عنوان: جوبلی لائف انشورنس کمپنی کے ٹیکنیکل شعبہ میں میں ملازمت اختیار کرنے کا حکم (106583-No)

سوال: مفتی صاحب ! جوبلی لائف انشورنس کے ٹیکنالوجی ڈپارٹمنٹ میں ملازمت کرنا اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کا حکم ارشاد فرمادیں۔

جواب: واضح رہے کہ مروجہ انشورنس کمپنیوں کی انشورنس پالیسی سود٬ جوا اور غرر (غیر یقنی صورتحال) پر مشتمل ہونے وجہ سے شرعاً ناجائز ہے٬ لہذا اس سے اجتناب لازم ہے۔
چونکہ ان انشورنس کمپنی کی اکثر آمدنی ناجائز اور حرام طریقوں سے حاصل ہوتی ہے، اس لیے اس میں ملازمت اختیار کرنا جائز نہیں ہے۔
البتہ علماء کرام نے شریعت کے اصولوں کے مطابق انشورنس کے متبادل "تکافل" کا نظام تجویز کیا ہے، لہذا اگر کمپنی میں تکافل کا نظام ہو اور علماء کرام کی سرپرستی میں کام ہو رہا ہو، تو اس سے بوقت ضرورت استفادہ کیا جا سکتا ہے اور اس کی پالیسی لی جاسکتی ہے۔
صورت مسئولہ میں اگر ملازمت کمپنی کے ٹیکنیکل شعبے کا تعلق "تکافل" وغیرہ سے ہے، تو اس میں ملازمت کرنے کی شرعا اجازت ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

لما فی القرآن الکریم:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ۔ فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ۖ وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ۔

(سورۃ البقرة، الایة: ،279,278)

وفیہ ایضاً:

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنَّمَا الۡخَمۡرُ وَ الۡمَیۡسِرُ وَ الۡاَنۡصَابُ وَ الۡاَزۡلَامُ رِجۡسٌ مِّنۡ عَمَلِ الشَّیۡطٰنِ فَاجۡتَنِبُوۡہُ لَعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ ﴿۹۰﴾

(سورۃ المائدۃ، آیت: 90)

و فی صحیح المسلم:

عن جابرؓ قال: لعن رسول اللّٰہ ﷺ اٰکل الربا وموکلہ وکاتبہ وشاہدیہ ، وقال: ہم سواء"

"ج3 ص1219 ط. دار احیاء التراث العربی)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Print Full Screen Views: 432
Jubilie life insurance company ky technical shuba/shubay /shoba/shoby men mulazimat ikhtiyaar kerna

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Employee & Employment

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.