سوال:
ہماری مسجد جو کہ 10 مرلے پر مشتمل ہے اب ہماری کالونی میں تین چار پلازے بن گئے اور مزید بھی بننے جا رہے ہیں جن کی وجہ سے مسجد چھوٹی پڑ گئی ہے اور نمازیوں کی تعداد زیادہ ہے جگہ کم پڑ رہی ہے اور نمازیوں کی مسلسل شکایت بھی آرہی ہیں تو مسجد کے ساتھ روڈ ہے اس روڈ کے ساتھ 20 مرلہ پلاٹ موجود ہے یعنی 20 مرلہ پلاٹ اور مسجد کے درمیان روڈ ہے اگر ہم ایسا کریں کہ روڈ کو مسجد کی جگہ لے جائیں اور جو روڈ ہے اسے 20 مرلہ پلاٹ کے ساتھ ملا کر بڑی مسجد بنا دیں تو کیا اس کی گنجائش ہے؟ کیونکہ اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔ یاد رہے اس میں اصل وجہ نمازیوں کی مسلسل شکایتیں ہیں، ان کو سننے کے بعد ہمارے سامنے یہ تجویز آئی ہے تو قرآن و حدیث کی روشنی میں بتائیں کہ ایسا کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟ مطلب پوری مسجد روڈ میں بدل کر مکمل روڈ 20 مرلہ پلاٹ کے ساتھ ملا کر بڑی مسجد بنا دیں، کیونکہ مسجد چھوٹی ہے بعض مفتیان کرام نے بعض حصے کی گنجائش بتائی ہے۔
جواب: واضح رہے کہ جب کسی جگہ کو مسجد کے لیے وقف کر دیا جائے اور وہاں نماز باجماعت ادا کر لی جائے تو وہ جگہ شرعاً ہمیشہ کے لیے مسجد کا حکم اختیار کر لیتی ہے، ایسی جگہ کے مسجد بن جانے کے بعد اسے کسی دوسرے مقصد کے لیے استعمال کرنا یا اس کی جگہ تبدیل کرنا جائز نہیں رہتا۔
لہٰذا دریافت کردہ صورت میں مسجد کو منہدم کرکے اس کی جگہ سڑک نکالنا شرعاً جائز نہیں ہے، اگر نمازیوں کی تعداد میں اضافہ ہو جائے اور موجودہ جگہ ناکافی ہو تو اسی مسجد پر مزید منزلیں تعمیر کرکے گنجائش پیدا کی جا سکتی ہے۔
اس لیے انتظامیہ پر لازم ہے کہ وقف شدہ جگہ کو مسجد ہی کے لیے مخصوص رکھے، اس کی حیثیت میں کسی قسم کی تبدیلی نہ کرے، اور وقف سے متعلق شرعی احکام کی مکمل پابندی کرے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
الدر المختار: (358/4، ط: دار الفكر-بيروت)
(ولو خرب ما حوله واستغني عنه يبقى مسجدا عند الإمام والثاني) أبدا إلى قيام الساعة (وبه يفتي) حاوي القدسي.
رد المحتار: (358/4، ط: دار الفكر-بيروت)
مطلب فيما لو خرب المسجد أو غيره (قوله: ولو خرب ما حوله) أي ولو مع بقائه عامرا وكذا لو خرب وليس له ما يعمر به وقد استغنى الناس عنه لبناء مسجد آخر (قوله: عند الإمام والثاني) فلا يعود ميراثا0 ولا يجوز نقله ونقل ماله إلى مسجد آخر، سواء كانوا يصلون فيه أو لا وهو الفتوى حاوي القدسي
البحر الرائق: (271/5، ط: دار الكتاب الإسلامي)
وقال أبو يوسف هو مسجد أبدا إلى قيام الساعة لا يعود ميراثا ولا يجوز نقله ونقل ماله إلى مسجد آخر سواء كانوا يصلون فيه أو لا وهو الفتوى كذا في الحاوي القدسي وفي المجتبى وأكثر المشايخ على قول أبي يوسف ورجح في فتح القدير قول أبي يوسف بأنه الأوجه.
الدر المختار: (كتاب الصلاة، مطلب يبدأ من غلة الوقف بعمارته، 436/6-371، ط: سعيد)
(ويبدأ من غلته بعمارته) ثم ما هو أقرب لعمارته كإمام مسجد ومدرس مدرسة يعطون بقدر كفايتهم ثم السراج والبساط كذلك إلى آخر المصالح وتمامه في البحر (وإن لم يشترط الوقف) لثبوته اقتضاء وتقطع الجهات للعمارة إن لم يخف ضرر بين فتح، فإن خيف كإمام وخطيب وفراش قدموا فيعطى المشروط لهم..... ثم الفاضل للفقراء أو للمستحقين...... ويدخل في وقف المصالح قيم ... إمام خطيب والمؤذن يعبرالشعائر التي تقدم شرط أم لم يشترط بعد العمارة هي إمام وخطيب ومدرس ووقاد وفراش ومؤذن وناظر.
والله تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص،کراچی