resize-left-dar mid-dar right-dar
✨ Ask AI

عنوان: ولی کی اجازت کے بغیر عاقلہ بالغہ کے نکاح، وقوعِ طلاق اور عدمِ رجوع کا شرعی حکم

(64692-No)

سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب! میرا ایک سوال ہے اور میں اپنی صورتِ حال کے بارے میں بہت زیادہ پریشان اور الجھن کا شکار ہوں۔
میری عمر 29 سال ہے اور میں مکمل طور پر مالی طور پر خود کفیل ہوں، میری شادی ایک پاکستانی شخص سے ہوئی جو عمر میں مجھ سے بڑے ہیں، ہمارا نکاح ولی کے بغیر ہوا تھا۔ اس وقت ہم دونوں اپنے اپنے آبائی ممالک کے بجائے ایک تیسرے ملک میں تھے، انہوں نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ نکاح کے بعد وہ سول میرج کے قانونی مراحل شروع کریں گے اور آخرکار ہم دونوں ایک ہی ملک میں ساتھ رہیں گے، انہوں نے مجھے اس بات کا یقین دلایا تھا۔
انہوں نے خود نکاح پڑھایا، ایجاب و قبول ہوا اور دو بالغ مسلمان مرد گواہ بھی موجود تھے، انہوں نے مجھے مہر بھی دیا، لیکن جب وہ اپنے ملک واپس گئے تو انہوں نے مجھے بتایا کہ یہ نکاح جعلی تھا، کیونکہ اس میں ولی موجود نہیں تھا، لہٰذا ہم دونوں کو الگ ہوجانا چاہیے۔
اس پر میں نے ان سے کہا کہ اگر ان کے نزدیک نکاح باطل تھا تو میں اسے نکاح ہی سمجھوں گی اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ مجھے طلاق دیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ پاگل پن ہے کیونکہ نکاح ہی باطل تھا، تاہم میرے اصرار پر انہوں نے کہا: "ٹھیک ہے، نکاح باطل ہے، اور اگر تم یہی چاہتی ہو تو تمہیں طلاق ہے۔" یہ بات انہوں نے ویڈیو کال کے دوران کہی، ان کے نزدیک طلاق بھی باطل یا "جعلی" تھی، کیونکہ ان کے بقول نکاح ہی باطل تھا۔
ہمارے نکاح کا اعلان بھی عام طور پر کیا گیا تھا، میں نے اپنے دوستوں کو نکاح کے بارے میں بتایا تھا اور انہوں نے بھی اپنے خاندان کو اس نکاح کے بارے میں بتایا تھا۔
اس کے بعد بھی ہماری بات چیت جاری رہی، انہوں نے مجھ سے کہا کہ وہ مجھ سے ملنا چاہتے ہیں اور ہماری ملاقات کے بارے میں بھی بات ہوئی، انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر میں معذرت کرلوں تو وہ مجھے دوبارہ موقع دینا چاہتے ہیں۔ میں نے ان سے کہا: "ٹھیک ہے، میں طلاق نہیں چاہتی اور چاہتی ہوں کہ آپ مجھے واپس رکھیں، اگر میری کسی بات سے آپ کو تکلیف پہنچی ہو تو مجھے افسوس ہے۔"
تاہم اس کے بعد انہوں نے اپنا ارادہ بدل لیا اور ہماری ملاقات نہ ہوسکی، اب ویڈیو کال کے دوران ان کی طرف سے طلاق کے الفاظ کہے جانے کو تین ماہ گزر چکے ہیں۔
میرا سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا نکاح شرعاً درست تھا اور کیا مذکورہ طلاق واقع ہوئی تھی؟ وہ اب بھی یہی کہتے ہیں کہ نکاح باطل تھا اور طلاق بھی باطل تھی، میں اپنی صورتِ حال کے بارے میں بہت زیادہ الجھن کا شکار ہوں اور مخلصانہ طور پر رہنمائی چاہتی ہوں کہ شرعاً میری موجودہ حیثیت کیا ہے: کیا میں اب بھی ان کی بیوی ہوں، کیا مجھے طلاق ہوچکی ہے یا ہمارا نکاح ابتدا ہی سے باطل تھا؟ جزاکم اللہ خیراً اللہ تعالیٰ آپ کو بہترین بدلہ عطا فرمائے اور جنت الفردوس نصیب فرمائے۔

جواب: پوچھی گئی صورت میں اگر عورت عاقلہ و بالغہ ہو، نکاح دو عاقل و بالغ مسلمان مرد گواہوں کی موجودگی میں ایجاب و قبول کے ذریعے ہوا ہو تو ولی کی اجازت کے بغیر بھی نکاح منعقد اور درست ہو جاتا ہے؛ لہٰذا شوہر کا محض ولی کی عدم موجودگی کی بنیاد پر اسے باطل یا جعلی کہنا شرعاً غلط ہے۔ چنانچہ نکاح کے صحیح ہونے کی صورت میں شوہر کے یہ الفاظ: ’’اگر تم یہی چاہتی ہو تو تمہیں طلاق ہے‘‘(جبکہ عورت پہلے ہی طلاق کا مطالبہ کرکےطلاق چاہ چکی ہے) صریح طلاق کا سبب ہیں اور ان سے ایک طلاقِ رجعی واقع ہو گئی، جس کے بعد رجوع کا اختیار صرف شوہر کے پاس تھا اور بیوی کا خود کہنا کہ ’’مجھے واپس رکھیں‘‘ رجوع شمار نہیں ہوتا۔ اب اگر شوہر کے معتبر رجوع کے بغیر عدت (تین حیض) گزر چکی ہے تو یہ طلاق بائن بن چکی ہے اور نکاح مکمل طور پر ختم ہو گیا ہے، لہٰذا وہ عورت اب اس کے نکاح میں نہیں رہی، البتہ اگر دونوں باہمی رضامندی سے دوبارہ ازدواجی زندگی گزارنا چاہیں تو گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر اور ایجاب و قبول کے ساتھ نئے سرے سے نکاح کرنا لازم ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الدلائل:

و فی مشکوۃ المصابیح: ( ج2 ص 270 باب الولی فی النکاح ط:قدیمی کتب خانہ )
عن ابن عباس ان النبی ﷺ قال الایم احق بنفسھا من ولیھا و البکر تستأذن فی اذنھا و اذنھا صماتھا .

و فی حاشیتھا( ج2 ص270 حاشیۃ )
و قولہ سبحانہ و لا تعضلوھن ان ینکحن ازواجھن فاضاف النکاح الی النساء و نھی عن منعھن منہ و ظاھرہ أن المرأۃ یصح ان ینکح نفسھا و کذا قولہ تعالی فاذا بلغن اجلھن فلا جناح علیکم فیما فعلن فی انفسھن بالمعروف فاباح سبحانہ فعلھا فی نفسھا من غیر شرط الولی الخ .

وفی الشامیة: (3/ 55، کتاب النکاح ، باب الولی، ط: سعید)
(فنفذ نكاح حرة مكلفة بلا) رضا (ولي) والأصل أن كل من تصرف في ماله تصرف في نفسه وما لا فلا.

بدائع الصنائع (2/ 247،کتاب النکاح، فصل: ولایة الندب والاستحباب في النکاح، ط: سعید )
الحرة البالغة العاقلة إذا زوجت نفسها من رجل أو وكلت رجلاً بالتزويج فتزوجها أو زوجها فضولي فأجازت جاز في قول أبي حنيفة وزفر وأبي يوسف الأول سواء زوجت نفسها من كفء أو غير كفء بمهر وافر أو قاصر غير أنها إذا زوجت نفسها من غير كفء فللأولياء حق الاعتراض.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (ج: 3، ص: 345، ط: دار الفكر - بیروت)
) قَوْلُهُ: كَمَا لَوْ عَلَّقَهُ بِكَائِنٍ) كَإِنْ كَانَ السَّمَاءُ فَوْقَنَا فَأَنْتِ طَالِقٌ أَوْ نَحْوِ ذَلِكَ، فَإِنَّهُ تَنْجِيزٌ لِأَنَّ الشَّرْطَ فِيهِ مُتَحَقِّقٌ فِي الْحَالِ فَلَا يَتَأَخَّرُ الْوُقُوعُ عَنْهُ.»

الفتاوى الهندية (ج: 1، ص: 418، ط: دار الفكر – بیروت)
إِذَا عَلَّقَ الطَّلَاقَ بِشَرْطٍ مَوْجُودٍ كَانَ تَنْجِيزًا، حَتَّى لَوْ قَالَ لَهَا: إِنْ كَانَتِ السَّمَاءُ فَوْقَنَا فَأَنْتِ طَالِقٌ، وَقَعَ الطَّلَاقُ لِسَاعَتِهِ.»

والله تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Divorce