سوال:
میرے شوہر دوسری عورتوں کے ساتھ زنا کرتے ہیں۔ میں انہیں سمجھا سمجھا کر تھک گئی ہوں، لیکن وہ نہ اپنی اصلاح کرتے ہیں اور نہ ہی مجھے اپنے ساتھ رکھتے ہیں۔ انہوں نے مجھے گھر سے نکال دیا ہے۔ گزشتہ چار سال سے بچوں کی پرورش بھی میں اکیلے کر رہی ہوں۔ میرے شوہر نہ میرے پاس آتے ہیں، نہ خرچہ دیتے ہیں اور نہ ہی طلاق دیتے ہیں، بلکہ کہتے ہیں کہ تم ساری زندگی اسی طرح رہو۔ مجھے اپنے اخراجات بھی خود ہی برداشت کرنے پڑتے ہیں۔ مجھے زنا میں مبتلا ہونے کا بھی خوف رہتا ہے اور میں دوسری شادی کرنا چاہتی ہوں، لیکن میرے شوہر طلاق دینے پر راضی نہیں ہیں۔ ایسی صورت میں میرے لیے شرعی طور پر کیا حکم ہے اور میں کیا کروں؟
جواب: پوچھی گئی صورت میں اگر آپ کا بیان حقیقت پر مبنی ہے، اور آپ کا شوہر اپنی ذمہ داری ادا نہیں کررہا، نہ آپ کو رہائش فراہم کررہا ہے اور نہ ہی نان نفقے کا خرچہ دے رہا ہے، اور صلح اور نباہ کی کوئی صورت بھی نہیں بن رہی ہے تو پہلے آپ کسی طرح شوہر کو طلاق یا خلع پر راضی کرنے کی کوشش کریں لیکن اگر وہ اس کے لیے راضی نہ ہو اور آپ مزید اس طرح تنہا زندگی بسر نہیں کرسکتی تو اس صورت میں مذکورہ شوہر سے خلاصی حاصل کرنے کے لئے عدالت سے رجوع کیا جاسکتا ہے، چونکہ آپ کا شوہر عرصہ دراز سے رہائش اور نان و نفقہ نہیں دے رہا ہے تو اسی بات کو بنیاد بنا کر عدالت میں فسخِ نکاح کی درخواست دائر کریں، پھر جب عدالت شرعی قوانین کے مطابق نکاح کی تنسیخ کردے اور آپ کو فسخِ نکاح کی ڈگری مل جائے تو اس ڈگری کو کسی مستند دارالافتاء بھیج کر فتویٰ حاصل کرلیں اور اس فتویٰ کے مطابق عمل کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
القرآن الكريم: (النساء، الاية: 128، 129، 130)
وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يُصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًا وَالصُّلْحُ خَيْرٌ وَأُحْضِرَتِ الْأَنْفُسُ الشُّحَّ وَإِنْ تُحْسِنُوا وَتَتَّقُوا فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا O وَلَنْ تَسْتَطِيعُوا أَنْ تَعْدِلُوا بَيْنَ النِّسَاءِ وَلَوْ حَرَصْتُمْ فَلَا تَمِيلُوا كُلَّ الْمَيْلِ فَتَذَرُوهَا كَالْمُعَلَّقَةِ وَإِنْ تُصْلِحُوا وَتَتَّقُوا فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ غَفُورًا رَحِيمًا O وَإِنْ يَتَفَرَّقَا يُغْنِ اللَّهُ كُلًّا مِنْ سَعَتِهِ وَكَانَ اللَّهُ وَاسِعًا حَكِيمًاO
رد المحتار: (441/3، ط: دار الفکر)
وأما ركنه فهو كما في البدائع: إذا كان بعوض الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلاتقع الفرقة ولايستحق العوض بدون القبول".
الفقه الاسلامی و ادلته: (7015/9، ط: دار الفکر)
وقد اعتبر الحنفية ركن الخلع هو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض، فلا تقع الفرقة ولا يستحق العوض بدون القبول
الموسوعة الفقهیة الکویتیة: (321/41، ط: دار السلاسل)
ينتهي النكاح وتنفصم عقدته بأمور: منها ما يكون فسخا لعقد النكاح يرفعه من أصله أو يمنع بقاءه واستمراره، ومنها ما يكون طلاقا أو في حكمه
حیلة ناجزۃ: (ص: 150، ط: دار الاشاعت)
وأما المتعنت الممتنع عن الإنفاق ففي مجموع الأمير ما نصه: إن منعها نفقة الحال فلها القيام فإن لم يثبت عسره أنفق أو طلق وإلا طلق عليه. قال محشيه: قوله: وإلا طلق، أي طلق عليه الحاكم من غير تلوم، إلى أن قال: وإن تطوع بالنفقة قريب أو أجنبي، فقال ابن القاسم: لها أن تفارق؛ لأن الفراق قد وجب لها، وقال ابن عبد الرحمن: لا مقال لها؛ لأن سبب الفراق هو عدم النفقة قد انتفى وهو الذي تقضيه المدونة كما قال ابن المناصف.أنظر الحطاب. انتهى.
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی