سوال:
میرا مدرسہ مدرسہ اصحابِ صفہ ہے، جس کا میں متولی ہوں، مدرسے کے ساتھ مسجد قبا بھی قائم ہے، مندرجہ ذیل مسائل کے بارے میں شرعی رہنمائی مطلوب ہے:
سوال نمبر 1: میں مدرسے اور مسجد کے کام کے سلسلے میں کبھی کبھار اسلام آباد سے گڑھی حبیب اللہ اپنے مدرسے جاتا ہوں، وہاں کھانے کے لیے ایک رقم مقرر کی گئی ہے، جو میں ادا کرتا ہوں، کیا میرے لیے بحیثیت متولی مدرسے یا مسجد کے کام کے سلسلے میں وہاں قیام کے دوران مدرسے میں کھانا کھانا شرعاً جائز ہے؟
سوال نمبر 2: مدرسے کے مہتمم صاحب کی فیملی مدرسے کے رہائشی مکان میں رہتی ہے، ان کی اہلیہ مدرسے میں بچیوں خصوصاً درسِ نظامی کی طالبات کو پڑھاتی ہیں، مدرسے میں بچوں کے لیے جو اجتماعی کھانا تیار ہوتا ہے، مہتمم صاحب اور ان کی فیملی بھی اسی کھانے میں سے کھاتی ہیں، کیا ان کے لیے مدرسے کے بچوں کے لیے تیار ہونے والے اس اجتماعی کھانے میں سے کھانا شرعاً جائز ہے؟
مزید یہ کہ مہتمم صاحب کے ذاتی مہمان مدرسے میں آتے ہیں تو کیا ان ذاتی مہمانوں کو بھی مدرسے کے بچوں کے لیے تیار ہونے والے کھانے میں سے کھانا کھلانا شرعاً جائز ہے یا مہتمم صاحب کے لیے ضروری ہے کہ ان مہمانوں کے کھانے کی رقم اپنی طرف سے ادا کریں؟
سوال نمبر 3: مدرسے میں جو کھانا بچوں کے لیے تیار کیا جاتا ہے، اس میں قاری صاحبان اور اساتذہ بھی کھاتے ہیں تو کیا قاری صاحبان اور اساتذہ کے لیے مدرسے کے بچوں کے لیے تیار ہونے والے اس کھانے میں سے کھانا شرعاً جائز ہے؟
سوال نمبر 4: اگر مدرسے کے قاری صاحبان یا اساتذہ کے ذاتی مہمان، رشتہ دار یا دوست مدرسے یا مسجد کے کسی کام کے سلسلے میں نہ آئے ہوں بلکہ ذاتی ملاقات کے لیے آئے ہوں تو کیا ان مہمانوں کو مدرسے کے بچوں کے لیے تیار ہونے والے کھانے میں سے کھانا کھلانا شرعاً جائز ہے؟
سوال نمبر 5: مدرسے اور مسجد کے پیچھے حالیہ شدید بارشوں کی وجہ سے بہت زیادہ لینڈ سلائیڈنگ ہوئی ہے، جس سے مدرسے، مسجد اور وہاں رہنے والے بچوں کی جان و مال کو خطرہ لاحق ہے، اس خطرے کو ختم کرنے کے لیے ایک بڑی Retaining/Protection Wall تعمیر کرنا ضروری ہے، لیکن ہمارے پاس اس کے لیے کافی وسائل موجود نہیں ہیں۔ مدرسے کے پاس جو فنڈز موجود ہیں، جن میں لوگوں کی طرف سے دی گئی زکوٰۃ کی رقوم بھی شامل ہیں، کیا ان زکوٰۃ کی رقوم سے بچوں اور مدرسے و مسجد کی حفاظت کے لیے یہ Retaining /Protection Wall تعمیر کی جا سکتی ہے؟ اور اگر زکوٰۃ کی رقم سے یہ کام جائز نہیں تو کیا مدرسے کے عام عطیات، صدقاتِ نافلہ یا دیگر غیر زکوٰۃ فنڈز سے یہ حفاظتی دیوار تعمیر کرنا شرعاً جائز ہے؟ براہِ کرم مذکورہ تمام سوالات کے بارے میں شرعی رہنمائی فرمائیں۔
جواب: 1) آپ کے لیے مدرسے اور مسجد کے امور کی نگرانی کے دوران مقررہ رقم ادا کر کے مدرسے میں کھانا کھانا شرعاً جائز ہے، کیونکہ رقم کی ادائیگی سے مدرسے پر مالی بوجھ نہیں پڑتا اور نہ ہی طلبہ کے حق کی تلفی ہوتی ہے، البتہ یہ دھیان رہے کہ مقررہ رقم کھانے کی اصل لاگت کے مطابق یا اس سے زیادہ ہو، اصل لاگت سے کم نہ ہو۔
2) مہتمم صاحب اور ان کی معلمہ اہلیہ کے لیے طلبہ کا کھانا اس صورت میں کھانا جائز ہے جب ان کے تقرر اور ملازمت کی شرائط میں رہائش کے ساتھ کھانا بطورِ مراعات یا اجرت طے ہو، بصورتِ دیگر بلا معاوضہ کھانا جائز نہیں، جبکہ ان کے ذاتی مہمانوں کو طلبہ کے کھانے میں سے مفت کھانا کھلانا شرعاً ہرگز جائز نہیں، مہتمم صاحب پر لازم ہے کہ وہ اپنے ذاتی مہمانوں کے کھانے کے اخراجات خود ادا کریں۔
3) اساتذہ اور قاری صاحبان کے لیے مدرسے کے کھانے میں سے کھانا اسی صورت میں شرعاً جائز ہے جب ان کی ملازمت اور تقرری کے وقت انتظامیہ کے ساتھ یہ طے ہو کہ کھانا مدرسے کی ذمہ داری ہوگا، تاکہ یہ ان کی مشروط اجرت کا حصہ بنے، ورنہ بغیر طے کیے یا رقم دیے طلبہ کے راشن سے کھانا کھانا درست نہیں۔
4) قاری صاحبان اور اساتذہ کے ذاتی مہمانوں، دوستوں یا رشتہ داروں کو مدرسے کے بچوں کے کھانے میں سے کھانا کھلانا شرعاً ناجائز اور امانت میں خیانت کے مترادف ہے، اگر وہ اپنے ذاتی مہمانوں کو مدرسے کے مطبخ سے کھانا کھلانا چاہیں تو ان پر لازم ہے کہ انتظامیہ کی اجازت سے اس کھانے کی باقاعدہ رقم مدرسے کو ادا کریں۔
5) زکوٰۃ کی رقم سے ریٹیننگ یا پروٹیکشن وال تعمیر کرنا شرعاً ناجائز ہے کیونکہ زکوٰۃ کی درستگی کے لیے مستحق کو مالک بنانا (تملیٖک) شرط ہے جو تعمیراتی کاموں میں نہیں پایا جاتا، البتہ مدرسے، مسجد اور طلبہ کی جان کی حفاظت کے پیشِ نظر غیر زکوٰۃ رقوم جیسے عام عطیات، صدقاتِ نافلہ اور تعمیراتی فنڈز سے یہ حفاظتی دیوار تعمیر کرنا شرعاً جائز ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الدلائل:
رد المحتار على الدر المختار (ج: 4، ص: 398، ط: دار الفكر-بيروت)
«وَالْقَيِّمُ لَا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَأْكُلَ مِنْ مَالِ الْوَقْفِ شَيْئًا وَلَا يَشْتَرِيَ مِنْهُ، وَإِنْ اشْتَرَى مِنْهُ شَيْئًا بِمِثْلِ قِيمَتِهِ أَوْ أَكْثَرَ جَازَ فِي قَوْلِ أَبِي يُوسُفَ، وَفِي قَوْلِ مُحَمَّدٍ لَا يَجُوزُ، وَقَالَ مَشَايِخُنَا: الْفَتْوَى عَلَى قَوْلِ أَبِي يُوسُفَ لِأَنَّهُ زَادَهُ خَيْرًا.»
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (ج: 4، ص: 419، ط: دار الفكر-بيروت)
لَا يَجُوزُ لِلْقَيِّمِ إعْطَاءُ شَيْءٍ مِنْ الْوَقْفِ لِمَنْ لَيْسَ لَهُ حَقٌّ فِيهِ، وَإِذَا أَعْطَى ضَمِنَ، لِأَنَّ مَالَ الْوَقْفِ لَا يَحِلُّ لِغَيْرِ مُسْتَحِقِّيهِ، وَالْوَاجِبُ عَلَى الْمُتَوَلِّي صَرْفُهُ فِيمَا شَرَطَهُ الْوَاقِفُ دُونَ زِيَادَةٍ وَلَا نُقْصَانٍ.»
رد المحتار على الدر المختار (ج: 6، ص: 61، ط: دار الفكر-بيروت)
وَالْمُعْتَبَرُ فِي الْأُجْرَةِ الْعُرْفُ إذَا لَمْ يَكُنْ شَرْطٌ، فَمَا جَرَى بِهِ الْعُرْفُ أَنَّهُ مِنْ تَوَابِعِ الْأُجْرَةِ كَالطَّعَامِ وَالْكِسْوَةِ يُلْحَقُ بِهَا.»
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (ج: 4، ص: 366، ط: دار الفكر-بيروت)
قَوْلُهُمْ: شَرْطُ الْوَاقِفِ كَنَصِّ الشَّارِعِ، أَيْ فِي فَهْمِ الْمُرَادِ وَوُجُوبِ الْعَمَلِ بِهِ لَا فِي الرُّتْبَةِ.»
الفتاوى الهندية (ج: 4، ص: 412، ط: دار الفكر-بيروت):
«وَلَوْ اسْتَأْجَرَ أَجِيرًا بِطَعَامِهِ وَكِسْوَتِهِ جَازَ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى إِذَا كَانَ ذَلِكَ مَعْلُومًا بِالْعُرْفِ.»
الفتاوى الهندية (ج: 2، ص: 439، ط: دار الفكر-بيروت):
«لَيْسَ لِلْمُتَوَلِّي أَنْ يَتَصَرَّفَ فِي مَالِ الْوَقْفِ بِمَا لَا مَصْلَحَةَ فِيهِ لِلْوَقْفِ، فَلَوْ أَنْفَقَ عَلَى نَفْسِهِ أَوْ عَلَى ضَيْفِهِ مِنْ غَيْرِ شَرْطِ الْوَاقِفِ كَانَ ضَامِنًا.»
الأشباه والنظائر لابن نجيم (ج: 1، ص: 133، ط: دار الكتب العلمية):«
) لَا يَجُوزُ لِأَحَدٍ أَنْ يَتَصَرَّفَ فِي مِلْكِ غَيْرِهِ بِلَا إذْنِهِ، وَمَالُ الْوَقْفِ كَذَلِكَ لَا يُتَصَرَّفُ فِيهِ إلَّا بِإِذْنِ الشَّارِعِ وَشَرْطِ الْوَاقِفِ.»
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (ج: 2، ص: 344، ط: دار الفكر-بيروت)
(وَهِيَ) أَيْ الزَّكَاةُ (تَمْلِيكٌ) لَا إبَاحَةٌ، فَلَا يَجُوزُ أَنْ يَبْنِيَ بِهَا مَسْجِدًا وَلَا كَفَنَ مَيِّتٍ وَلَا قَضَاءَ دَيْنِهِ؛ لِانْعِدَامِ التَّمْلِيكِ.»
الفتاوى الهندية (ج: 1، ص: 188، ط: دار الفكر-بيروت):
لَا يَجُوزُ أَنْ يَبْنِيَ بِالزَّكَاةِ الْمَسْجِدَ، وَكَذَا الْقَنَاطِرُ وَالسِّقَايَاتُ، وَإِصْلَاحُ الطُّرُقَاتِ، وَكَرْيُ الْأَنْهَارِ، وَالْحَجُّ، وَالْجِهَادُ، وَكُلُّ مَا لَا تَمْلِيكَ فِيهِ.»
الفتاوى الهندية (ج: 2، ص: 412، ط: دار الفكر-بيروت):
عِمَارَةُ الْوَقْفِ وَإِصْلَاحُهُ وَدَفْعُ الْهَلَاكِ عَنْهُ مُقَدَّمٌ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ مِنْ أَهْلِ الْوَقْفِ، وَيُبْدَأُ مِنْ غَلَّتِهِ بِعِمَارَتِهِ شَرَطَ الْوَاقِفُ ذَلِكَ أَوْ لَمْ يَشْرُطْ.»
والله تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی