سوال:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! میرے بھائی جسمانی طور پر معذور اور معذورالحرکت ہیں، لیکن الحمد للہ ذہنی طور پر مکمل طور پر صحت مند، صاحبِ شعور اور اپنے فیصلے خود کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ وہ کوئی ملازمت یا کاروبار نہیں کرتے اور گھر پر رہتے ہیں، ان کا ایک فلیٹ ہے جس سے انہیں کرایہ کی آمدنی حاصل ہوتی ہے، میں اور میرا چھوٹا بھائی ان کی مالی ضروریات اور اخراجات برداشت کرتے ہیں۔
ان کی شادی نومبر 2025 میں ہوئی، نکاح سے قبل ہم نے لڑکی والوں سے میرے بھائی کی جسمانی معذوری، مالی حالات اور کفالت کے انتظامات کے بارے میں کوئی بات نہیں چھپائی تھی۔ وہ ہمارے گھر آئے، بھائی سے ملاقات کی اور خاتون نے خود بھی ان سے گفتگو کی، ہم نے واضح طور پر بتایا تھا کہ اگرچہ اسامہ صاحب خود روزگار نہیں رکھتے، لیکن ہم مالی طور پر مستحکم ہیں اور ان کی کفالت کرتے ہیں۔
لڑکی والوں نے بھی ہمیں بتایا تھا کہ خاتون پہلے سے مطلقہ ہیں اور بعض طبی مسائل کا شکار ہیں، انہوں نے یہ بھی بتایا تھا کہ ان کا ایسا آپریشن ہو چکا ہے جس کی وجہ سے وہ آئندہ اولاد پیدا نہیں کر سکتیں، یہ تمام باتیں میں نے بھائی کے سامنے رکھیں اور ان کی رضامندی کے بعد نکاح انجام پایا۔
نکاح کے وقت حقِ مہر دو سونے کے کڑے مقرر کیے گئے تھے، اس کے علاوہ ہم نے اپنی خوشی سے انہیں ایک سونے کی انگوٹھی بطور تحفہ دی تھی، مزید برآں میری مرحومہ والدہ کے زیورات میں سے ایک سونے کا ہار اور ایک جوڑا سونے کی بالیاں بھی انہیں بطور تحفہ دیا گیا تھا۔
شادی کے بعد خاتون مسلسل ملازمت کرنے پر اصرار کرتی رہیں، شادی سے قبل وہ ایک گارمنٹس فیکٹری میں کام کرتی تھیں، ہم نے انہیں گھر بیٹھ کر سلائی یا کسی مناسب کام سے نہیں روکا، لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں وسعت دی ہوئی ہے، اس لیے ہم فیکٹری یا اس نوعیت کے ماحول میں ملازمت کے حق میں نہیں تھے۔
وہ گھر کے کاموں میں بہت کم حصہ لیتی تھیں اور مسلسل اس بات کا مطالبہ کرتی تھیں کہ بھائی ہمارے گھر سے الگ ہو کر ان کے سابقہ کام کی جگہ یا ان کے رشتہ داروں کے قریب منتقل ہو جائیں۔ ہم نے ان کے علیحدہ رہائش کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے یہ پیشکش بھی کی کہ ہم ان کے لیے الگ رہائش کا انتظام کر سکتے ہیں، لیکن انہوں نے ہماری تجویز قبول نہ کی۔ وہ باقاعدگی سے اپنی بہن کے گھر جاتی تھیں اور ایک یا دو دن وہاں قیام کرتی تھیں۔
تقریباً تین ماہ بعد ان کا بھائی کے ساتھ اختلاف ہوا اور وہ گھر چھوڑ کر چلی گئیں۔ ہماری کوششوں کے بعد وہ واپس آئیں لیکن بعد ازاں دوبارہ اختلافات کے بعد گھر چھوڑ کر چلی گئیں۔ ہم نے متعدد مرتبہ انہیں واپس لانے، صلح کرانے اور معاملہ حل کرنے کی کوشش کی۔ ان کے رشتہ داروں کو بھی معاملے میں شامل کیا گیا، لیکن وہ کسی بات پر آمادہ نہ ہوئیں۔ اس دوران انہوں نے بھائی سے بھی رابطہ تقریباً ختم کر دیا۔
جب کئی ماہ گزر گئے اور صورتحال بہتر نہ ہوئی تو ہم نے معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کرتے ہوئے مزید انتظار کیا، لیکن تقریباً نو ماہ گزرنے کے باوجود ازدواجی تعلق بحال نہ ہو سکا، اب ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ یہ رشتہ برقرار رہنا ممکن نہیں رہا۔
چنانچہ طلاق دینے کا فیصلہ کیا گیا، طلاق نامہ (طلاق ڈیڈ) تیار کیا گیا، جس پر اسامہ نے دستخط کر دیے اور اسے وکیل کے ذریعے خاتون کے گھر پہنچا دیا گیا، اس طرح طلاق دی جا چکی ہے، اب ہم شرعی طور پر اپنے تمام فرائض اور ذمہ داریوں کے بارے میں مکمل اطمینان حاصل کرنا چاہتے ہیں تاکہ کسی کا حق باقی نہ رہ جائے، اس پس منظر میں درج ذیل امور کے بارے میں شرعی رہنمائی مطلوب ہے
1) طلاق نامہ شوہر کی جانب سے دستخط کیے جانے کے بعد وکیل کے ذریعے بیوی کے گھر پہنچایا جا چکا ہے۔،شریعت کے مطابق بیوی کے کون کون سے مالی حقوق ادا کرنا ضروری ہیں؟
2) چونکہ حقِ مہر دو سونے کے کڑے مقرر ہوئے تھے، کیا سونے کے کڑے دینے کے بجائے ان کی موجودہ مارکیٹ مالیت نقد رقم کی صورت میں ادا کی جا سکتی ہے؟
3) حقِ مہر کے علاوہ جو سونے کی انگوٹھی بطور تحفہ دی گئی تھی، نیز مرحومہ والدہ کے زیورات میں سے دی گئی سونے کی بالیاں اور ہار، کیا ان کی واپسی کا مطالبہ کیا جا سکتا ہے یا وہ شرعاً بیوی کی ملکیت شمار ہوں گے؟
4) اگر رخصتی اور خلوتِ صحیحہ ہو چکی ہو تو طلاق کی صورت میں عدت، نان و نفقہ اور دیگر شرعی حقوق کی کیا تفصیل ہے؟
5) چونکہ طلاق نامہ شوہر کی جانب سے دستخط کیے جانے کے بعد وکیل کے ذریعے بیوی کے گھر پہنچایا جا چکا ہے، کیا اس طریقے سے شرعاً طلاق واقع ہو گئی ہے، یا طلاق کے لیے کسی خاص طریقے، مخصوص الفاظ یا گواہوں کی موجودگی ضروری ہے؟
6) ہماری بیان کردہ صورتحال کی روشنی میں شرعی طریقے سے طلاق مکمل کرنے اور تمام حقوق ادا کرنے کے بارے میں رہنمائی فرمائیں۔جزاکم اللہ خیراً
جواب: 1) سوال کے ساتھ ارسال کردہ طلاق نامہ میں موجود الفاظ کے مطابق آپ کے بھائی نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیدی ہیں، تین طلاقیں واقع ہونے کے بعد حرمت مغلظہ ثابت ہوگئی ہے، اور یہ دونوں میاں بیوی ایک دوسرے کے لیے حرام ہوگئے ہیں۔ طلاقیں واقع ہونے کے بعد شرعی حکم کے مطابق مذکورہ خاتون پر عدت گزارنا ضروری ہے، دورانِ عدّت بیوی کی رہائش اور نان نفقے کا خرچہ شوہر کے ذمہ لازم ہے۔
2) جہاں تک مہر کا سوال ہے تو چونکہ میاں بیوی کے درمیان خلوتِ صحیحہ ہوچکی ہے، اس لیے شوہر کے ذمہ پورا مہر دینا لازم ہے، البتہ اگر عورت راضی ہو تو مہر میں مقرر کیے گئے سونے کے بدلے اس کی موجودہ قیمت کے اعتبار سے رقم بھی دی جاسکتی ہے۔
3) خاندان کے مختلف افراد کی طرف سے جو زیورات مذکورہ خاتون کو بطور ہدیہ دیدئے گئے تھے اور خاتون نے ان پر قبضہ بھی کرلیا تھا تو وہ تمام زیور (چاہے خاتون کے قبضے میں ہے یا شوہر کے قبضے میں) اس کی ملکیت ہے، بغیر اس کی رضامندی کے اس ہدیہ کیے ہوئے زیور کو واپس نہیں لیا جاسکتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*الھندیة: (473/1، ط: دار الفكر)*
وَإِنْ كَانَ الطَّلَاقُ ثَلَاثًا فِي الْحُرَّةِ وَثِنْتَيْنِ فِي الْأَمَةِ لَمْ تَحِلَّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ نِكَاحًا صَحِيحًا وَيَدْخُلَ بِهَا ثُمَّ يُطَلِّقَهَا أَوْ يَمُوتَ عَنْهَا، كَذَا فِي الْهِدَايَةِ۔
*بدائع الصنائع: (291/4، ط: دار الکتب العلمیۃ)*
ثم ان کتب علی الوجہ المرسوم و لم یعلقہ بشرط، بان کتب "اما بعد یا فلانۃ فانت طالق" وقع الطلاق عقیب کتابۃ لفظ طالق الطلاق بلا فصل۔
*وفیه ایضاً: (128/6 ط: دار الکتب العلمیۃ)*
وأما شرائط الرجوع بعد ثبوت الحق حتى لايصح بدون القضاء والرضا؛ لأن الرجوع فسخ العقد بعد تمامه وفسخ العقد بعد تمامه لا يصح بدون القضاء والرضا كالرد بالعيب في البيع بعد القبض۔
*الفتاوی التاتارخانیة: (163/4،ط: رشیدیۃ)*
وفي شرح الطحاوي: المهر لا یخلو: إما أن یکون دینا أو عینا، ونعني بالعین: العروض والحيوان ... ونعني بالدین الدراهم والدنانیر، أما اذا کان المهر عینا فلیس للزوج أن یدفع الیها غیره، وإن کان دینا کان للزوج أن یحبسه ویدفع غیرہ.
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی