس کے لیے اس زمین کو مسجد کے لیے وقف کرنا شرعاً درست ہے، اور اگر زمین صرف عارضی استعمال، یعنی عاریت یا اجارہ وغیرہ پر دی گئی ہو اور ملکیت منتقل نہ ہوئی ہو تو اس کا وقف کرنا شرعاً درست نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الدلائل:
رد المحتار: (340/4، ط: دار الفكر)
أفاد أن الواقف لا بد أن يكون مالكه وقت الوقف ملكا باتا ولو بسبب فاسد، وأن لا يكون محجورا عن التصرف، حتى لو وقف الغاصب المغصوب لم يصح، وإن ملكه بعد بشراء أو صلح.
الفتاوى الهندية: (353/2، ط: دار الفكر)
(ومنها) الملك وقت الوقف حتى لو غصب أرضا فوقفها ثم اشتراها من مالكها ودفع الثمن إليه أو صالح على مال دفعه إليه لا تكون وقفا كذا في البحر الرائق رجل وقف أرضا لرجل آخر في بر سماه ثم ملك الأرض لم يجز وإن أجاز المالك جاز عندنا كذا في فتاوى قاضي خان.
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی