سوال:
السلام علیکم، مفتی صاحب! ان مسائل کے حوالے سے رہنمائی درکار ہیں۔
۱) اگر کوئی شخص بینک میں پیسے رکھ کر اس پر سود لیتا ہے اور وہ ان سود کے پیسوں سے یا حرام امدنی ( جیسے شراب کا کاروبار ) سے مسجد تعمیر کروا رہا ہے تو کیا یہ کفر ہے ، کیا اس سے تجدید ایمان لازم ہو جائے گا؟
۲) اگر کسی کے پاس حرام پیسے موجود تھے اور وہ پیسے شراب کے کاروبار سے حاصل کیے گئے تھے، اب اس نے وہ پیسے ثواب کی نیت کے بغیر صدقہ کیے کسی مدرسے میں یا مسجد میں۔ کیا اس شخص نے فرض ادا کر دیا یا صدقہ کرتے وقت اس کو یہ بتانا چاہیے تھا کہ یہ پیسے حرام ہیں اور ان کو ثواب کی نیت کے بغیر صدقہ کیا جا رہا ہے تاکہ مسجد یا مدرسے کی انتظامیہ اس کو صرف وہاں خرچ کرتی جو کہ توہین والی جگہ سمجھی جاتی ہے؟ اگر کسی نے بِنا بتائے صدقہ کر دیا اور ایک عرصہ بھی گزر گیا تو کیا اب بتانا ضروری ہے؟
۳) اگر کسی کے پاس حرام امدنی ( جیسے شراب کا کاروبار ) سے حاصل پیسے رکھے ہوئے تھے اور وہ حلال پیسوں کے ساتھ مکس ہو گئے، کیا اب وہ بعد میں کمائے جانے والے حلال پیسوں پر یہ نیت کر سکتا ہے کہ ان میں سے میں اتنے پیسے بِنا ثواب کی نیت کے صدقہ کروں گا جتنے حرام پیسے حلال کے ساتھ مکس ہو گئے اور اگر اب وہ یہ نیت کر لیتا ہے تو کیا اب اس کے لیے جو حرام پیسے مکس ہو گئے تھے حلال پیسوں کے ساتھ ان کا استعمال جائز ہوگا؟ جزاک اللہ
جواب: سود اور شراب کے کاروبار سے حاصل ہونے والی آمدنی حرام ہے، اور ایسے کاروبار کو فوراً چھوڑ کر سچی توبہ کرنا لازم ہے۔ موجود حرام مال ثواب کی نیت کے بغیر مستحق فقراء کو صدقہ کرنا لازم ہے، مسجد کی تعمیر اور دیگر عبادتی کاموں میں اسے خرچ کرنا درست نہیں۔
(1) حرام مال سے مسجد تعمیر کروانا ناجائز اور گناہ ہے، لیکن محض اس عمل سے کفر لازم نہیں ہوتا اور نہ تجدیدِ ایمان ضروری ہوتا ہے، البتہ حرام کو حلال سمجھنے یا حرام مال کے خرچ ہی کو باعثِ ثواب سمجھنے کی صورت میں کفر لازم آنے کا اندیشہ ہے، لہٰذا اس سے بچنا لازم ہے، تاہم کسی معین شخص پر تحقیق کے بغیر کفر کا حکم نہیں لگایا جائے گا۔
(2) حرام رقم کا حکم یہ ہے کہ وہ کسی مستحق کو بلا نیتِ ثواب صدقہ کردی جائے، یہ رقم مسجد یا مدرسے کی تعمیر میں نہیں دی جا سکتی، نیز مدرسے کے مستحق طلبہ کو بھی حرام رقم دینا مناسب نہیں ہے، بلکہ انہیں اپنے حلال مال میں سے دینا ان کے لائق منصب ہے۔
(3) حرام رقم حلال مال میں مل جائے تو اس کے برابر رقم اسی مال یا بعد میں کمائے گئے حلال مال سے بلا نیتِ ثواب صدقہ کرنا لازم ہے، لیکن صرف نیت کافی نہیں، بلکہ اتنی مقدار عملاً ادا کرنا ضروری ہے، ادائیگی کے بعد باقی مال کا استعمال جائز ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*دلائل:*
*قال اللہ تعالیٰ: [البقرة: 275]*
﴿وَأَحَلَّ ٱللَّهُ ٱلۡبَيۡعَ وَحَرَّمَ ٱلرِّبَوٰاْۚ﴾
*صحيح البخاري: (6/ 2702 ، حدیث: 6993-ط: دار ابن كثير، دار اليمامة)*
عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (من تصدق بعدل تمرة من كسب طيب، ولا يصعد إلى الله إلا الطيب، فإن الله يتقبلها بيمينه، ثم يربيها لصاحبها كما يربي أحدكم فلوه، حتى تكون مثل الجبل). وعن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم: (ولا يصعد إلى الله إلا الطيب).
*صحيح مسلم (3/ 85 – ط: دار الطباعة العامرة ،تركيا):*
عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أيها الناس، إن الله طيب لا يقبل إلا طيبا
*حاشية ابن عابدين (5/ 99 -ط: دار الفكر ، بيروت):*
والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه،
*حاشية ابن عابدين (1/ 658- ط: دار الفكر ، بيروت):*
(قوله لو بماله الحلال) قال تاج الشريعة: أما لو أنفق في ذلك مالا خبيثا ومالا سببه الخبيث والطيب فيكره لأن الله تعالى لا يقبل إلا الطيب، فيكره تلويث بيته بما لا يقبله. اه.
*الاختيار لتعليل المختار (3/ 61 - كتاب الغصب):*
والملك الخبيث سبيله التصدق به، ولو صرفه في حاجة نفسه جاز. ثم إن كان غنيا تصدق بمثله، وإن كان فقيرا لا يتصدق.
*العرف الشذي شرح سنن الترمذي (1/ 38 – ط: دار التراث العربي ،بيروت):*
فالثواب إنما يكون على ائتمار الشارع، وأما رجاء الثواب من نفس المال فحرام، بل ينبغي لمتصدق الحرام أن يزعم بتصدق المال تخليص رقبته
*حاشية ابن عابدين (2/ 292 -ط: دار الفكر ، بيروت):*
رجل دفع إلى فقير من المال الحرام شيئا يرجو به الثواب يكفر، ولو علم الفقير بذلك فدعا له وأمن المعطي كفرا جميعا.ونظمه في الوهبانية وفي شرحها: ينبغي أن يكون كذلك لو كان المؤمن أجنبيا غير المعطي والقابض، وكثير من الناس عنه غافلون ومن الجهال فيه واقعون. اه. قلت: الدفع إلى الفقير غير قيد بل مثله فيما يظهر لو بنى من الحرام بعينه مسجدا ونحوه مما يرجو به التقرب؛ لأن العلة رجاء الثواب فيما فيه العقاب ولا يكون ذلك إلا باعتقاد حله (قوله: إذا تصدق بالحرام القطعي) أي مع رجاء الثواب الناشئ عن استحلاله كما مر فافهم.
*حاشية ابن عابدين (5/ 99- ط: دار الفكر ، بيروت ):*
إذ لو اختلط بحيث لا يتميز يملكه ملكا خبيثا، لكن لا يحل له التصرف فيه ما لم يؤد بدله.
*البحر الرائق (2/ 228 - ط: دارالكتاب الإسلامي):*
ولم يشترط المصنف رحمه الله علم الآخذ بما يأخذه أنه زكاة للإشارة إلى أنه ليس بشرط، وفيه اختلاف والأصح كما في المبتغى والقنية أن من أعطى مسكينا دراهم وسماها هبة أو قرضا ونوى الزكاة فإنها تجزئه، ولم يشترط أيضا الدفع من عين مال الزكاة لما قدمناه من أنه لو أمر إنسانا بالدفع عنه أجزأه
*الفتاوى العالمكيرية (1/ 171 - ط: دار الفكر):*
ومن أعطى مسكينا دراهم وسماها هبة أو قرضا ونوى الزكاة فإنها تجزيه
واللہ تعالٰی أعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی