resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: تبلیغی جماعت کے باہمی اختلافات اور مساجد میں داخلے پر پابندی: شرعی حیثیت اور مفصل رہنمائی

(59428-No)

سوال: مفتی صاحب! میرا تعلق بنگلہ دیش سے ہے، لیکن میں کئی سال سے آسٹریلیا میں مقیم ہوں۔ ایک عرصے تک دین سے دور تھا، پھر آسٹریلیا میں تبلیغی جماعت کے احباب نے مجھے تین دن کے لیے اللہ کے راستے میں تشکیل کیا، جس کے بعد میری زندگی میں دینی تبدیلی آئی۔ بعد ازاں بنگلہ دیش آکر تبلیغی جماعت کی ترتیب کے مطابق ایک چلہ کے لیے نکلا۔ اس دوران ایک مسجد میں قیام کے لیے گیا، جہاں تبلیغی جماعت کے دوسرے احباب بھی موجود تھے۔ انہوں نے ہمیں یہ کہہ کر مسجد سے نکال دیا کہ تم گمراہ ہو اور تمہیں مسجد میں رہنے کا کوئی اختیار نہیں۔ ہمارے امیر نے کہا کہ ہم مسلمان ہیں، لیکن اس کے باوجود ہمیں مسجد سے نکال دیا گیا۔
بعد میں آسٹریلیا میں موجود میرے ایک عالم صاحب، جو دارالعلوم کراچی کے فاضل ہیں، سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ تبلیغی جماعت میں دو فریق ہوگئے ہیں: ایک امارت کے نظام کے مطابق کام کرنے والے اور دوسرے شورائیت کے نظام کے مطابق کام کرنے والے۔ بنگلہ دیش میں بعض جگہ امیر کو مان کر کام کرنے والوں کو مساجد سے نکال دیا جاتا ہے۔ میں نے خود بھی تحقیق کی تو کئی جگہ ایسا ہی پایا۔
اس بارے میں پوچھنے پر بتایا گیا کہ دارالعلوم دیوبند کا ایک فتویٰ موجود ہے جس میں لکھا ہے کہ صرف نظامِ تبلیغی مرکز سے تعلق رکھنے کی وجہ سے کسی کو مسجد سے نہ نکالا جائے۔ جب میں نے یہ فتویٰ دکھایا تو جواب دیا گیا کہ یہ بہت پرانا ہے اور اب قابلِ عمل نہیں۔
میری درخواست ہے کہ کیا محض تبلیغی جماعت کے باہمی اختلاف کی وجہ سے کسی مسلمان کو مسجد سے نکالنا شرعاً جائز ہے؟ نیز کیا امارت یا شورائیت کے اختلاف کی بنیاد پر کسی کو گمراہ قرار دینا اور مسجد میں قیام سے روکنا درست ہے؟ براہِ کرم اس بارے میں شرعی رہنمائی فرمائیں۔

جواب: آپ نے جو صورتِ حال بیان کی ہے، وہ واقعی دلخراش ہے، کیونکہ جن احباب کا بنیادی کام ہی مسلمانوں کو جوڑنا، محبت بانٹنا اور دین کی دعوت دینا ہے، ان کے درمیان اس نوعیت کے اختلافات دیکھ کر فطری طور پر دُکھ ہوتا ہے۔ دارالعلوم دیوبند یا کسی مستند دارالافتاء کی جانب سے دی گئی اسں رہنمائی کو کہ"صرف نظامِ تبلیغی مرکز سے تعلق رکھنے کی وجہ سے کسی کو مسجد سے نہ نکالا جائے" محض ’’پرانا فتویٰ‘‘ کہہ کر مسترد کرنا انتہائی نامناسب کام ہے۔ شریعت کے بنیادی اصول، مسلمانوں کے باہمی حقوق، مسجد کا احترام اور اخوت و رواداری کی اہمیت وقت گزرنے کے ساتھ تبدیل نہیں ہوتی، لہٰذا سابقہ مستند فتاویٰ اور خیرخواہانہ آراء کو ضد کی بنیاد پر رد کرنے کے بجائے ان کی شرعی بنیاد کو سمجھنا اور موجودہ صورتِ حال میں اہلِ علم کی رہنمائی حاصل کرنا اوراختلافات سے دور رہنا ہی زیادہ محتاط اور مناسب طرزِ عمل ہے، اب آپ کے سوالات کےجوابات درج ذیل ہے:
۱) نہیں، ایسا کرنا شرعاً بالکل جائزنہیں ہے، مساجد اللہ تعالیٰ کا گھر ہیں اور تمام مسلمانوں کے لیے یکساں طور پر عبادت، سکون اور ذکر کی جگہیں ہیں۔ قرآن کریم میں مساجد کو آباد کرنے اور وہاں اللہ کا نام لینے کی ترغیب دی گئی ہے۔ کسی بھی کلمہ گو مسلمان کو محض فکری یا تنظیمی اختلاف کی بنیاد پر مسجد سے نکالنا یا وہاں قیام سے روکنا کسی بھی طرح درست نہیں، کیونکہ اس سے آپس میں دُوریاں اور نفرتیں بڑھتی ہیں۔
۲) یہ طریقہ کار درست نہیں ہے، تبلیغی جماعت کے اندر نظامِ امارت یا نظامِ شوریٰ کا جو اختلاف ہے، وہ انتظامی، فکری اور اجتہادی نوعیت کا ہے، اس کا تعلق عقیدہ و ایمان سے ہرگز نہیں، اس طرح کے تنظیمی اختلافات کی بنیاد پر کسی مسلمان بھائی کو "گمراہ" یا غلط قرار دینا اور اسے مسجد میں قیام سے روکنا جذباتیت ہے، حکمت نہیں۔ مقتدر علماء اور مفتیانِ کرام کی ہمیشہ سے یہی نصیحت رہی ہے کہ ان داخلی و انتظامی امور میں اعتدال، رواداری اور وسعتِ قلبی سے کام لیا جائے۔
ایک مخلصانہ نصیحت
دلبرداشتہ نہ ہوں: دین کا دائرہ بہت وسیع ہے اور اس راہ میں اس طرح کے آزمائشی مرحلے آتے رہتے ہیں، آپ ان تلخ رویوں سے دلبرداشتہ ہو کر دین سے دُور نہ ہوں، اپنی اصلاح پر توجہ دیں: اپنے ایمان، اعمال، اخلاق اور دعوت کے اصل مقصد پر توجہ مرکوز رکھیں، اور بلاوجہ کی بحثوں اور گروہ بندیوں سے پرہیز کریں تاکہ آپ کی محنت ضائع نہ ہو، اللہ تعالیٰ تمام احباب کو عقلِ سلیم، باہمی رواداری اور محبت کے ساتھ دین کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
اس موقع پر ہم دونوں جماعتوں کو وہی نصحیت کریں گے جو اس سلسلہ میں بھارت کے شہر میسور سے وہاں کے سینکڑوں علماء کرام کے باہمی مشورہ طے ہوا تھا اور روزنامہ اسلام، لاہور۴ دسمبر ۲۰۱۸ءکو چھپاتھا جوکہ بعینہ درج ذیل ہے:
1) ہم تمام علماء بالاتفاق اس دعوت الی اللہ کے کام کو جو ہمارے اکابر ثلاثہ کی رہنمائی پر ہو، اس محنت کو نہایت محبت و عقیدت اور عظمت کی نظر سے دیکھتے ہیں، اس لیے کہ اکابر دیوبند نے اس دعوت الی اللہ کی محنت کو بڑی عقیدت سے دیکھا ہے اور بڑی امیدیں لگائی ہیں۔
2) اللہ کے راستے میں نکلنے والی جماعتیں چاہے وہ مرکز نظام الدین کے مشورے سے آئی ہوں یا عالمی شورٰی کے مشورے سے آئی ہوں، سب قابل احترام ہیں اور تمام سے گزارش ہے کہ ان جماعتوں کا اکرام و احترام کریں چونکہ یہ دعوت الی اللہ کے عظیم مقصد کو لے کر چلے ہیں۔
3) حضرات علماء کی یہ درد مندانہ اپیل ہے کہ تمام جماعتیں جن کا مقصد دعوت الی اللہ ہے، یہ حضرت مولانا شاہ محمد الیاسؒ، حضرت مولانا شاہ محمد یوسفؒ اور حضرت مولانا انعام الحسنؒ، ان اکابر ثلاثہ کے بتلائے ہوئے اصولوں کے دائرہ میں رہ کر کام کریں گی، اور چھ نمبر جو ان اکابر ثلاثہ کی تعلیم ہے اسی کے دائرہ میں رہ کر کام کرنے کی ہدایت دیتے ہیں۔
4) حضرات علماء کی یہ اپیل ہے کہ کوئی بھی جماعت موجودہ اختلافات کو موضوع بنا کر کوئی کلام نہ کرے، مرکز نظام الدین سے تعلق رکھنے والے احباب عالمی شورٰی کے متعلق کوئی کلام نہ کریں اور عالمی شورٰی والے احباب مرکز نظام الدین کے متعلق اور مولانا سعد صاحب دامت برکاتہم کے متعلق اپنی مجالس دینیہ میں ایسی اختلافی بات سے پرہیز کریں۔
5) ضلع میسور کی سطح پر جتنے تبلیغی حلقے پہلے ہی سے تقسیم ہیں، وہاں ہر دو فریق کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ اخلاص کو مدّنظر رکھتے ہوئے جماعتوں کا رخ طے کریں اور حسن ترتیب سے اس جماعت سے خدمت لیں اور آپسی اختلافات و انتشار سے اپنے آپ کو بچائے رکھیں۔
6) ضلع میسور کے تمام متولیان مساجد صدر و سیکرٹری کو ہم یہ ہدایت دیتے ہیں کہ اپنے اپنے حلقے کے مشورے کے بعد آنے والی جماعت کا اپنی مسجد میں صدق دل سے استقبال کریں اور اس جماعت کی عزت و تکریم بھی ہو، حتی المقدور ان کی خدمت کا لحاظ رکھیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القرآن الکریم: (البقرة، الایة: 114)
وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ مَنَعَ مَسَاجِدَ اللَّهِ أَنْ يُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ وَسَعَى فِي خَرَابِهَا أُولَئِكَ مَا كَانَ لَهُمْ أَنْ يَدْخُلُوهَا إِلَّا خَائِفِينَ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا خِزْيٌ وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ o

و قوله تعالی: (الجن، الایة: 18)
وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّهِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّهِ أَحَدًا o

أحكام القرآن للجصاص: (75/1، 1405، ط: دار إحياء التراث العربي - بيروت)
قوله ومن أظلم ممن منع مساجد الله أن يذكر فيها اسمه والمنع يكون من وجهين أحدهما بالقهر والغلبة والآخر الإعتقاد والديانة والحكم لأن من اعتقد من جهة الديانة المنع من ذكر الله في المساجد فجائز أن يقال فيه قد منع مسجدا أن يذكر فيه اسمه فيكون المنع ههنا معناه الحظر

التحرير والتنوير: (241/29، ط: دار سحنون للنشر والتوزيع – تونس)
وإنما عبر في هذه الآية وفي آية ) ومن أظلم ممن منع مساجد الله ( ( البقرة : 114 ( بلفظ ) مساجد ( ليدخل الذين يفعلون مثل فعلهم معهم في هذا الوعيد ممن شاكلهم ممن غيّروا المساجد .
{ وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنْتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا وَكُنْتُمْ عَلَى شَفَا حُفْرَةٍ مِنَ النَّارِ فَأَنْقَذَكُمْ مِنْهَا كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ } [آل عمران: 103]

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Rights & Etiquette of Mosques