سوال:
ہمارے والد نے اپنی زمین کا ایک حصہ قبرستان کے لئے وقف کیا تھا جو برسوں سے فعال ہے۔ کیا اس وقف زمین سے ایک گھر کے لئے سڑک بنائی جا سکتی ہے؟جبکہ متبادل راستہ موجود ہے۔ راہنمائی فرمئیں ۔اللہ جزا خیر عطا کرے آمین
جواب: واضح رہے کہ ایک مرتبہ جب زمین کسی مقصد کے لیے وقف کردی جائے تو پھر وہ زمین مالک کی ملکیت سے نکل جاتی ہے اور اس موقوفہ زمین کا کسی دوسرے مقصد میں استعمال کرنا، فروخت کرنا یا ہبہ کرنا جائز نہیں ہوتا۔ اس لیے سوال میں پوچھی گئی صورت میں مذکور وقف قبرستان سے گھر کے لیے سڑک بنانا جائز نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*الھندیة :(362/2، ط: دار لفکر)*
البقعة الموقوفة على جهة إذا بنى رجل فيها بناء ووقفها على تلك الجهة يجوز بلا خلاف تبعا لها، فإن وقفها على جهة أخرى اختلفوا في جوازه والأصح أنه لا يجوز كذا في الغياثية
*وفیھا ایضا :(471/2، ط: دار لفکر)*
سئل القاضي الإمام شمس الأئمة محمود الأوزجندي عن مسجد لم يبق له قوم وخرب ما حوله واستغنى الناس عنه هل يجوز جعله مقبرة؟ قال: لا. وسئل هو أيضا عن المقبرة في القرى إذا اندرست ولم يبق فيها أثر الموتى لا العظم ولا غيره هل يجوز زرعها واستغلالها؟ قال: لا، ولها حكم المقبرة، كذا في المحيط
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی