resize-left-dar mid-dar right-dar
✨ Ask AI

عنوان: تین طلاقوں کی ایک صورت کا حکم

(65733-No)

سوال: محترم مفتی صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! گزارش ہے کہ میرے طلاق کے معاملے میں قرآن و سنت کی روشنی میں شرعی رہنمائی فرمائیں۔ واقعہ درج ذیل ہے:
پہلا واقعہ (دو ماہ قبل):
میرے شوہر نے غصے میں مجھے کہا: "تو میری نہیں، میری طرف سے تجھے طلاق ہے۔" اس کے بعد میری عدت کے اندر ہی انہوں نے مجھ سے رجوع کرلیا تھا اور ہم دوبارہ ساتھ رہنے لگے تھے۔
دوسرا واقعہ (چار دن بعد):
پہلے واقعے کے چار دن بعد گھر میں ایک بات پر شدید جھگڑا ہوا۔ شوہر نے غصے میں مجھے موبائل پر ٹیکسٹ میسجز بھیجے۔ انہوں نے یہ پیغامات ایک کے بعد ایک مسلسل (Back-to-Back) بھیجے، جن کے درمیان ایک منٹ کا بھی وقفہ نہیں تھا۔ انہوں نے درج ذیل تین جملے مسلسل لکھ کر بھیجے:
"میں دانیال، نمرہ سلیم کو اپنے ہوش میں طلاق دیتا ہوں۔" "میں دانیال، نمرہ سلیم کو طلاق دیتا ہوں۔" "اب میری طرف سے تُو فارغ ہے۔"
ہم کسی مخصوص مسلک کی اندھی تقلید نہیں کرتے، بلکہ صرف قرآن مجید اور صحیح احادیث (قرآن و سنت) کے فیصلے کو آخری اور حتمی مانتے ہیں۔ آپ سے درج ذیل سوالات کے جوابات مطلوب ہیں:
1) کیا ایک ہی وقت میں، بغیر کسی وقفے کے مسلسل بھیجے گئے ان ٹیکسٹ میسجز سے ایک طلاق واقع ہوئی یا تینوں طلاقیں نافذ ہوگئیں؟
2) قرآن و سنت کی روشنی میں ہماری کل کتنی طلاقیں شمار ہوں گی؟
3) کیا اب بھی ہمارے درمیان صلح (رجوع) یا نئے نکاح کی کوئی شرعی گنجائش باقی ہے؟
براہِ کرم قرآن و سنت کے ٹھوس دلائل کی روشنی میں شرعی حکم بیان فرما دیں، تاکہ ہمارا شک دور ہوسکے۔

جواب: پوچھی گئی صورت میں پہلی مرتبہ شوہر نے اپنے اس جملے ’’ تو میری نہیں ہے‘‘ سے اگر طلاق دینے کی نیت کی تھی تو ایک طلاقِ بائن واقع ہوگئی تھی، لیکن اگر طلاق کی نیت نہیں تھی تو اس جملے سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔ تاہم اس کے بعد شوہر کے اس جملے ’’میری طرف سے تجھے طلاق ہے‘‘ سے طلاق واقع ہوگئی تھی، پھر چار دن بعد شوہر کے ان الفاظ ’’میں دانیال، نمرہ سلیم کو اپنے ہوش میں طلاق دیتا ہوں‘‘ اور ’’میں دانیال، نمرہ سلیم کو طلاق دیتا ہوں‘‘ سے مجموعی طور پر تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں۔
لہٰذا اب نہ رجوع کی گنجائش ہے اور نہ ہی باہمی رضامندی سے دوبارہ نکاح کیا جا سکتا ہے، البتہ اگر عورت پہلے شوہر کی عدت گزار کر کسی اور مرد سے نکاح کرے اور اس سے ازدواجی تعلقات قائم کرے، پھر وہ اسے طلاق دیدے یا اس کا انتقال ہو جائے، پھر عورت عدت گزار کر پہلے شوہر سے نکاح کرے تو ایسا کرنا جائز ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

*سنن أبي داود: (باب في اللعان، رقم الحدیث: 2250)*
عن سهل بن سعد قال :فطلقها ثلاث تطلیقات عند رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیه وسلم ، فأنفذہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیه وسلم ... الخ۔

*شرح النووي على مسلم: (70/10، ط: دار إحياء التراث العربي)*
«وقد اختلف العلماء فيمن قال لامرأته أنت طالق ثلاثا فقال الشافعي ومالك وأبو حنيفة وأحمد وجماهير العلماء من السلف والخلف يقع الثلاث

*روح المعانی: (البقرۃ، الایة: 230)*
"فإن طلقها‘‘ متعلقا بقوله سبحانه ’’الطلاق مرتان‘‘ .... فَلا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ أي من بعد ذلك التطليق حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجاً غَيْرَهُ أي تتزوّج زوجا غيره، ويجامعها

*الدر المختار: (233/3، ط: دار الفکر)*
وذهب جمهور الصحابة والتابعين ومن بعدهم من أئمة المسلمين إلى أنه يقع ثلاث.

*البحر الرائق: (باب الكنايات في الطلاق، 330/3، ط:دار الكتاب الاسلامي)*
(قوله: وتطلق بلست لي بامرأة أو لست لك بزوج إن نوي طلاقا) ... ودخل في كلامه ما أنت لي بامرأة وما أنا لك بزوج ولا نكاح بيني وبينك... قيد بالنية لأنه لا يقع بدون النية اتفاقا لكونه من الكنايات ولا يخفى أن دلالة الحال تقوم مقامها حيث لم يصلح للرد والشتم ويصلح للجواب فقط وقدمنا أن الصالح للجواب فقط ثلاثة الفاظ ليس هذا منها فلذا شرط النية للإشارة الى أن دلالة الحال هنا لا تكفي.

*الدر المختار مع رد المحتار:(كتاب الطلاق، ‌‌باب الكنايات، مطلب ‌الصريح ‌يلحق ‌الصريح والبائن،306/3،ط:سعيد)*
(الصريح يلحق الصريح و) يلحق (البائن) بشرط العدة (والبائن يلحق الصريح) الصريح ما لا يحتاج إلى نية بائنا كان الواقع به أو رجعيا فتح.... (لا) يلحق البائن (البائن).
(قوله ‌الصريح ‌يلحق ‌الصريح) كما لو قال لها: أنت طالق ثم قال أنت طالق أو طلقها على مال وقع الثاني بحر، فلا فرق في الصريح الثاني بين كون الواقع به رجعيا أو بائنا (قوله ويلحق البائن) كما لو قال لها أنت بائن أو خلعها على مال ثم قال أنت طالق أو هذه طالق بحر عن البزازية. ثم قال: وإذا لحق الصريح البائن كان بائنا لأن البينونة السابقة عليه تمنع الرجعة كما في الخلاصة."

واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Divorce