resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: حرام مال مسجد میں خرچ کرنے اوراس سے کفر کا حکم

(60496-No)

سوال: مفتی صاحب! صرف ایک بات کی وضاحت کر دیں کہ اگر کوئی آدمی مسجد کی تعمیر کے لیے یا مسجد کے ماہانہ اخراجات کے لیے ( جیسے امام کی تنخواہ، بجلی کا بل یا پانی کا بل ) حرام پیسے دیتا ہے لیکن وہ بغیر ثواب کی نیت کے دیتا ہے تو اس صورت میں گناہ ہیں لیکن کفر نہیں ہے۔
لیکن اگر وہ حرام پیسوں کو مسجد کی تعمیر کے لیے یا مسجد کے ماہانہ اخراجات کے لیے ثواب کی نیت سے دیتا ہے یا حرام پیسوں کو حلال سمجھ کر دیتا ہے تو اس صورت میں حکم کفر ہو سکتا ہے، کیا ایسا ہی ہے؟

جواب: حرام مال مسجد کی تعمیر، امام ومؤذن کی تنخواہ یا بجلی وغیرہ کے اخراجات میں لگانا جائز نہیں۔ اس کا حکم یہ ہے کہ اصل مالک کو واپس کیا جائے، اور مالک معلوم نہ ہو تو مستحق فقراء کو بلا نیتِ ثواب دے دیا جائے۔
اگر کوئی شخص حرام مال کو حرام سمجھتے ہوئے لاعلمی یا غلط فہمی سے مسجد میں خرچ کرے تو یہ شرعاً ناجائز عمل ہے، لیکن محض اس کی وجہ سے وہ کفر لازم نہیں ہوتا۔
البتہ اگر کوئی شخص حرام مال کو حلال سمجھ کر یا حرام مال سے ثواب حاصل کرنے کے عقیدے سے مسجد میں خرچ کرے تو یہ استحلالِ حرام (حرام کو حلال سمجھنا) کی وجہ سے کفر کا سبب ہوسکتا ہے۔ تاہم کسی خاص شخص پر کفر کا حکم اس کے عقیدے اور نیت کی تحقیق کے بغیر نہیں لگایا جایا سکتا، اس سلسلے میں بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔

۔۔۔۔۔
*دلائل:*

*صحيح البخاري (6/ 2702 – حدیث: 6993-ط: دار ابن كثير، دار اليمامة):*
عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (من تصدق بعدل تمرة من كسب طيب، ولا يصعد إلى الله إلا الطيب، فإن الله يتقبلها بيمينه، ثم يربيها لصاحبها كما يربي أحدكم فلوه، حتى تكون مثل الجبل). وعن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم: (ولا يصعد إلى الله إلا الطيب).

*صحيح مسلم (3/ 85 – ط: دار الطباعة العامرة ،تركيا):*
عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أيها الناس، إن الله طيب لا يقبل إلا طيبا

*حاشية ابن عابدين (5/ 99 -ط: دار الفكر ، بيروت):*
والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه،

*حاشية ابن عابدين (1/ 658- ط: دار الفكر ، بيروت):*
(قوله لو بماله الحلال) قال تاج الشريعة: أما لو أنفق في ذلك مالا خبيثا ومالا سببه الخبيث والطيب فيكره لأن الله تعالى لا يقبل إلا الطيب، فيكره تلويث بيته بما لا يقبله. اه.

*الاختيار لتعليل المختار (3/ 61 - كتاب الغصب):*
والملك الخبيث سبيله التصدق به، ولو صرفه في حاجة نفسه جاز. ثم إن كان غنيا تصدق بمثله، وإن كان فقيرا لا يتصدق.

*العرف الشذي شرح سنن الترمذي (1/ 38 – ط: دار التراث العربي ،بيروت):*
فالثواب إنما يكون على ائتمار الشارع، وأما رجاء الثواب من نفس المال فحرام، بل ينبغي لمتصدق الحرام أن يزعم بتصدق المال تخليص رقبته

*حاشية ابن عابدين (2/ 292 -ط: دار الفكر ، بيروت):*
رجل دفع إلى فقير من المال الحرام شيئا يرجو به الثواب يكفر، ولو علم الفقير بذلك فدعا له وأمن المعطي كفرا جميعا.ونظمه في الوهبانية وفي شرحها: ينبغي أن يكون كذلك لو كان المؤمن أجنبيا غير المعطي والقابض، وكثير من الناس عنه غافلون ومن الجهال فيه واقعون. اه. قلت: الدفع إلى الفقير غير قيد بل مثله فيما يظهر لو بنى من الحرام بعينه مسجدا ونحوه مما يرجو به التقرب؛ لأن العلة رجاء الثواب فيما فيه العقاب ولا يكون ذلك إلا باعتقاد حله (قوله: إذا تصدق بالحرام القطعي) أي مع رجاء الثواب الناشئ عن استحلاله كما مر فافهم.

واللہ تعالٰی أعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Rights & Etiquette of Mosques