سوال:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، محترم مفتی صاحب! براہِ کرم اس مسئلے میں شرعی رہنمائی فرمائیں۔
تقریباً 12 سال پہلے میرے ابو نے میری امی کو غصے کی حالت میں طلاق کے الفاظ کہے، میری امی کے مطابق ابو نے دو مرتبہ طلاق کے الفاظ واضح طور پر کہے، جو امی نے خود سنے۔
جب ابو تیسری مرتبہ طلاق کہنے لگے تو میرے بھائی کی بیوی (میری امی کی بہو) نے امی کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا، اس کے بعد امی اندر کمرے میں چلی گئیں، اس لیے امی نے تیسری مرتبہ طلاق کے الفاظ خود نہیں سنے۔
بعد میں میری امی کی بہو اندر آ کر بتاتی ہیں کہ ابو نے تیسری مرتبہ بھی طلاق کہہ دی تھی، لیکن امی نے تیسری مرتبہ خود نہیں سنا، اب میری امی کی بہو اس بات پر قسم اٹھانے کے لیے بھی تیار نہیں ہیں اور نہ ہی اب اس معاملے میں آتی ہیں۔
میرے ابو کا کہنا ہے کہ انہوں نے صرف دو مرتبہ طلاق کے الفاظ کہے تھے اور وہ قرآنِ پاک پر ہاتھ رکھ کر حلف دینے کے لیے تیار ہیں کہ انہوں نے دو مرتبہ ہی کہا تھا۔
اس واقعے کے بعد سے میرے ابو اور امی تقریباً 12 سال سے الگ الگ رہ رہے ہیں اور ساتھ نہیں رہتے۔
براہِ کرم بتائیں کہ اس صورتحال میں شرعاً کتنی طلاقیں واقع ہوئی ہیں؟ کیا تیسری طلاق کے بارے میں صرف میری امی کی بہو کے بتانے سے کوئی حکم ثابت ہوگا، جبکہ امی نے تیسری طلاق خود نہیں سنی اور بہو اب قسم اٹھانے کے لیے بھی تیار نہیں؟ ابو کے حلف کا کیا اعتبار ہوگا؟ اور اس وقت میرے ابو اور امی کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ جزاکم اللہ خیراً
جواب: پوچھی گئی صورت میں اگر شوہر نے واقعی تین طلاقیں دی تھیں تو تینوں طلاقیں واقع ہوچکی ہیں، خواہ بیوی نے خود طلاق کے الفاظ سنے ہوں یا نہ سنے ہوں۔ ایسی صورت میں میاں بیوی کے درمیان دوبارہ نکاح جائز نہیں ہے، البتہ اگر شوہر تیسری طلاق سے انکار کررہا ہے تو محض بہو کے دعوے کی بنیاد پر تیسری طلاق ثابت نہیں ہوگی، بلکہ اس کا فیصلہ شرعی ضابطے کے مطابق کیا جائے گا۔ چنانچہ اگر بہو کے پاس اپنے دعوے کو ثابت کرنے کے لیے شرعی گواہ، یعنی دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتیں موجود ہوں تو اس کی گواہی کی بنیاد پر تیسری طلاق کے وقوع کا حکم لگایا جائے گا، لیکن اگر اس کے پاس مذکورہ ضابطے کے مطابق گواہ موجود نہ ہوں تو شوہر سے قسم لی جائے گی کہ اس نے تیسری طلاق نہیں دی تھی۔ اگر شوہر قسم کھا لے تو میاں بیوی باہمی رضامندی سے نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کرنا چاہیں تو کرسکتے ہیں۔
تاہم اگر بیوی کو یہ یقین ہو کہ بہو سچ کہہ رہی ہے اور شوہر نے واقعی تیسری طلاق دی تھی، لیکن اب وہ غلط بیانی سے کام لے رہا ہے تو ایسی صورت میں اس کے لیے شوہر سے دوبارہ نکاح کرنا جائز نہیں ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
الدر المختار: (كتاب الشهادات، 465/5، ط: دار الفکر)
(و) نصابها (لغيرها من الحقوق سواء كان) الحق (مالا أو غيره كنكاح وطلاق ووكالة ووصية واستهلال صبي) ولو (للإرث رجلان) إلا في حوادث صبيان المكتب فإنه يقبل فيها شهادة المعلم منفردا قهستاني عن التجنيس (أو رجل وامرأتان) ولا يفرق بينهما {فتذكر إحداهما الأخرى} [البقرة: ٢٨٢] ولا تقبل شهادة أربع بلا رجل لئلا يكثر خروجهن، وخصهن الأئمة الثلاثة بالأموال وتوابعها.
المحيط البرهاني في الفقه النعماني: (301/5، ط: دار الكتب العلمية)
ولو أن امرأة قالت لرجل: إن زوجي طلقني ثلاثا، وانقضت عدتي، فإن كانت عدلة وسعه أن يتزوجها، وإن كانت فاسقة تحرى، وعمل ما وقع تحريه عليه. ولو أخبرت أن أصل نكاحها كان فاسدا، أو أن زوجها أخوها من الرضاعة، فإنه لا يسعه أن يتزوجها، وإن كانت عدلة.
رد المحتار: (251/3، ط: دار الفكر)
المرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل له تمكينه.
واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص،کراچی