سوال:
السلام علیکم! کیا مسجد کی دیواروں پر ذاتی کاروبار، سیاسی یا دیگر تشہیرات کے لیے اشتہار اور بینر لگانا جائز ہے؟ شریعت کی رو سے اس کے بارے میں کیا احکامات ہیں؟ راہنمائی فرمائیں ! بہت شکریہ
جواب: واضح رہے کہ مسجد کے لیے جو حصہ شرعاً وقف کر دیا جائے، اسے مسجد سے متعلق ضروری امور کے علاوہ کسی دوسرے مقصد کے لیے استعمال کرنا درست نہیں، مسجد کی دیواریں بھی چونکہ مسجد کے وقف میں شامل ہوتی ہیں، اس لیے ان پر سیاسی، کاروباری یا دیگر غیر متعلقہ اشتہارات لگانا جائز نہیں، البتہ اگر کوئی اشتہار مسجد کی ضروریات یا اس سے متعلق امور کے لیے ہو تو اسے مسجد کی دیوار پر لگانے کی گنجائش ہے۔
تاہم اس صورت میں بھی بہتر یہ ہے کہ اعلانات کے لیے ایک مستقل بورڈ کا انتظام کر لیا جائے، تاکہ مسجد سے متعلق ضروری اعلانات اس پر آویزاں کیے جا سکیں اور مسجد کی دیواروں کو خراب ہونے سے محفوظ رکھا جا سکے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
الدر المختار مع رد المحتار: (4/ 358،ط:دار الفکر)
[فرع] لو بنى فوقه بيتا للإمام لا يضر لأنه من المصالح، أما لو تمت المسجدية ثم أراد البناء منع ولو قال عنيت ذلك لم يصدق تتارخانية، فإذا كان هذا في الواقف فكيف بغيره فيجب هدمه ولو على جدار المسجد، ولا يجوز أخذ الأجرة منه ولا أن يجعل شيئا منه مستغلا ولا سكنى بزازية...
وحاصله أن شرط كونه مسجدا أن يكون سفله وعلوه مسجدا لينقطع حق العبد عنه لقوله تعالى {وأن المساجد لله} [الجن: 18]- بخلاف ما إذا كان السرداب والعلو موقوفا لمصالح المسجد، فهو كسرداب بيت المقدس هذا هو ظاهر الرواية وهناك روايات ضعيفة مذكورة في الهداية. اه.
واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی